کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سکریٹری ڈی راجہ نے تجاوزات ہٹانے کے لیے بلڈوزر کے استعمال کی سخت مذمت کی ہے۔ یہ تجاوزات ہٹاؤ مہم مغربی بنگال کے ہاوڑہ میں چلائی جا رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو اپنے اقتدار کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے آئین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومتوں کو آئین کے مطابق کام کرنا چاہیے اور آئینی اخلاقیات کو برقرار رکھنا چاہیے۔
ڈی راجہ نے بتایا کہ بنگال میں بہت کچھ ہو رہا ہے۔ ہم نے دیکھا ہے انتخاب کے بعد کیسے تشدد ہوا۔ ہم نے دیکھا کہ بلڈوزر کا استعمال کیسے کیا گیا۔ اب انتخاب ختم ہو چکے ہیں۔ ہمیں پسند ہو یا نہ ہو، لوگوں نے اپنا فیصلہ دے دیا ہے۔ اسی کے مطابق حکومت کو کام کرنا ہوگا۔ لیکن بی جے پی کو اپنے اقتدار کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ بنگال میں بی جے پی حکومت جو کچھ بھی کرے وہ آئین کے مطابق ہی ہونا چاہیے اور اس میں آئینی اخلاقیات ضرور ہونی چاہیے۔
دوسری جانب سویندو حکومت نے ممتا بنرجی کی شناخت مانے جانے والے ’وشو بانگلا‘ لوگو کو اب ہٹا دیا ہے۔ اس کی جگہ اب ہندوستان کے قومی نشان ’اشوک استمبھ‘ کو ریاست کی اہم شناخت کے طور پر قائم کیا جا رہا ہے۔ اس کا سب سے بڑا اثر کولکاتہ کے ’سالٹ لیک اسٹیڈیم‘ میں دیکھنے کو ملا، جہاں سے ’وشو بانگلا‘ کا سائن بورڈ ہٹا کر قومی نشان لگا دیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت کا مرکزی پورٹل ’ایگیے بانگلا‘ بھی اب پوری طرح بدل گیا ہے۔ یہاں سے ’وشو بانگلا‘ کا لوگو ہٹا کر ’اشوک استمبھ‘ لگا دیا گیا ہے۔ پورٹل کا پرانا سفید اور نیلا تھیم اب بدل کر زعفرانی رنگ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ سفید اور نیلا رنگ ٹی ایم سی کی پہچان تھی۔ پورٹل پر اب سفید بیک گراؤنڈ کے ساتھ ’اشوک استمبھ‘ اور وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی تصویر دکھائی دیتی ہے۔ اس کے علاوہ سیاحت، صنعت اور زراعت کے محکموں کے آئیکنز بھی زعفرانی گرافکس کے ساتھ دوبارہ ڈیزائن کیے گئے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































