
عربی زبان میں ’دین‘ ایک نہایت وسیع اور گہرا لفظ ہے۔ اس کے اندر صرف عبادت یا چند مذہبی رسومات شامل نہیں بلکہ مکمل نظامِ حیات کا تصور موجود ہے۔ دین کے مفہوم میں قانون، اطاعت، انصاف، جواب دہی، اخلاق، معاشرت، معیشت اور روحانیت سب شامل ہیں۔ اسی لیے عربی میں “یوم الدین” حساب اور جزا کے دن کو کہتے ہیں۔ گویا دین انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ زندگی بے مقصد نہیں بلکہ ایک ذمہ دارانہ امتحان ہے۔
’مذہب‘ عربی مادہ ’ذَهَبَ‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ’راستہ اختیار کرنا‘۔ اس اعتبار سے مذہب دراصل وہ راستہ ہے جس کے ذریعے انسان اپنے خالق تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ سنسکرت میں ’دھرم‘ کا لفظ ’دھر‘ سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں ’سنبھالنا‘، ’قائم رکھنا‘ یا ’تھامنا‘۔ ہندوستانی فلسفے میں دھرم اس اصول کو کہتے ہیں جو کائنات، معاشرے اور انسان کو توازن میں رکھتا ہے۔ لاطینی زبان میں Religion کی جڑ ’Religare‘ ہے، جس کا مطلب ہے ’جوڑنا‘ یا ’باندھ دینا‘۔ یعنی انسان کو کسی اعلیٰ حقیقت سے جوڑ دینا۔ چین میں ’تاؤ‘ کا تصور کائنات کے فطری راستے اور نظم کی علامت ہے، جبکہ یونانی فلسفے میں ’لوگوس‘ عقلِ کائنات اور آفاقی نظم کے معنی میں استعمال ہوا۔






