
سولہ سالہ نتن (فرضی نام) کا ہاتھ باندھ کر بالغ ملزمین کی طرح عدالت میں پیش کرتی اتر پردیش پولیس۔ (تصویر: ارینجمنٹ)
نئی دہلی: اتر پردیش کے ضلع شاہجہاں پور کے گاؤں نو سینا مڑیا کے 16 سالہ نتن (فرضی نام) گزشتہ دو ماہ سے یوپی پولیس کی حراست میں ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسے نوئیڈا مزدور تحریک کے بعد 14 اپریل کو گرفتار کیا گیا تھا۔
الزام ہے کہ نابالغ ہونے کے باوجود اس کے ساتھ بالغ ملزم جیسا سلوک کیا گیا اور گریٹر نوئیڈا کی جیل میں رکھا گیا۔ اس کی گرفتاری کے دو مہینے بعد آج کی صورتحال یہ ہے کہ میڈیکل جانچ میں نابالغ ثابت ہونے اور عدالت کی جانب سے 29 مئی کو ضمانت مل جانے کے باوجود وہ باہرنہیں نکل پایا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گھروالوں کے پاس 45 ہزار روپے ضمانت کی رقم ادا کرنے کی مالی استطاعت نہیں ہے۔
نوئیڈا میں ایک کریانہ کی دکان پر کام کرنے والا نتن انتہائی غریب خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ بیماری کی وجہ سے 2024 میں اس کے والد کی موت ہو گئی تھی۔ اب خاندان میں اس کے علاوہ دو بھائی اور ماں ہیں۔ بڑا بھائی دنیش 18 سال کا ہے اور اپنی ماں کے ساتھ پنجاب میں اینٹ کے بھٹے پر کام کرتا ہے۔ ایک چھوٹا بھائی بھی ہے جو 13 سال کاہے۔
نتن کے بھائی دنیش نے بتایا کہ گرفتاری اس وقت ہوئی جب وہ نوئیڈا کے بھنگیل علاقے میں واقع ایک کریانہ اسٹور پر کام کر رہا تھا۔
نتن کے وکیل مانک گپتا نے دی وائر ہندی کو بتایا،’نتن کو 14اپریل کو ایک فون آیا اور کہا گیا کہ اس کا کوئی پارسل آیا ہے۔ اس نے جواب دیا کہ اس نے کوئی پارسل نہیں منگوایا ہے، پھر بھی اسے باہر آنے کو کہا گیا۔ نتن کے مطابق، جب وہ بتائی گئی جگہ پر پہنچا تو وہاں پولیس موجود تھی اور اسے اپنے ساتھ لے گئی۔‘
اس کے بعد تقریباً دو ماہ تک بالغ قیدیوں کے ساتھ جیل میں رکھنے کے بعد جمعہ (12 جون) کو اسے جووینائل ہوم بھیجا گیا۔ اس کے بعد اس کا میڈیکل ٹیسٹ کیا گیا، جس میں نابالغ ثابت ہونے کے باوجود اورچھ دن تک جیل میں رکھا گیا۔
نتن کے وکیل اور بھائی دنیش کا کہنا ہے کہ حراست میں لینے کے بعد اسے ایک دوسرے پولیس کمپلیکس میں منتقل کیا گیا، جہاں اس کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور بعد میں کچھ کاغذات پر دستخط کروائے گئے۔ دی وائر مارپیٹ کے ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر پایا ہے۔
دنیش کے مطابق،’نتن نے مجھے بتایا تھا کہ پولیس والوں نے اس کے ساتھ کافی دیر تک مارپیٹ کی، یہاں تک کہ ایک ڈنڈا اسی کے اوپر توڑ دیا۔‘
معاملہ کیا ہے؟
اپریل کے مہینے میں تنخواہ میں اضافے اور سازگار ماحول کے مطالبے کے ساتھ نوئیڈا میں مزدوروں نے احتجاجی مظاہرے کیے تھے۔ 13 اپریل کو یہ مظاہرہ پرتشدد ہو گیا۔ مزدوروں اور مزدور کارکنوں کا الزام ہے کہ پولیس نے بغیر کسی اشتعال انگیزی کے طاقت کا استعمال کیا، جبکہ پولیس کا کہنا تھا کہ ہجوم بے قابو ہو گیا تھا اور اسے قابو میں لانے کے لیے کارروائی کرنی پڑی۔
