آبنائے ہرمز، خلیج عمان اور آس پاس کے سمندری راستوں پر امریکہ کی ناکہ بندی نے ایران کی کمر توڑ دی ہے۔ امریکی بحریہ نے ایران کے تیل کی برآمدات کے نیٹورک کو مکمل طور پر منقطع کر دیا ہے۔ چین جیسے بڑے خریداروں تک ایرانی تیل پہنچانا ناممکن ہو گیا۔ ایسے میں ایران کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
واضح رہے کہ امریکہ ناکہ بندی کے ذریعہ ایران کی سمندری تجارت اور توانائی کی برآمدات کو روکنا چاہتا تھا اور وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتا بھی نظر آ رہا ہے۔ ’ایکسیوس‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق پنٹاگن نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کو تیل کی آمدنی میں تقریباً 4.8 ارب ڈالر کا بھاری نقصان ہوا ہے۔
پنٹاگن کے محکمہ جنگ کے تخمینے کے مطابق ’امریکی انفورسمنٹ آپریشنز‘ کی وجہ سے ایران کو تقریباً 5 ارب ڈالر کی آمدنی سے محروم ہونا پڑا ہے۔ پنٹاگن کے چیف ترجمان سین پارنیل نے قائم مقام پریس سکریٹری جوئل والڈیز کے حوالے سے بتایا کہ یہ آپریشن تہران پر مسلسل معاشی دباؤ برقرار رکھنے کے لیے ہے۔ والڈیز نے کہا کہ ’’آبنائے ہرمز میں امریکہ کی ناکہ بندی پوری قوت کے ساتھ جاری ہے اور فیصلہ کن اثرات مرتب کر رہی ہے۔‘‘ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے دعویٰ کیا کہ پوری عالمی برادری اب ایران کے خلاف ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آبنائے ہرمز پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے۔
قابل ذکر ہے کہ 28 فروری سے شروع ہونے والی ایران اور امریکہ-اسرائیل کے اس جنگ میں اب تک ہزاروں افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایران میں 3375 سے زائد اور لبنان میں 2600 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل میں 24 اور خلیجی ممالک میں 20 سے زائد اموات ہوئی ہیں۔ لبنان میں 17 اسرائیلی فوجی اور پورے خطے میں 13 امریکی فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔




































