
شکتی سنگھ گوہل نے کہا کہ ’’کام کرنے والے دو نوجوان، جو وزیر کے رشتہ دار ہیں، صرف 10 ہزار کی تنخواہ پر کام کر رہے ہیں، لیکن مہنگی گاڑیوں میں گھومتے اور کروڑوں کے بنگلوں میں رہتے ہیں۔‘‘
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ جہاں لاکھوں روپے کا مٹیریل سپلائی کیا گیا، وہاں جی ایس ٹی جمع نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ راج کنسٹرکشن نامی کمپنی، جو وزیر کے بیٹے کی ملکیت ہے، نے جی ایس ٹی نمبر تو لیا، لیکن ادائیگی نہیں کی گئی۔ فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ کے بعد رٹھوا رمیش بھائی اور پٹیل راجیش کمار کو نوٹس جاری کیے گئے، لیکن اب تک کوئی عملی کارروائی نہیں ہوئی۔
آخر میں گوہل نے مطالبہ کیا کہ وزیر بچو بھائی کھابڑ کو فوری طور پر کابینہ سے نکالا جائے اور پل حادثے سے جڑے تمام معاملات کی آزادانہ عدالتی جانچ کرائی جائے تاکہ متاثرین کو انصاف مل سکے۔






