
پرینکا گاندھی نے بی جے پی کی جانب سے اپوزیشن کو خواتین مخالف قرار دینے کی سخت تنقید کی۔ (فوٹو بہ شکریہ : ایکس/ آئی این سی انڈیا)
نئی دہلی: کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے سنیچر (18 اپریل) کو ایک پریس کانفرنس میں آئینی ترمیمی بل کے تناظر میں کہا کہ کل (17 اپریل) جو ہوا وہ جمہوریت کی بہت بڑی جیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی جمہوریت کو کمزور کرنے کی سازش تھی ، اس کو روک دیا گیا۔
میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے پرینکا گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت نے جمہوریت کو کمزور کرنے اور وفاقی ڈھانچے کو بدلنے کی سازش کی تھی، جسے ہم نے شکست دی۔
انہوں نے کہا،’یہ آئین کی جیت ہے، ملک کی جیت ہے، اپوزیشن کے اتحاد کی جیت ہے، جو اقتدار میں بیٹھے رہنماؤں کے چہروں پر صاف نظر آ رہی تھی۔ ‘
کانگریس رکن پارلیامنٹ نے مزید کہا کہ یہ صرف خواتین ریزرویشن بل کی بات نہیں تھی۔یہ بات حد بندی سے جڑی ہوئی تھی۔ مودی حکومت حد بندی اس بنیاد پر کرنا چاہتی تھی جس میں اسے ذات پر مبنی مردم شماری کے اعداد و شمار دیکھنے کی ضرورت نہ ہو اور اسے من مانی کرنے کی پوری آزادی ہو۔ ایسے میں اپوزیشن کے لیے حکومت کا ساتھ دینا ممکن ہی نہیں تھا۔ پورے ملک نے دیکھ لیا ہے کہ جب اپوزیشن متحد ہوتی ہے تو مودی حکومت کو کیسے شکست دی جا سکتی ہے۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ مودی حکومت نے خواتین ریزرویشن قانون پر تین سال تک کچھ نہیں کیا اور ابھی دو دن پہلے ہی ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ ہم پوری مضبوطی کے ساتھ خواتین ریزرویشن کے حق میں کھڑے ہیں۔ پورا اپوزیشن اس بات پر متفق ہے کہ پہلے والا خواتین ریزرویشن بل نافذ ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت کو پہلی بار دھچکا لگا ہے اور یہ ضروری تھا۔
LIVE: Special Congress Party Briefing by Smt. @priyankagandhi at AICC Office, New Delhi. https://t.co/gIRgkblFC9
— Congress (@INCIndia) April 18, 2026
ان کے مطابق، ’مودی حکومت کو پہلی بار دھچکا لگا ہے، اسی لیے وہ اسے ’بلیک ڈے‘کہہ رہی ہے۔ یہ دھچکا لگنا بہت ضروری تھا۔ آج خواتین کی جدوجہد بہت بڑھ چکی ہے۔ وہ حکومت کی پی آر اور میڈیا بازی کو دیکھ اور سمجھ رہی ہیں، اس لیے اب یہ سب نہیں چلے گا۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت نے سوچا ،بل پاس ہو جائے گا تو ان کی جیت ہوتی، اور اگر نہیں ہواتو ہر اپوزیشن لیڈر کو خواتین مخالف ثابت کر کے خواتین کا مسیحا بن جائیں گے۔
کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ کل وزیر داخلہ اور وزیر اعظم نے اپنے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ اگر اپوزیشن اس معاملے پر متفق نہیں ہوگی تو نہ وہ کبھی انتخابات جیت پائے گی اور نہ ہی اقتدار میں آ سکے گی۔ ان باتوں سے ہی واضح ہو گیا کہ حکومت کی منشا کیا تھی۔
انہوں نے مزید کہا،’میرا ماننا ہے کہ حکومت کی طرف سے جو سازش رچی گئی، اس کا مقصد اقتدار حاصل کرنا تھا، اور اس کے لیے خواتین کا استعمال کیا گیا۔‘
غور طلب ہے کہ جمعہ کو لوک سبھا کی توسیع اور وسیع پیمانے پر حد بندی کی راہ ہموار کرنے والا آئینی بل 2026 لوک سبھا میں منظور نہیں ہو سکا۔ حکومت اس بل کو منظور کرانے کے لیے ضروری آئینی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔
لوک سبھا میں موجود 528 اراکین میں سے 298 نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 230 نے اس کی مخالفت کی۔
حکومت نے اس حد بندی تجویز کو خواتین ریزرویشن سے جوڑتے ہوئے ملک کے انتخابی ڈھانچے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کی کوشش کی تھی۔ چونکہ یہ تبدیلی انتخابی نظام کی بنیادی ساخت کو متاثر کرتی ہے، چنانچہ اس کے لیے آئین کے آرٹیکل 368 کے تحت ترمیم ضروری تھی۔
اس عمل کے تحت پارلیامنٹ کے دونوں ایوانوں میں ’ڈبل لاک‘ اکثریت ضروری ہوتی ہے، یعنی کل اراکین کی سادہ اکثریت کے ساتھ ساتھ موجود اور ووٹ دینے والے اراکین کی دو تہائی حمایت۔
لوک سبھا میں حکمراں اتحاد کے پاس حکومت بنانے کے لیے ضروری اکثریت تو ہے، لیکن وہ ایوان میں مطلوبہ دو تہائی اکثریت سے کافی پیچھے رہ گیا۔






