بنگلہ دیش کے انتخابی آڈٹ میں ہندوستان کے لیے پیغام…سوربھ سین

AhmadJunaidJ&K News urduApril 26, 2026358 Views


ایک ممکنہ تجویز یہ ہو سکتی ہے کہ لوک سبھا کی مجموعی نشستوں میں اضافہ کیا جائے اور اضافی نشستوں کو خواتین کے لیے مختص کیا جائے۔ اس طریقے سے موجودہ حلقہ بندیوں میں بڑی تبدیلی کیے بغیر خواتین کی نمائندگی میں اضافہ ممکن ہو سکتا ہے۔ اسی طرح راجیہ سبھا میں بھی نامزد نشستوں کے ذریعے خواتین کی شمولیت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔

بنگلہ دیش کے تجربے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انتخابی شفافیت اور نمائندگی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے روایتی طریقوں سے ہٹ کر بھی سوچنا ضروری ہے۔ اگرچہ آڈٹ نے نتائج کی سطح پر اعتماد کو تقویت دی ہے، مگر انتخابی عمل کے دیگر پہلوؤں پر مزید توجہ دینے کی ضرورت برقرار ہے۔

آخرکار، کسی بھی جمہوریت کی مضبوطی کا دار و مدار صرف انتخابات کے انعقاد پر نہیں بلکہ ان پر عوام کے اعتماد پر ہوتا ہے۔ اگر یہ اعتماد کمزور پڑ جائے تو بہترین نظام بھی اپنی معنویت کھو دیتا ہے۔ یہی پیغام بنگلہ دیش کے انتخابی آڈٹ سے ابھر کر سامنے آتا ہے—اور یہی ہندوستان کے لیے ایک اہم سبق بھی ہے۔

(مضمون نگار سوربھ سین کولکاتا میں مقیم ایک آزاد صحافی اور تجزیہ نگار ہیں)

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...