ہندوستانی جمہوریت، ایس آئی آر اور اپوزیشن کو درپیش چیلنجز

AhmadJunaidJ&K News urduJune 13, 2026366 Views


دوبارہ حکومت چلانے کا موقع حاصل کرنے کے لیے اپوزیشن کو سب سے پہلے مل کر کام کرنا ہوگا، حقیقی اتحادیوں اور دھوکے بازوں کی شناخت کرنی ہوگی اور حقیقی اتحادیوں کو اپنے ساتھ برقرار رکھنا ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>

i

user
google_preferred_badge

وزیر اعظم نریندر مودی کی پہلی مدت کار کے چوتھے سال، یعنی 2018 میں سویڈن کے ’وی-ڈیم انسٹی ٹیوٹ‘ نے ہندوستان کو ایک ایسی حالت تک پہنچنے والا ملک قرار دیا تھا جسے وہ ’الیکٹورل آٹو کریسی‘ (انتخابی تاناشاہی) مانتا ہے۔ یہ متنازعہ درجہ بندی تب سے برقرار ہے، حالانکہ حقیقت میں جمہوری تنزلی اس سطح سے کہیں زیادہ سنگین ہے۔ وی-ڈیم کی ’ڈیموکریسی رپورٹ‘ کے 2026 ایڈیشن میں ہندوستان کو اس کے ’لبرل ڈیموکریسی انڈیکس‘ میں 179 ممالک کے درمیان 105واں مقام ملا ہے۔

جن شہریوں نے اس تنزلی کو پہلے تشویش، پھر گھبراہٹ اور اب مایوسی کے ساتھ دیکھا ہے، ان کے لیے 2024 کے لوک سبھا انتخابات نے کچھ وقت کے لیے امید کی ایک شمع دکھائی تھی۔ یہ بات جون 2024 کی ہے، جب اپوزیشن آج کے مقابلے میں کہیں زیادہ متحد تھی اور اس نے مل کر مضبوطی سے مقابلہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں بی جے پی لوک سبھا میں عام اکثریت حاصل کرنے سے محروم رہ گئی تھی۔

پھر، صرف 2 ماہ قبل اپریل 2026 میں، اسی اپوزیشن نے بی جے پی اتحاد والی حکومت کی جانب سے حد بندی بل لانے کی کوشش کو ناکام بنا دیا تھا، جس سے پارلیمنٹ میں جنوبی ریاستوں کی نمائندگی بہت کم ہونے اور ہندوستان کے وفاقی ڈھانچے کے کمزور ہونے کا خطرہ تھا۔ مرکز میں اقتدار کو مرکوز کرنے کی اپنی بالکل واضح کوشش میں، بی جے پی ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ اور اسی سوچ پر مبنی کئی دوسرے طریقوں کو بھی آگے بڑھا رہی ہے۔

بی جے پی-سنگھ کی بنیادی تاناشاہی سوچ کا نظریاتی نعرہ ہے ’ایک ملک، ایک نشان، ایک ودھان، ایک پردھان‘ (ایک ملک، ایک جھنڈا، ایک آئین، ایک وزیر اعظم)۔ یہ تاریخی سوچ بی جے پی کی پیش رو پارٹی بھارتیہ جن سنگھ اور اس کے بانی شیاما پرساد مکھرجی سے جڑی ہوئی ہے۔ نریندر مودی کے دور میں اس نے ’ایک ملک، ایک انتخاب‘، ’ایک ملک، ایک ٹیکس‘، ’ایک ملک، ایک راشن کارڈ‘، ’ایک ملک، ایک گرڈ‘، ’ایک ملک، ایک یونیفارم‘ وغیرہ کی شکل میں اپنے نئے پیر پھیلائے ہیں۔

اگرچہ بی جے پی 2024 میں دوبارہ اقتدار میں آئی، لیکن اسے اس کامیابی سے کچھ ایسے سبق ملے جن میں شکست کی جھلک بھی تھی۔ وہ اپوزیشن کو مکمل طور پر کچل نہیں پائی اور انتخاب سے قبل اس نے 400 پار کے بھاری اکثریت کے جو نعرے لگائے تھے، ان سے کافی پیچھے رہ گئی۔ اتر پردیش میں، جہاں پارٹی نے نئے رام مندر کے افتتاح کو ایک بڑی ثقافتی کامیابی کے طور پر پیش کیا تھا، وہ 80 میں سے صرف 33 نشستوں تک محدود رہ گئی، جبکہ سماجوادی پارٹی نے 37 نشستیں جیتیں۔ بی جے پی کو فیض آباد کی اہم نشست بھی گنوانی پڑی، جس میں ایودھیا کا اسمبلی حلقہ بھی شامل ہے۔ اس شکست نے بہت چبھن پیدا کی۔ اپوزیشن کو رشوت دینے، ڈرانے دھمکانے اور توڑنے کے تمام حربے استعمال کرنے کے باوجود، اسے مجموعی ووٹوں کا صرف 36.6 فیصد ہی حاصل ہو سکا۔ اس سے عام لوگوں کے درمیان اس کی حقیقی مقبولیت کا کچھ اندازہ تو ہوتا ہے، لیکن اقتدار پر اس کے ضرورت سے زیادہ قبضے کی پوری تصویر سامنے نہیں آتی۔

