لازوال نغمہ نگار شیلندر، جنہوں نے زندگی کے ہر رنگ کو لفظوں میں ڈھالا…یومِ پیدائش کے موقع پر

AhmadJunaidJ&K News urduAugust 30, 2025398 Views


1950 اور 1960 کی دہائی شیلندر کے عروج کا زمانہ تھا۔ ان کے الفاظ میں زندگی کے ہر پہلو کی جھلک ملتی ہے۔ چاہے رومانوی نغمے ہوں یا سماجی شعور بیدار کرنے والے، ہر نغمہ سامعین کے دل کو چھو جاتا تھا۔ فلمیں آوارہ، آہ، شری 420، چوری چوری، اناڑی، جس دیش میں گنگا بہتی ہے، سنگم، تیسری قسم، اراؤنڈ دی ورلڈ، دیوانہ، سپنوں کا سوداگر اور میرا نام جوکر انہی کی تخلیقات سے جڑی ہوئی ہیں۔

ان کے الفاظ سادہ مگر اثر دار ہوتے تھے۔ مثال کے طور پر غربت، محبت، خواب یا جدوجہد—ہر موضوع کو وہ آسان مگر گہرے انداز میں بیان کرتے تھے۔ یہی خوبی انہیں دوسرے نغمہ نگاروں سے ممتاز بناتی ہے۔

شیلندر صرف فلمی نغمہ نگار نہیں تھے بلکہ وہ انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن (اپٹا) کے بانیوں میں سے بھی تھے۔ انہوں نے اپنے قلم کو عوامی مسائل کی ترجمانی کے لئے استعمال کیا۔ یہ جذبہ ہی تھا کہ ان کے فلمی نغمے بھی عام لوگوں کی زندگیوں سے جڑے ہوئے محسوس ہوتے تھے۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...