
اردو کی زبوں حالی پر ان کے یہ اشعار ان کا کرب بیان کرتے ہیں:
کہہ لینا شعر پہلے کسی سے یہ پوچھ لو
اردو میں چھپ رہے ہیں رسالے کہاں کہاں
کوئی غم خوار نہ مونس نہ ٹھکانہ اپنا
مختصر یہ کہ ہے اردو کا فسانہ اپنا
مختصر بحر میں ان کی ایک غزل بہت مقبول ہوئی تھی:
ضبط آہ و فغاں
کوشش رائگاں
وجہ تسکین جاں
جلوہ مہ و شاں
اک نظر کا زیاں
بن گئی داستاں
آ گہی کا سفر
کہکشاں کہکشاں
حوصلوں کی نمو
بے کراں بے کراں
علی عباس امید کے کچھ اشعار تو بہت مقبول ہوئے:
اندھیری راتوں میں اکثر مجھے یہ فکر ہوئی
نکل کے شہر سے سورج کدھر گیا ہوگا
کھڑکیاں ہی کھول لیں گر بند دروازہ رہے
آتے جاتے موسموں کا کچھ تو اندازہ رہے
میری آنکھوں میں ہے شیشہ اور پتھر ہاتھ میں
یہ صدی میری اور اس کا نمائندہ ہوں میں
سیاہ رات کے آنگن میں یہ سوچتا ہوں میں
نکل کے شہر سے سورج کا کیا بنا ہوگا
یہ روز و شب کی سعوبت سزا سہی امید
ہے جس گنہ کی سزا اس کا ارتکاب تو ہو






