
اس تجویز پر غور کے لیے جی7 ممالک کے وزرائے خزانہ آج ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ملاقات کریں گے۔ امریکی وزارتِ خزانہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’’ہندوستان اور چین کی جانب سے روسی تیل کی خریداری براہِ راست ولادیمیر پوتن کی جنگی مشین کو تقویت دے رہی ہے اور یوکرین میں تباہی کو طول دے رہی ہے۔‘‘ ترجمان کے مطابق جیسے ہی جنگ ختم ہوگی، یہ ٹیرف خود بخود ختم کر دیے جائیں گے۔
امریکہ اس اقدام کو اپنی پالیسی ’پیِس اینڈ پراسپیرٹی ایڈمنسٹریشن‘ کا حصہ قرار دے رہا ہے، جس کے تحت روس کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس سے قبل ٹرمپ نے یورپی یونین کو بھی یہی مشورہ دیا تھا کہ وہ ہندوستان اور چین پر روسی تیل کی خریداری کے معاملے میں سختی کرے اور 100 فیصد تک ٹیرف لگائے۔