اسی سلسلے میں نتن کو بھی حراست میں لیا گیا۔ اس کے خلاف نوئیڈا فیز-2 تھانے میں درج ایف آئی آر نمبر 165/2026 کے تحت بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی متعدد سنگین دفعات لگائی گئی ہیں۔ ان میں غیر قانونی اجتماع، فساد، سرکاری ملازمین کے کام میں رکاوٹ ڈالنا، تشدد، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا اور دیگر متعلقہ الزامات شامل ہیں۔
ایف آئی آر میں بی این ایس کی دفعات 109(1)، 191(1)، 191(2)، 121(2)، 132، 133، 125، 127(2)، 115(2)، 352، 351(3)، 324(6)، 61(2)، 326(ایف)، 190، 191(3)، 324(4)، 324(5)، 326(جی)کے علاوہ عوامی املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق قانون کی دفعات 3 اور 4اور کریمنل لا امینڈمنٹ ایکٹ کی دفعہ 7 بھی شامل ہیں۔
وکیل مانک گپتا کا کہنا ہے کہ انہیں نتن کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب وہ 15 مئی کو احتجاج سے متعلق گرفتار دیگر مزدوروں کے معاملے میں عدالت میں پیش ہو رہے تھے۔
گپتا نے کہا،’دیگر ملزمان نے مجھے بتایا کہ ایک لڑکا ہے جو نابالغ ہے۔ جب میں نے اس سے بات کی تو اس نے اپنی عمر 16 سال بتائی۔ تب مجھے سمجھ نہیں آیا کہ اگر وہ نابالغ ہے تو اسے عام فوجداری طریقہ کار کے تحت کیسے ریمانڈ کیاجا رہا ہے۔ ‘
نتن کے اہل خانہ اور وکیل کا کہنا ہے کہ نتن اس تحریک میں شامل ہی نہیں تھا۔
جانچ کے بعد جاری کیا گیا میڈیکل سرٹیفکیٹ۔ (تصویر: ارینجمنٹ)
ریکارڈ میں عمر لکھی 25 سال، دستاویزوں میں 16 سال
نتن کی جانب سے دائر درخواست کے ساتھ اس کا آدھار کارڈ عدالت میں پیش کیا گیا، جس میں تاریخ پیدائش 1 جنوری 2010 درج ہے۔ بعد میں 4 جون کو کیے گئے بون اوسی فیکیشن ٹیسٹ میں بھی اس کی عمر تقریباً 16 سال قرار دی گئی۔
لیکن اسی دوران ایک بڑا تضاد سامنے آیا۔
نتن کے وکیل کے مطابق، گرفتاری اور ریمانڈ سے متعلق دستاویزوں میں اُس کی عمر 25 سال درج کی گئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اسے بالغ ملزم کی طرح جیل بھیجا گیا۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پولیس نے آخر کس بنیاد پر نتن کی عمر 25 سال قرار دی، جبکہ اس کے پاس دستاویز کی صورت میں صرف آدھار کارڈ تھا، جس میں اس کی عمر 16 سال درج تھی۔
آدھار کارڈ میں اس کی عمر 16 سال درج ہے۔
گپتا کہتے ہیں، ’قانون کہتا ہے کہ جب بھی کسی شخص کے نابالغ ہونے کا دعویٰ سامنے آئے، تو اس کی فوراً جانچ ہونی چاہیے۔ لیکن یہاں ایک بچہ ہفتوں تک جیل میں رہا۔ ‘
گپتا بتاتے ہیں کہ جیسے ہی نتن کی عمر کے بارے میں معلومات سامنے آئیں، انہوں نے عدالت اور جووینائل جسٹس بورڈ کے سامنے اس کی عمر سے متعلق دعویٰ پیش کیا۔ اس کے باوجود تقریباً 20 دن بعد اس کا اوسی فیکیشن ٹیسٹ کرایا گیا۔
ایک مہینے بعد ملی قانونی مدد
