
راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ ’’یہ محض لاپرواہی نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے، جس کے تحت ہزاروں اہل امیدواروں کو ’ناٹ فاؤنڈ سوٹیبل’ یعنی موزوں نہ پائے جانے کے بہانے رد کیا جا رہا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ ان امیدواروں کے پاس مطلوبہ تعلیمی قابلیت اور تجربہ موجود ہونے کے باوجود انہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب اعلیٰ تعلیمی اداروں میں محروم طبقات کی مناسب نمائندگی موجود نہیں ہوگی تو ان کی معاشرتی، تعلیمی اور اقتصادی مشکلات بھی تحقیق اور پالیسی سازی کے دائرے سے باہر رہیں گی۔ ان کے مسائل پر نہ تو تحقیق ہوگی، نہ کوئی تعلیمی مکالمہ ممکن ہوگا اور نہ ہی ان کی آواز پالیسی سازی میں سنائی دے گی۔






