جمہوریت، پونجی اور اقتدار کی نجکاری… شیلندر چوہان

AhmadJunaidJ&K News urduJune 16, 2026366 Views


جمہوریت کا مستقبل صرف تنظیمی اصلاحات سے محفوظ نہیں ہوگا۔ اس کے لیے سماجی مساوات، عوامی اخلاقیات، معاشی انصاف اور شہری شعور کو از سر نو قائم کرنا ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونائڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)</p></div><div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونائڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)</p></div>

i

user
google_preferred_badge

امریکی سیاست میں ڈونالڈ ٹرمپ کا عروج محض ایک فرد کے اقتدار میں آنے کا واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ سرمایہ، قوم پرستی، کارپوریٹ مفادات اور عوامی بے چینی کے ایک پیچیدہ اتحاد کا نتیجہ تھا۔ ٹرمپ نے خود کو ’اینٹی اسٹیبلشمنٹ‘ لیڈر کے طور پر پیش کیا، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد ان کی پالیسیوں اور فیصلوں نے بار بار یہ اشارہ دیا کہ وہ ریاست کو ایک عوامی ادارہ نہیں بلکہ ذاتی تجارتی سلطنت کی طرح چلانا چاہتے ہیں۔

حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹ ’دی پرائس آف کرپشن: ہاؤ ٹرمپس پے ٹو پلے ایڈمنسٹریشن اِز ڈرائیونگ اَپ کوسٹس فار ورکنگ فیملیز‘ اسی رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ رپورٹ محض ذاتی بدعنوانی کی فہرست نہیں ہے، بلکہ اس وسیع سیاسی معیشت کی دستاویز ہے جس میں جمہوری ادارے رفتہ رفتہ کارپوریٹ مفادات اور ذاتی فائدے کے اوزار میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں۔

رپورٹ کا سب سے سنگین ریزلٹ یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیاں صرف سیاسی جانبداری تک محدود نہیں رہیں، بلکہ انہوں نے عام امریکی شہریوں کی جیب پر براہِ راست معاشی بوجھ ڈالا۔ ’ٹرمپ آر ایکس‘ جیسی اسکیموں کو عوام کے لیے سستی دواؤں کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا، لیکن حقیقت یہ بتاتی ہے کہ یہ پلیٹ فارم بڑی دوا ساز کمپنیوں کے مفادات کو آگے بڑھانے کے ذرائع بن گئے۔ دوا کی منڈی میں پہلے سے موجود سستی جنرک دواؤں کی معلومات کو چھپانا صرف صارف کو گمراہ کرنا نہیں بلکہ بازار کو کنٹرول کرنے کی حکمتِ عملی بھی ہے۔

یہاں ایک گہرا تضاد نظر آتا ہے۔ جس لیڈر نے انتخابی مہم میں ’بدعنوان واشنگٹن‘ اور ’کارپوریٹ لوٹ‘ کے خلاف عوام کو ابھارا تھا، وہی اقتدار میں آنے کے بعد کارپوریٹ گروپوں اور اپنے خاندانی نیٹورک کے لیے ریاستی ڈھانچوں کا استعمال کرتا دکھائی دیتا ہے۔ یہ جدید سرمایہ دارانہ جمہوریت کی اس بیماری کی علامت ہے جس میں سیاست اور پرائیویٹ تجارت کے درمیان کی سرحدیں مٹتی جا رہی ہیں۔ ٹیرف پالیسی اس کی دوسری مثال ہے۔ عام طور پر درآمدگی محصولات کو قومی معاشی حکمت عملی کے حصہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن ٹرمپ کے دور میں یہ کئی بار ذاتی سیاسی اور تجارتی سودوں کا ذریعہ معلوم ہوا۔ سوئٹزرلینڈ کے ساتھ ٹیرف میں نرمی اور اس کے فوراً بعد مہنگے تحائف کا تبادلہ اس بات کا اشارہ دیتا ہے کہ معاشی پالیسیاں ادارہ جاتی بصیرت سے نہیں بلکہ ذاتی تعلقات سے چلائی جا رہی تھیں۔

برازیل پر عائد کیے گئے ٹیرف اور وہاں کی دائیں بازو کی قیادت کے لیے کھلی حمایت یہ ظاہر کرتی ہے کہ ٹرمپ عالمی دائیں بازو کی سیاست کو ایک نظریاتی اتحاد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ اس کا معاشی نتیجہ امریکی صارفین نے بھگتا، جب کافی جیسی روزمرہ کی اشیا کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ یہاں جمہوریت اور بازار دونوں ہی سیاسی انتقام کے اوزار بنتے دکھائی دیتے ہیں۔