جووینائل جسٹس بورڈ میں دائر درخواست میں درج ہے کہ نتن کی گرفتاری کے بعد نہ تو اس کے خاندان کو اس کی اطلاع دی گئی اور نہ ہی اسے کسی وکیل سے رابطہ کرنے کی اجازت دی گئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ گرفتاری کے تقریباً ایک ماہ بعد، 15 مئی کو موجودہ وکیل کی اس سے ملاقات ہوئی اور تب ہی اسے قانونی مددحاصل ہو پائی۔
درخواست میں یہ الزام بھی لگایا گیا ہے کہ نتن کو عدالت میں زنجیروں سے باندھ کر پیش کیا گیا تھا۔ منی کانت گپتا نے دی وائر سےاس بات کی تصدیق کی ہے کہ انہوں نے خود نتن کو زنجیروں میں بندھا ہوا دیکھا ہے۔
سولہ سالہ نتن (بائیں) کو ہاتھ باندھ کر بالغ ملزموں کی طرح عدالت میں پیش کرتی اتر پردیش پولیس۔ (تصویر: ارینجمنٹ)
واضح ہو کہ کسی نابالغ کو اس طرح زنجیروں میں باندھنا جووینائل جسٹس کے قانون اور سپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 16 سالہ بچے کو زنجیروں اور بیڑیوں میں پیش کیا جانا جووینائل جسٹس (کیئر اینڈ پروٹیکشن آف چلڈرین) ماڈل رولز 2016 کے رول 12(3)، دی یونائیٹڈ نیشنز اسٹینڈرڈ منیمم رولز فار دی ایڈمنسٹریشن آف جووینائل جسٹس (بیجنگ رولز)، 1985 اور ’پریم شنکر شکلا بنام دہلی انتظامیہ‘معاملے میں سپریم کورٹ کے طے کردہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ہتھکڑی لگانے کو غیر انسانی عمل قرار دیتے ہوئے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔
اس معاملے کو لے کر نوئیڈا فیز-2 تھانے کے تھانہ انچارج کو سوال بھیجے گئے ہیں، تاہم اس رپورٹ کی اشاعت تک جواب موصول نہیں ہوا ہے۔ جواب ملنے پر رپورٹ کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔
عدالت سے ملی ضمانت
گزشتہ 29 مئی کو گوتم بدھ نگر کی ایک سیشن عدالت نے نتن کو ضمانت دے دی۔ اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ نتن کا نام ایف آئی آر میں نہیں تھا۔ عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ریکارڈ پر ایسا کوئی سی سی ٹی وی فوٹیج، ویڈیو یا تصویری ثبوت پیش نہیں کیا گیا جس سے واقعہ میں اس کے مخصوص کردار کو ثابت کیا جا سکے۔
عدالت نے مزید کہا کہ استغاثہ کے جن گواہوں کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں، وہ بھی نتن کے کردار کو واضح طور پر ثابت نہیں کرتے۔ اسی بنیاد پر عدالت نے نابالغ کی ضمانت منظور کر لی۔
تاہم، ایف آئی آر نمبر 165/2026 میں ضمانت ملنے اور اوسفیکیشن ٹیسٹ میں نابالغ ثابت ہونے کے بعد جب گپتا نتن کی درخواست لے کر جووینائل جسٹس بورڈ پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ اس کے خلاف ایف آئی آر نمبر 164/2026 کے تحت بھی معاملہ درج ہے۔
ایف آئی آر 164/2026 میں اس پر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعات 109(1)، 191(1)، 191(2)، 191(3)، 121(2)، 132، 333، 125، 115(2)، 127(2)، 351(3)، 352 اور 61(2) کے علاوہ عوامی املاک کو نقصان پہنچانے سے متعلق قانون اور کریمنل لا امینڈمنٹ ایکٹ کی دفعہ 7 کے تحت الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
