
آج جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں تو ہر طرف سے تعزیت اور غم کے پیغام آرہے ہیں۔ سعودی ذرائع ابلاغ نے انہیں “علم من أعلام الدین” کہا اور اعتراف کیا کہ ان کی جدوجہد نے ایک ایسی فکری اور علمی بنیاد رکھی ہے جس سے آنے والی نسلیں بھی روشنی حاصل کرتی رہیں گی۔
ان کا رخصت ہونا بظاہر ایک خلا ہے، مگر درحقیقت یہ امت کے لیے ایک نصیحت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ابدی نہیں بنایا۔ ہر عالم، ہر رہنما اور ہر قائد کو ایک دن جانا ہے، لیکن ان کا چھوڑا ہوا علمی ورثہ ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ شیخ عبدالعزیز آل شیخ نے جو ورثہ چھوڑا ہے وہ کتابوں اور فتاویٰ کی شکل میں بھی ہے، اور ان کی خطبات اور نصیحتوں کی صورت میں بھی۔
بلاشبہ وہ ایک ستارہ تھے جو نصف صدی سے زیادہ امت کے آسمان پر چمکتا رہا، آج وہ غروب ہوگئے، مگر ان کی روشنی آنے والے زمانوں میں بھی امت کی رہنمائی کرتی رہے گی۔





