جنگ نے روس کو کیا بے حال! روسی سنٹرل بینک نے 22 ٹن سونا کیا فروخت، عالمی بازار میں نئی ہلچل

AhmadJunaidJ&K News urduApril 24, 2026358 Views


یوکرین کے ساتھ جاری جنگ نے روس کی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ ایک طرف سرکاری خرچ تیزی سے بڑھ رہا ہے، وہیں دوسری طرف روبیل پر دباؤ اور مہنگائی نے حالات مشکل بنا دیے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>روسی صدر پوتن، تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>روسی صدر پوتن، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

i

user

یوکرین سے جنگ کے درمیان معاشی دباؤ کس قدر گہرا ہو چکا ہے، اس کا اندازہ روس کے حالیہ اقدام سے لگایا جا سکتا ہے۔ ولادمیر پوتن کی حکومت نے 2026 میں اب تک تقریباً 22 ٹن سونا فروخت کر دیا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے کو سنبھالا جا سکے۔ یوکرین جنگ کے پانچویں سال میں داخل ہونے کے ساتھ دفاعی اخراجات، توانائی سے جڑے اخراجات اور کرنسی پر دباؤ نے معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ حالات کو سنبھالنے کے لیے روس سونا فروخت کر رہا ہے، اور اس فیصلے نے عالمی گولڈ مارکیٹ میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔

بتایا جا رہا ہے کہ روس کے سنٹرل بینک نے 2026 میں اب تک 21.8 ٹن سونا فروخت کیا ہے، جو تقریباً 22,000 کلوگرام کے برابر ہے۔ یہ قدم ایسے وقت میں اٹھایا گیا ہے جب ملک کا بجٹ خسارہ مارچ کے آخر تک 61.2 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے۔ روسی سنٹرل بینک کے مطابق یکم اپریل 2026 تک سونے کے ذخائر 2,304.76 ٹن رہ گئے، جن میں صرف مارچ کے مہینے میں ہی 6.22 ٹن کی کمی درج کی گئی۔

دراصل یوکرین کے ساتھ جاری جنگ نے روس کی معیشت پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔ ایک طرف سرکاری اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، تو دوسری جانب روبیل (روسی کرنسی) پر دباؤ اور مہنگائی نے حالات کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔ اسی دوران گھریلو سطح پر سونے کی طلب میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ماسکو ایکسچینج کے اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں سونے کی تجارت کا حجم سالانہ بنیاد پر 350 فیصد سے زیادہ بڑھ کر 42.6 ٹن تک پہنچ گیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ سونے کی فروخت کے باوجود اس کی مجموعی قدر میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ بین الاقوامی منڈی میں قیمتیں ریکارڈ سطح کے قریب برقرار ہیں۔ جنوری میں قیمتیں 5,500 ڈالر فی اونس سے اوپر پہنچنے کے بعد روس نے 3 لاکھ اونس سونا فروخت کیا، جس سے تقریباً 1.4 سے 1.68 ارب ڈالر حاصل کیے گئے۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ روس اس معاملے میں اکیلا نہیں ہے۔ کئی سنٹرل بینک بڑھتے ہوئے اخراجات، خاص طور پر دفاع اور توانائی کے شعبوں کو پورا کرنے کے لیے سونا فروخت کر رہے ہیں۔ تاہم طویل مدت میں روس نے اپنے سونے کے ذخائر کو مضبوط ہی کیا ہے۔ 2002 سے 2025 کے درمیان اس نے 1,900 ٹن سے زیادہ سونا خریدا تھا، لیکن 2020 کے بعد خریداری کی رفتار کافی سست ہو گئی۔

اس دوران چین کے ساتھ روس کی سونے کی تجارت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ چین کو قیمتی دھاتوں کی برآمدات 2025 کی پہلی ششماہی میں تقریباً دوگنی ہو گئیں۔ ساتھ ہی، گھریلو سطح پر بھی لوگوں نے اپنی بچت کو محفوظ رکھنے کے لیے سونے میں سرمایہ کاری بڑھا دی ہے۔ 2024 میں روسی شہریوں نے ریکارڈ 75.6 ٹن سونا خریدا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...