رپورٹ میں مذکور معافی کی سیاست بھی امریکی جمہوریت کے اخلاقی بحران کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ سرمایہ، سیاسی وفاداری اور قانونی تحفظ کے درمیان جو تعلق ابھرتا ہے، وہ کسی جدید جمہوری ریپبلک کے بجائے جاگیردارانہ ڈھانچے جیسا محسوس ہوتا ہے۔ اگر ایک دولت مند تاجر چندہ دے کر سزا سے نجات حاصل کر سکتا ہے تو قانون کی برابری کا اصول بے معنی ہو جاتا ہے۔

کرپٹو کرنسی اور آن لائن پیش گوئی کی منڈیوں سے متعلق معاملات میں یہ رجحان مزید واضح ہو جاتا ہے۔ ضابطہ ساز اداروں کا کام بازار کو منظم کرنا اور عوامی مفاد کا تحفظ کرنا ہوتا ہے، لیکن جب یہی ادارے اقتدار سے وابستہ تجارتی مفادات کے محافظ بن جائیں تو ریاست کا کردار بدلنے لگتا ہے۔ یہ ’ریگولیٹری کیپچر‘ کی انتہا ہے، جس میں ضابطہ نافذ کرنے والا ادارہ خود کارپوریٹ مفادات کے زیر اثر آ جاتا ہے۔ ٹرمپ ماڈل کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ بدعنوانی کو چھپاتا نہیں بلکہ اسے جارحانہ سیاسی انداز میں معمول بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ روایتی بدعنوانی سے مختلف ہے۔ پہلے اقتدار اپنے غیر اخلاقی اتحادوں کو پردے کے پیچھے رکھتا تھا، اب انہیں ’قوم پرستی‘، ’تجارتی کارکردگی‘ اور ’اینٹی ایلیٹ سیاست‘ کے نام پر جائز قرار دیا جاتا ہے۔ اسی لیے یہ سوال صرف امریکہ تک محدود نہیں ہے۔ دنیا بھر میں ابھرتی دائیں بازو کی عوام پسند سیاست میں یہی نمونہ نظر آتا ہے… یعنی جمہوری مینڈیٹ کا استعمال کر کے ریاست کو ذاتی سرمایہ اور خاندانی اقتدار کے نیٹورک میں بدل دینا۔ اس میں عوام کو ثقافتی قوم پرستی، شناخت کی سیاست اور خوف پر مبنی بیانیوں میں الجھا کر معاشی سوالات سے دور رکھا جاتا ہے۔

گزشتہ 3 دہائیوں میں نوآزاد خیال عالمگیریت نے دنیا کی سیاست کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ ریاست کے کردار کو مسلسل محدود کیا گیا، عوامی اداروں کی نجکاری ہوئی اور بازار کو اعلیٰ ترین قدر کے طور پر قائم کیا گیا۔ نتیجتاً جمہوریت کی اخلاقی بنیاد کمزور پڑنے لگی۔ سیاست اب شہریوں کے حقوق کے تحفظ کا ذریعہ کم اور سرمایہ کاری، منافع اور کارپوریٹ استحکام کی ضمانت دینے والا نظام زیادہ بنتی گئی۔ یہ تبدیلی صرف معاشی نہیں تھی۔ اس کے گہرے سماجی اور ثقافتی اثرات بھی مرتب ہوئے۔ محنت کشوں کا عدم تحفظ بڑھا، متوسط طبقہ کا استحکام ٹوٹا اور معاشرے میں وسیع پیمانے پر بے چینی پیدا ہوئی۔ اسی بے چینی کو دائیں بازو کے عوام پسند لیڈران نے قوم پرستی، نسلی برتری، مذہبی شناخت اور تارکین وطن مخالف سیاست میں تبدیل کر دیا۔ عوام کے حقیقی معاشی مسائل کو ثقافتی تنازعات میں ڈھال دیا گیا۔

یورپ میں وکٹر اوربان، جارجیا میلونی اور میرین لے پین جیسی سیاسی دھارائیں ہوں یا لاطینی امریکہ میں بولسونارو کی سیاست، ہر جگہ ایک جیسا نمونہ دکھائی دیتا ہے۔ جمہوریت کی زبان برقرار رہتی ہے، انتخابات ہوتے رہتے ہیں، لیکن اداروں کی خود مختاری بتدریج ختم ہوتی جاتی ہے۔ عدلیہ، میڈیا، یونیورسٹیز اور ثقافتی ادارے اقتدار کے دباؤ میں آنے لگتے ہیں۔ درحقیقت جدید سرمایہ داری کا بحران یہ ہے کہ وہ جمہوریت کو صرف اسی حد تک قبول کرتی ہے جہاں تک وہ منافع کے ڈھانچے کو چیلنج نہ کرے۔ جیسے ہی سماجی انصاف، مزدوروں کے حقوق، عوامی صحت یا وسائل کی مساوی تقسیم کے مطالبات شدت اختیار کرتے ہیں، سرمایہ داری جمہوریت کے اندر ہی ایسے سیاسی متبادلوں کو فروغ دیتی ہے جو عوامی ناراضگی کو دوسری سمتوں میں موڑ سکیں۔

