اقوام متحدہ (یونائٹیڈ نیشنز) کی ایک سالانہ رپورٹ، جس میں دنیا بھر کے تنازعات والے علاقوں میں جنسی تشدد کے معاملات کو درج کیا جاتا ہے، میں پہلی بار اسرائیلی سیکورٹی فورسز کو شامل کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں فلسطینی قیدیوں کے ساتھ مبینہ بدسلوکی اور جنسی تشدد کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم اسرائیل نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
35 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں دنیا کے 12 ممالک کے 77 سرکاری اور غیر سرکاری گروپوں کو بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2025 میں ایسے واقعات میں 2024 کے مقابلے نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ یوکرین جنگ کے دوران جنگی قیدیوں اور عام شہریوں کے خلاف جنسی تشدد کے الزامات پر روسی مسلح اور سیکورٹی فورسز کو بھی اس سال پہلی مرتبہ بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔ 2025 کی فہرست میں اسرائیلی مسلح اور سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ حماس کے جنگجوؤں کو بھی شامل کیا گیا ہے، جنہیں 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر حملے کے بعد پہلے ہی بلیک لسٹ کیا جا چکا تھا۔
اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیریس نے گزشتہ سال اپنی رپورٹ میں اسرائیل اور روس دونوں کو خبردار کیا تھا کہ انہیں اس فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اب دونوں ممالک کے سفیروں نے ان کے نام شامل کیے جانے پر شدید ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے گوٹیریس پر سخت تنقید کی ہے۔ اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نیبینزیا نے کہا کہ ’’ہم سکریٹری جنرل کو خط لکھ کر کہیں گے کہ یہ بے بنیاد جھوٹ اور الزامات ہیں، جن کے ذریعے روس کو ایک بار پھر ویلن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جیسا کہ ہمیشہ کیا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روس اب یوکرین کی جانب سے روسی جنگی قیدیوں کے ساتھ کیے گئے سلوک پر اپنی الگ رپورٹ تیار کر رہا ہے۔
اس درمیان اقوام متحدہ میں اسرائیل کے سفیر ڈینی ڈینن نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ’’ہم اس اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے تنگ آ چکے ہیں۔ گوٹیریس نے اسرائیل کو حماس، داعش اور دنیا کی بدنام ترین دہشت گرد تنظیموں کے برابر لا کھڑا کیا ہے۔‘‘ ڈینن کے مطابق اسرائیل نے رپورٹ میں لگائے گئے الزامات کے حوالے سے دستاویزات، اعداد و شمار اور تفصیلی جوابات فراہم کیے ہیں۔
ایسوسی ایٹیڈ پریس (اے پی) کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2025 کے دوران اقوام متحدہ اسرائیل اور مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں حراست میں لیے گئے فلسطینیوں کے خلاف جنسی تشدد کے ایک منظم رجحان کو دستاویزی شکل دینے میں کامیاب رہا۔ رپورٹ کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے میں 14 مردوں، 7 خواتین، 9 لڑکوں اور ایک لڑکی کے خلاف جنسی تشدد کے واقعات کی تصدیق کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان میں سے 13 واقعات 2025 میں جبکہ 18 واقعات 2023 اور 2024 کے دوران پیش آئے۔ ان جرائم میں مبینہ طور پر عصمت دری، اجتماعی زیادتی، زیادتی کی کوشش اور جسمانی تشدد جیسے سنگین معاملات شامل ہیں۔ رپورٹ میں کم از کم 9 متاثرین کا ذکر کیا گیا ہے، جن میں اکثریت غزہ سے تعلق رکھنے والوں کی تھی۔ الزام ہے کہ ان کے ساتھ اسرائیلی فوج، جیل سروس، خصوصی فورسز اور پولیس یونٹس کے اہلکاروں نے زیادتی یا اجتماعی زیادتی کی۔
دوسری جانب اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے جمعرات کو کہا کہ اس نے ان تمام الزامات کی ’واضح، مکمل اور مضبوط انداز میں تردید‘ کی ہے۔ وزارت خارجہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ ’’یہ فیصلہ اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی طویل عرصے سے جاری ادارہ جاتی دشمنی کی ایک اور مثال ہے۔‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔






































