کیا این سی پی آئی کے ارکان ٹی ایم سی کے باغی رہنماؤں کو قبول کرپائیں گے؟

AhmadJunaidJ&K News urduJune 15, 2026364 Views


نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا، جس میں ٹی ایم سی کے باغی ارکان پارلیامنٹ شامل ہوئے ہیں، کے آرگنائزیشنل سکریٹری شانتنو ڈے نے دی وائر سے کہا کہ وہ اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہیں جس کے تحت ناردا اور شاردا گھوٹالوں میں ملوث اور بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے ترنمول کانگریس کے رہنماؤں کو پارٹی میں شامل کیا جا رہا ہے۔ وہیں، پارٹی کے بعض دوسرے رہنماؤں نے حال ہی میں بنگال میں بی جے پی کی جیت کا جشن منایا تھا۔

بائیں سےاین سی پی آئی چیف اتیو کنڈو کی فیس بک پروفائل فوٹو (جس میں وہ بنگال کے وزیراعلیٰ سوویندو ادھیکاری کے ساتھ ہیں)؛ نئی دہلی میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، ٹی ایم سی ایم پی سدیپ بندوپادھیائے، شتابدی رائے، کاکولی گھوش دستی دار، مالا رائے، یوسف پٹھان اور دیگر؛ اور این سی پی آئی کے ایک پوسٹر کا حصہ جس میں پارٹی بدلنے والوں کو مسترد کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ (تصویریں: فیس بک اور پی ٹی آئی)

نئی دہلی/کولکاتہ: ایک انتہائی کم معروف علاقائی سیاسی جماعت نیشنلسٹ سٹیزنز پارٹی آف انڈیا (این سی پی آئی) اتوار (14 جون) کو اچانک قومی سطح پر اس وقت سرخیوں میں آئی، جب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے ایک باغی گروپ نے اعلان کیا کہ وہ اس میں شامل ہونے جا رہے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ این سی پی آئی 2022 کے آخر میں بنائی گئی تھی اور اس نے 2023 کے تریپورہ اسمبلی انتخابات میں صرف تین نشستوں پر اپنے امیدوار دیے تھے۔ اس دوران پارٹی  نے ’سیاسی ٹرن کوٹ‘کو مسترد کرنے کا نعرہ دیا تھا۔

حالیہ پیش رفت کے پیش نظر یہ مانا جا رہا ہے کہ ٹی ایم سی کے باغی رہنماؤں کا یہ قدم ‘انسداد انحراف قانون/ دل بدل قانون ‘کے تحت نااہل قرار دیے جانے کی قانونی پیچیدگیوں سے بچنے کی ایک کوشش ہے۔ اس کا اعلان ٹی ایم سی ایم پی کاکولی گھوش دستی دار نے کیا، جو 2026 کے بنگال اسمبلی انتخابات میں شکست کے بعد پارٹی کے اندر بغاوت کو تحریک دینے والی رہنماؤں میں سے ایک ہیں۔

دہلی میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا سے ملاقات کے بعد دستی دار نے دعویٰ کیا کہ باغی گروپ کو ٹی ایم سی کے 28 لوک سبھا ایم پی میں سے 20 کی حمایت حاصل ہے اور وہ این سی پی آئی میں شامل ہو جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والے قومی جمہوری اتحاد (این ڈی اے) کی حمایت کریں گے۔

تاہم، یہ بات بہت عجیب ہےکہ بنگال میں رجسٹرڈ ایک علاقائی سیاسی جماعت، جس نے کبھی لوک سبھا کا انتخاب بھی نہیں لڑا، اب لوک سبھا کی چوتھی  سب سے بڑی جماعت کے بیشتر ارکان کو اپنی پارٹی میں شامل کرے گی۔

اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ این سی پی آئی نے جو واحد انتخاب لڑا تھا، اس کے انتخابی پوسٹروں میں ووٹروں کو سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے سیاست دانوں سے ہوشیار رہنے کا مشورہ دیا گیا تھا۔

‘اگر پارٹی بی جے پی کے ساتھ مل جاتی ہے، تو مجھے کوئی دقت نہیں ہوگی’

این سی پی آئی کے 2023 تریپورہ اسمبلی انتخابات کے انتخابی پوسٹروں، جو پارٹی کے فیس بک پیج پر موجود ہیں، ان میں لکھا ہے؛ ’سیاسی ٹرن کوٹ کو مسترد کر کے اپنے حقوق کا تحفظ کریں، سیاست دانوں کے بجائے سماجی خدمت گاروں کا ساتھ دیں۔‘

ان انتخابی پوسٹروں میں شیولی کنڈو کو صدر، اتیو کنڈو کو نائب صدر اور شانتنو ڈے کو آرگنائزیشنل سکریٹری بتایا گیا ہے۔