مانک گپتا نے بتایا کہ انہوں نے ایف آئی آر نمبر 164/2026 میں ضمانت کی درخواست جووینائل جسٹس بورڈ میں جمع کرائی، لیکن اسے قبول نہیں کیا گیا۔
گپتا نے کہا،’جووینائل جسٹس بورڈ نے بتایا کہ جب نابالغ کی فائل باضابطہ طور پر ان کے پاس ٹرانسفر ہو کر آئے گی، تب ہی وہ درخواست قبول کر سکیں گے۔‘
ضمانت کے بعد بھی حراست میں
حالاں کہ، ضمانت کے آرڈر کے باوجودنتن حراست سے باہرنہیں آ سکا ہے۔ البتہ آرڈر کے 14 دن بعد اسے جیل سے جووینائل ہوم منتقل کر دیا گیا ہے۔
جووینائل جسٹس بورڈ میں دائر درخواست کے مطابق، نتن کا خاندان اتنا غریب ہے کہ وہ ضمانت کے لیے درکار 50 ہزار روپے کے دو ضامن اور 45 ہزار روپے کی رقم کا انتظام نہیں کر سکا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ خاندان کے پاس نہ کوئی جائیداد ہے، نہ بچت، اور نہ ہی کوئی مستقل آمدنی۔ اس کی والدہ اینٹ کے بھٹے پر مزدوری کرتی ہیں۔
حالاں کہ، ضمانت کی رقم پہلے 50 ہزار روپے تھی، لیکن وکیل گپتا نے عدالت میں اس رقم کو کم کرنے کی درخواست دی، جس پر صرف 5 ہزار روپے کی کمی کی گئی۔ تاہم یہ رقم بھی خاندان ادا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔
اسی بنیاد پر وکیل نے جووینائل جسٹس بورڈ سے درخواست کی کہ نتن کو ذاتی مچلکے پر رہا کیا جائے۔
گزشتہ8جون کو جووینائل جسٹس بورڈ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ نتن نابالغ ہے، اسے پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے، اور جووینائل جسٹس ایکٹ کی دفعہ 12(4) کے تحت اسے ذاتی مچلکے پر رہا کیا جانا چاہیے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ اگر کوئی بچہ ضمانت کی شرائط پوری کرنے سے قاصر ہو تو بورڈ کو شرائط میں مناسب ترمیم کر کے اس کی رہائی یقینی بنانی چاہیے۔
نتن کے بھائی دنیش نے دی وائر سے کہا،’ہم بہت غریب خاندان سے ہیں۔ ہمارے پاس کوئی بچت نہیں ہے۔ ہم اتنا بھی نہیں کما پاتے کہ ٹھیک سے گزر بسر کر سکیں۔ والد کی موت کے بعد ہمارا خاندان بے سہارا ہو گیا ہے۔‘
مانک گپتا نے بتایا، ’ضمانت ملنے کے باوجود صرف مالی تنگی کی وجہ سے کسی بچے کو جیل میں رکھنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔‘
گپتا نے بتایا کہ موتی رام بنام ریاست مدھیہ پردیش (1978) کے معاملے میں سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا تھا کہ ’ضمانت کی شرائط ملزم کی معاشی حقیقت کے پیش نظر طے کی جانی چاہیے، اور ایسی شرائط عائد نہیں کی جانی چاہیے جو عملی طور پر ضمانت سے محروم کرنے کے مترادف ہوں۔‘
گپتا نے مزید کہا، ’سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ ایک بچے کو پہلے جیل میں رکھا گیا اور پھر ضمانت ملنے کے بعد بھی وہ صرف اس لیے جیل میں رہا کیونکہ اس کے گھر والےغریب ہیں۔‘