جنگ اور فوجی صنعت کا سوال بھی اسی سے جڑا ہوا ہے۔ آج عالمی سیاست میں اسلحہ سازی کی صنعت اور کارپوریٹ سرمایہ کا اثر بے مثال ہے۔ جنگیں اب صرف جغرافیائی سیاسی تنازعات نہیں بلکہ معاشی مواقع بھی بن چکی ہیں۔ یوکرین کی جنگ ہو یا مغربی ایشیا کے تنازعات، ان سے سب سے زیادہ فائدہ اسلحہ ساز کمپنیوں، توانائی کارپوریشنوں اور مالیاتی اداروں کو ہوتا ہے۔ قوم پرستی اور سلامتی کے نام پر عوام سے قربانی مانگی جاتی ہے، جبکہ منافع نجی کمپنیوں کے کھاتوں میں جاتا ہے۔ یہاں میڈیا کا کردار بھی اہم ہے۔ کارپوریٹ میڈیا جمہوریت کا نگہبان کم اور اقتدار و سرمایہ کے اتحاد کا منتظم زیادہ بنتا جا رہا ہے۔ اطلاعات اب عوامی شعور کا ذریعہ نہیں بلکہ سیاسی صارفیت کی شے بن گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم الگورتھم کے ذریعے خوف، نفرت اور اشتعال کو بڑھاتے ہیں کیونکہ یہی زیادہ منافع پیدا کرتے ہیں۔ اس طرح جمہوری مکالمہ آہستہ آہستہ بازار کی منطق کے تابع ہوتا جا رہا ہے۔

تکنیکی سرمایہ داری نے اس بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ آج گوگل، میٹا، امیزون، ایکس اور دیگر ڈیجیٹل کمپنیاں محض تجارتی ادارے نہیں رہیں۔ وہ شہری زندگی، اطلاعات کے بہاؤ اور سیاسی رویوں کو متاثر کرنے والی طاقتیں بن چکی ہیں۔ ڈاٹا کو اب نیا تیل کہا جاتا ہے۔ شہری صرف ووٹر نہیں رہے بلکہ صارف اور ڈاٹا-مصنوعات میں تبدیل کر دیے گئے ہیں۔ اس عمل میں رازداری، آزادی اور شہری حقوق کا سوال بھی بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ نگرانی پر مبنی سرمایہ داری کے اس دور میں شہریوں کی سرگرمیاں، پسند، خوف اور رویے مسلسل ریکارڈ کیے جا رہے ہیں اور سیاسی مہمات میں استعمال ہو رہے ہیں۔ جمہوریت کا مطلب اب صرف انتخابات جیتنا نہیں رہ گیا، بلکہ عوامی شعور کو کنٹرول کرنا بھی اس کا حصہ بن چکا ہے۔

اخلاقی نقطۂ نظر سے یہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ جمہوریت صرف ایک ادارہ جاتی ڈھانچہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی تصور بھی ہے، جو مساوات، انصاف، جواب دہی اور عوامی مفاد پر مبنی ہوتا ہے۔ لیکن جب سیاست نجی فائدے کا ذریعہ بن جاتی ہے تو اخلاقیات کو ’عملیت پسندی‘ کہہ کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ بدعنوانی کو کارکردگی اور کارپوریٹ اتحاد کو ترقی کا نام دے دیا جاتا ہے۔

ضرورت صرف کسی ایک لیڈر پر تنقید کی نہیں بلکہ اس معاشی و سماجی ڈھانچے کو سمجھنے کی ہے جس میں سیاست بتدریج عوامی جوابدہی سے ہٹ کر ذاتی ملکیت میں تبدیل ہوتی جا رہی ہے۔ سوال صرف ٹرمپ کا نہیں ہے۔ سوال اس عالمی نظام کا ہے جس میں سرمایہ، میڈیا، ٹیکنالوجی اور قوم پرستی مل کر جمہوریت کی روح کو کمزور کر رہے ہیں۔ جمہوریت کا مستقبل صرف تنظیمی اصلاحات سے محفوظ نہیں ہوگا۔ اس کے لیے سماجی مساوات، عوامی اخلاقیات، معاشی انصاف اور شہری شعور کو دوبارہ قائم کرنا ہوگا۔ ورنہ جمہوریت بالآخر شہریوں کا نہیں بلکہ دولت اور اثر و رسوخ کے اتحاد کا نظام بن کر رہ جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...