تاہم، ابھی یہ انضمام زمینی طور پر نافذ بھی نہیں ہوا کہ پارٹی کے اندر ناراضگی کی باتیں سامنے آنے لگی ہیں۔ پارٹی کےآرگنائزیشنل سکریٹری شانتنو ڈے نے فون پر دی وائر سے کہا کہ پارٹی کو ٹی ایم سی چھوڑ کر آنے والوں کا خیرمقدم نہیں کرنا چاہیے۔

ڈے نے کہا،’اگر پارٹی بی جے پی کے ساتھ مل جاتی،تو مجھے کوئی دقت  نہیں  ہوتی۔ ہم وزیراعظم نریندر مودی کا احترام کرتے ہیں اور پہلے بھی بی جے پی کی حمایت کر چکے ہیں۔ لیکن یہ ٹی ایم سی رہنما… آپ جانتے ہیں کہ بدعنوانی کے معاملوں میں ان کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے؛ شاردا، ناردا-ان تمام معاملوں میں ان کے نام شامل ہیں۔‘

معلوم ہو کہ انتخاب میں شکست کے بعد پارٹی چھوڑنے کے اپنے فیصلے کے لیے باغی رہنماؤں نے بدعنوانی، آئی-پیک کو پارٹی پر مسلط کرنے اور سابق وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کےبھتیجے اور پارٹی کے جنرل سکریٹری ابھیشیک بنرجی کو غیر معمولی اہمیت دینے کو وجہ بتاتے ہوئے اپنےفیصلے کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کی ہے ۔

وہیں، باغی رہنماؤں میں سے کئی ناردا، شاردا اور روز ویلی جیسے بدعنوانی کے معاملوں میں جانچ کا سامنا کر رہے ہیں۔ بدعنوانی کے ان معاملوں میں جانچ کا سامنا کرنے والے ٹی ایم سی ایم پی میں دستی دار، پرسون بنرجی، شتابدی رائے اور سدیپ بندوپادھیائے شامل ہیں۔

ان کے علاوہ دیپک ادھیکاری (دیو) کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ سابق کرکٹر یوسف پٹھان وڈودرا میں میونسپل  کی زمین سے متعلق ایک بڑے تنازعے کے سبب سرخیوں میں ہیں۔

’میں اس قدم کی حمایت نہیں کروں گا‘

ڈے نے کہا کہ نہ تو وہ اور نہ ہی پارٹی  کےکارکن ان رہنماؤں کی حمایت کریں گے جن پر بدعنوانی کے الزامات ہیں۔ جب ان سے پارٹی کے ارکان کی تعداد کے بارے میں پوچھا گیا تو ڈے نے بتایا کہ پارٹی کے تقریباً 1,000 ارکان ہیں۔

انہوں نے کہا،’میں نے تریپورہ میں انتخابی مہم کی قیادت کی تھی، لیکن مجھ سے مشورہ کیے بغیر لیا گیا یہ فیصلہ غلط ہے۔ جب تک وہ اس بارے میں مجھ سے بات نہیں کرتے، میں اس قدم کی حمایت نہیں کروں گا۔‘

دی وائر نے اس سلسلے میں بات چیت کے لیے اتیو کنڈو سے فون اور وہاٹس ایپ پر رابطہ کیا ہے۔

وہیں،ڈے نے بتایا کہ انہوں نے 2023 میں تریپورہ میں پارٹی کی انتخابی مہم اور تمام امیدواروں کا کام کاج سنبھالا تھا۔ حالاں کہ شروع میں سات امیدواروں کو میدان میں اتارنے کا منصوبہ تھا، لیکن آخرکار صرف چار امیدوار ہی میدان میں اتارےگئے۔

الیکشن کمیشن کے 2023 کے تریپورہ اسمبلی انتخابات کے ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ پارٹی نے چاوامانو، امباسا، کرمچارا اور کیلاشہر میں چار امیدوار اتارے تھے، لیکن ان میں سے صرف تین کی نامزدگی منظور کی گئی۔ جہانگیر علی (کیلاشہر) اور برجیدا تریپورہ (چاوامانو) کی امیدواری منظور کر لی گئی تھی۔

الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پر کرشن کمار دیب برما کو آزاد امیدوار کے طور پر دکھایا گیا ہے، تاہم این سی پی آئی کے فیس بک پیج پر ان کا انتخابی پوسٹر پارٹی امیدوار کے طور پر موجود ہے۔ای سی آئی کی ویب سائٹ  پر کرمچارا سے ریتا شیل ہلام کی نامزدگی رد دکھائی گئی ہے۔

پارٹی کو چاوامانو (ایس ٹی) حلقہ میں صرف 536 ووٹ ملے، جبکہ کیلاشہر میں اس سے بھی کم یعنی 286 ووٹ حاصل ہوئے۔

