
ڈبلیو ایچ او کی نمائندہ ڈاکٹر این انسیا نے برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جتنا زیادہ اس وبا کی تحقیقات کی جا رہی ہیں، اتنا ہی واضح ہو رہا ہے کہ انفیکشن کئی دوسرے علاقوں تک پہنچ چکا ہے۔ ان کے مطابق ایبولا صرف اتوری صوبے تک محدود نہیں رہا بلکہ سرحدی علاقوں اور دوسرے صوبوں میں بھی اس کے پھیلنے کے شواہد مل رہے ہیں۔
لندن کے ایم آر سی سینٹر فار گلوبل انفیکشس ڈیزیز اینالیسس کی جانب سے جاری ایک تازہ ماڈلنگ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایبولا کے اصل معاملات سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس بات کو خارج نہیں کیا جا سکتا کہ متاثرہ افراد کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہو۔ ماہرین نے کہا کہ وبا کی حقیقی شدت اب بھی غیر یقینی ہے۔






