جوتا پھینکا دہلی میں، گونج سنائی دی بہار میں

AhmadJunaidJ&K News urduOctober 12, 2025370 Views


وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے مختصر سا بیان جاری کر کے واقعے کو ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا، جبکہ مایاوتی نے بھی ہلکے انداز میں وکیل کے عمل کو ’غیر مہذب‘ قرار دیا۔ دوسری طرف، بہار کانگریس کے صدر راجیش رام ایک پریس کانفرنس میں جذباتی ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا، ’’اگر ملک کا چیف جسٹس بھی محفوظ نہیں تو ایک عام دلت کیسے محفوظ رہ سکتا ہے؟‘‘

کانگریس نے دہلی میں اپنے وکلا ونگ کو متحرک کیا ہے تاکہ اس معاملے کے قانونی پہلو پر قدم اٹھایا جا سکے۔ ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی نے ایک مشترکہ بیان میں اسے ’سماجی انصاف کے اصولوں کی توہین‘ اور ’آئین کے خلاف جرم‘ قرار دیا۔ انہوں نے اتر پردیش میں ایک دلت نوجوان کی پٹائی سے موت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ واقعات صرف افراد کے خلاف نہیں بلکہ سماجی ضمیر کے خلاف حملے ہیں۔

انتخابی ماحول میں جب ذات پات کے جذبات پہلے ہی بھڑکے ہوئے ہوں، ایسے میں چیف جسٹس پر جوتا پھینکنے کا واقعہ بی جے پی کے لیے 2015 جیسے بحران کو دہرا سکتا ہے۔ بہار میں اس جوتے کی گونج ابھی ختم نہیں ہوئی، بلکہ یہ نیا انتخابی نعرہ بنتی جا رہی ہے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...