حالاں کہ پارٹی 2022 کے آخر میں بنی تھی، لیکن دی وائر کو موصولہ ایک خط کے مطابق، انتخابی نشان کے لیے درخواست 10 جنوری 2023 کو دی گئی تھی۔

محدود بجٹ اور بی جے پی کی حمایت

قابل ذکر ہے کہ این سی پی آئی مغربی بنگال کے ہاوڑہ ضلع کے گاؤں ہاٹ گاچھا میں واقع ایک معمولی سی عمارت سے کام کرتی ہے۔ اس کا رجسٹرڈ پتہ’جاگو بسوا‘ نام کے ایک ای-اخبار اور سماجی ٹرسٹ کا  بھی دفتر ہے۔ یہ نام ترنمول کانگریس کے ترجمان ’جاگو بانگلا‘سے مشابہت رکھتا ہے۔

حالاں کہ، پارٹی کے عہدیدار زمینی سطح پر مزدوروں کو منظم کرنے کے لیے’پشچم بنگا اسنگٹھیتا مہیلا کرمی ایسوسی ایشن‘نام سے ایک غیر منافع بخش ادارہ چلاتے ہیں، لیکن مغربی بنگال، آسام اور تریپورہ میں اس کی انتخابی مشینری پوری طرح سے غائب رہی ہیں، جس سے اس کا مقامی ڈھانچہ پوری طرح سے پردے کے پیچھے ہی نظر آتا ہے۔

ڈے نے دی وائر کو بتایا کہ بھلےہی پارٹی مغربی بنگال میں رجسٹرڈ ہے، لیکن اس نے صوبے میں کبھی انتخاب نہیں لڑا۔ پارٹی آسام اور بنگال میں 2026 کے انتخابات میں حصہ لینا چاہتی تھی، لیکن ’مالی دقتوں‘ کی وجہ سےایسا نہیں کر پائی۔

این سی پی آئی کی خستہ  مالی حالت کا اندازہ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ایم/ایس رائے امت اینڈ کمپنی کی آڈٹ کی گئی بیلنس شیٹ سے صاف پتہ چلتا ہے۔ 31 مارچ 2023 کو ختم ہونے والے مالی سال کے دوران پارٹی  کا شروعاتی کام کاج بہت محدود تھا؛ کل آمدنی صرف 1,13,075 روپے تھی، جو پوری طرح سےخیر خواہوں کے چندے سے آئی تھی۔ آخر میں اس خرچ کے بعد پارٹی کے جنرل فنڈ میں 425 روپے کی کمی رہ گئی اورہاتھ  میں  بہت کم کیس بیلنس  رہ گیا ،صرف 75 روپے۔

پارٹی اور اس  کے بڑے رہنماؤں کی پہچان کے بارے میں محدود معلومات کا اندازہ اس کے دو اعلیٰ رہنماؤں کی پبلک پروفائل سے بھی ہوتا ہے۔

فیس بک پر شیولی کنڈو نے خود کو صحافی، آئی ایس او آڈیٹر، ’نو پرابلم لا پوائنٹ‘نامی لا کمپنی کی پارٹنر اور ریاضی کی سابق استاد کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ وہ’آل انڈیا اینٹی کرپشن فورم‘کی صدر اور’جاگو بسوا‘ کی سکریٹری بھی ہیں، لیکن حیرت انگیز طور پر انہوں نے اپنی سوشل میڈیا پروفائل میں اس سیاسی جماعت کا ذکر نہیں کیا، جس کی وہ چیف ہیں۔

ان کے شوہر اتیو کنڈو، جو’جاگو بسوا‘کےمتوازی سوشل نیٹ ورک چلاتے ہیں، خود کو ریاضی دان، لا فرم پارٹنر، آئی ایس او آڈیٹر، سماجی کارکن، قدرتی معالج (نیچروپیتھ) اور یوگا و قدرتی علاج میں ڈپلومہ ہولڈر قرار دیتے ہیں۔

غورطلب ہے کہ مغربی بنگال کے حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی کے بعد اس جوڑے نے اپنے سوشل میڈیاپیج پر اس سیاسی تبدیلی کا جشن منایا تھا۔

اپنی دو پروفائل  میں ایک پر پارٹی صدر شیولی ساہا (کنڈو) نے انتخابی نتائج کو آزادی کا ایک تاریخی دن قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ علاؤالدین خلجی کے دور کے بعد تقریباً 700 برسوں میں ہندوؤں کی ایک بڑی جیت ہے۔ اُتیو کنڈو نے بی جے پی رہنما سوویندو ادھیکاری کے ساتھ اپنی ایک تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ اب صرف خواب دیکھنے کے دن ختم ہو گئے ہیں۔

انہوں نے ادھیکاری کو مغربی بنگال کے اگلے وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کے آگے کےسفر کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار بھی کیا تھا۔

انگریزی میں پڑھنے کے لیےیہاں کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...