
احتجاج کے دوران ماحول کئی بار کشیدہ ہو گیا۔ پولیس نے طلبہ کو سمجھانے اور سڑک جام نہ کرنے کی اپیل کی، مگر طلبہ اپنے مطالبات پر ڈٹے رہے۔ اس دوران مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان سخت نوک جھونک بھی ہوئی اور کئی موقعوں پر جھڑپ جیسی صورتحال بن گئی۔
امیدواروں نے الزام لگایا کہ امتحان منسوخ کرنے کے پیچھے پیپر لیک اور دھوکہ دہی کے کچھ واقعات ہیں، جن میں ملوث افراد کی تعداد بہت محدود ہے۔ مگر اس کے باوجود سزا ہر اس طالب علم کو دی جا رہی ہے، جس نے پوری محنت اور ایمانداری کے ساتھ امتحان دیا تھا۔ ایک امیدوار نے سوال کیا، ’’ہم جیسے محنتی طلبہ کو کیوں سزا مل رہی ہے؟ حکومت کو ہمیں جواب دینا ہوگا۔‘‘






