انڈین آئی ٹی پر امریکی ایچ-1 بی ویزا پالیسی کا شکنجہ…جگدیش رتنانی

AhmadJunaidJ&K News urduSeptember 28, 2025381 Views


ہندوستان کا آئی ٹی سیکٹر تقریباً پانچ دہائی پرانا ہے۔ ٹی سی ایس 1968 میں قائم ہوئی تھی اور ’ملینیم بگ‘ (وائی ٹو کے) کے بحران نے اس صنعت کو عالمی سطح پر نمایاں موقع دیا۔ تین دہائیوں تک یہ صنعت پھلتی پھولتی رہی لیکن اس عرصے میں جدت پسندی یا اختراع کی رفتار سست رہی۔ انڈین کمپنیاں زیادہ تر اکاؤنٹ مینجمنٹ اور سروسز پر اٹکی رہیں، بڑے پیمانے پر نئی ایجاد یا تحقیق میں سرمایہ نہیں لگایا۔

ہندوستان میں نوجوان ٹیلنٹ نے اپنے قیمتی سال اس امید پر اس شعبے میں کھپا دیے کہ ایک دن وہ بھی امریکہ پہنچیں گے۔ اس بیچ آئی ٹی سیکٹر کو ’ہفتے میں 70 گھنٹے کام‘ جیسے بیانات کے سبب کڑی تنقید کا سامنا رہا، جنہیں توہین آمیز سمجھا گیا۔

دنیا میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) انقلاب برپا کر رہی ہے، ہندوستان اور اس کا آئی ٹی سیکٹر مستقبل کے ان نئے مواقع میں پیچھے دکھائی دے رہا ہے۔ ہم نے دوسروں کی اچھی خدمت کی ہے مگر اب لگتا ہے کہ وہ ہمیں نہیں چاہتے اور ہمیں خود بھی معلوم نہیں کہ آگے کا راستہ کیا ہونا چاہیے۔

(مضمون نگار جگدییش رتنانی صحافی اور ایس پی جے آئی ایم آر میں فیکلٹی ہیں۔ یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں۔ بشکریہ دی بلین پریس)

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...