
گاندھی جی نے اپنی جدوجہد کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ طاقت کے بجائے اخلاقی جرات زیادہ مؤثر ہتھیار ہے۔ موجودہ دور میں جب دنیا دہشت گردی، نفرت اور جنگ کے سائے میں لرزاں ہے، ان کا پیغام پہلے سے کہیں زیادہ رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
اصل طاقت بندوق یا بارود میں نہیں بلکہ اخلاق، برداشت، محبت اور انصاف میں ہے۔ اگر ہم واقعی باپو کو خراجِ عقیدت پیش کرنا چاہتے ہیں تو ان کی تصاویر پر پھول چڑھانے یا رسمی کلمات کہنے سے آگے بڑھنا ہوگا۔ ہمیں ایک ایسا ہندوستان اور ایک ایسی دنیا تعمیر کرنی ہے جہاں انسانیت، مساوات، خوش حالی اور امن کو مقدم رکھا جائے۔ یہی گاندھی جی کی اصل وراثت ہے۔
مہاتما گاندھی کی زندگی ایک عہد کی داستان ہے۔ وہ نہ صرف ہندوستان کے بلکہ پوری انسانیت کے رہنما تھے۔ ان کی جدوجہد اس حقیقت کی دلیل ہے کہ سچائی اور عدمِ تشدد کے راستے پر چل کر بھی بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ آئیے، گاندھی جینتی کے موقع پر ہم یہ عہد کریں کہ گاندھی جی کے پیغام کو محض تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنی عملی زندگی اور قومی کردار کا حصہ بنائیں۔ یہی مہاتما گاندھی کے ساتھ حقیقی وفاداری اور خراجِ عقیدت ہوگا۔





