
بشیر بدر کے انتقال کے بعد دنیا بھر سے ادیبوں، محققین، فنکاروں، سیاست دانوں اور مداحوں کی جانب سے خراج عقیدت پیش کیا جا رہا ہے، اور اس لمحے یہ احساس اور گہرا ہو جاتا ہے کہ بشیر بدر صرف رومان کے شاعر نہیں تھے، بلکہ انسانی کمزوریوں اور جذباتی نزاکتوں کے شاعر تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے الفاظ آج بھی زندہ ہیں۔ آج جب اردو کی محبوب ترین آوازوں میں سے ایک خاموش ہو گئی ہے، تو ان ہی کے اشعار ایک عجیب اداسی کے ساتھ یاد آتے ہیں:
محبتوں میں دکھاوے کی دوستی نہ ملا
اگر گلے نہیں ملتا تو ہاتھ بھی نہ ملا