2024 کے نتائج سے بی جے پی نے یہ اہم سبق سیکھا کہ اقتدار پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کے لیے اسے مزید کوشش کرنی ہوگی۔ اسے احساس ہوا کہ اب تک کیے گئے تمام اقدامات کے باوجود، وہ آئین کو دوبارہ لکھنے کے لیے درکار دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے قابل حمایت فطری طور پر جمع نہیں کر سکی تھی۔ ایک بے قابو سانڈ کی طرح پوری لگن کے ساتھ اس نے دیکھا کہ واحد راستہ ووٹروں کی ساخت کو ہی ازسر نو تشکیل دینا ہے، یعنی ووٹر لسٹ کی بڑے پیمانے پر چھنٹنی کرنا اور یہ یقینی بنانا کہ اس چھنٹنی کا فائدہ فیصلہ کن طور پر بی جے پی کو ہی حاصل ہو۔ یہیں ایس آئی آر کی آمد ہوتی ہے۔

ووٹر لسٹ کو نئے سرے سے تیار کرنے کے اس منصوبے میں بی جے پی کو ہندوستان کے الیکشن کمیشن کا ساتھ مل رہا ہے، جو ایس آئی آر کی نگرانی کرتا ہے۔ قارئین جانتے ہوں گے کہ الیکشن کمیشن کو ایک آزاد اور غیر جانبدار ادارہ سمجھا جاتا رہا ہے، لیکن اب الیکشن کمشنروں کا انتخاب (قانونی طور پر) برسر اقتدار پارٹی کی 2:1 اکثریت کے ذریعے کیا جاتا ہے، جس سے عملاً کمیشن ایک سرکاری محکمہ بن کر رہ جاتا ہے۔ یہ نیا قانون ’سی ای سی اور دیگر الیکشن کمشنر بل، 2023‘ کے ذریعے وجود میں آیا، جسے اپریل-مئی 2024 کے لوک سبھا انتخابات سے پہلے دسمبر 2023 میں منظور کیا گیا تھا۔ نئے قانون کے تحت، چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) اور دیگر الیکشن کمشنروں کی تقرری صدر جمہوریہ ایک انتخابی کمیٹی کی سفارش پر کرتے ہیں۔ اس انتخابی کمیٹی میں وزیر اعظم، مرکزی کابینہ کا ایک وزیر اور لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد (یا سب سے بڑی اپوزیشن پارٹی کے لیڈر) شامل ہوتے ہیں۔ الیکشن کمیشن نے اسکرپٹ پڑھ لی ہے اور اب وہ اپنے نئے آقا کو رپورٹ کر رہا ہے۔

بہار (ایس آئی آر کے پہلے مرحلے کے بعد نومبر 2025 میں) اور مغربی بنگال (ایس آئی آر کے دوسرے مرحلے کے بعد اپریل 2026 میں) ہونے والے اسمبلی انتخابات، ایس آئی آر کے مقصد اور اس کے اثرات کو دکھانے کے لیے بہترین مثالیں ہیں۔ بنگال میں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہونے کے بعد ریاست میں اہل ووٹرس کی تعداد ایس آئی آر سے پہلے کے 7.66 کروڑ کے بنیادی اعداد و شمار کے مقابلے میں تقریباً 90 لاکھ کم ہو گئی تھی۔ بہار میں 69 لاکھ ووٹرس کے نام حذف کر دیے گئے تھے۔ جو شہری ان پیش رفتوں کو تشویش کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، انہیں امید تھی کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں مداخلت کرے گی، سوالات اٹھائے گی اور الیکشن کمیشن کو جواب دہ بنائے گی۔ لیکن 27 مئی 2026 کو سپریم کورٹ نے ایس آئی آر کو کلین چٹ دے دی۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باگچی کی بنچ نے فیصلہ سنایا کہ ایس آئی آر کا عمل آئینی ہے اور الیکشن کمیشن کے قانونی اختیارات کے دائرے میں آتا ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ ووٹر لسٹ کی سالمیت، درستگی اور قابل اعتماد حیثیت برقرار رکھنے کے لیے ایس آئی آر کا عمل ضروری ہے۔

اس ایس آئی آر کا تیسرا مرحلہ ابھی باقی 16 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام 3 خطوں میں جاری ہے۔ پہلے 2 مراحل میں، جن میں 10 ریاستیں اور مرکز کے زیر انتظام 3 خطے شامل تھے، 7.2 کروڑ نام حذف کیے گئے (اور الیکشن کمیشن کے مطابق 2 کروڑ نام شامل کیے گئے)۔ یہ ایس آئی آر سے پہلے کے اعداد و شمار کے مقابلے میں 10.2 فیصد کم ہے۔ دوسرے الفاظ میں اس عمل کے نتیجے میں ہر 10 ہندوستانی ووٹرس میں سے ایک کا حق رائے دہی ختم ہو گیا ہے۔

اگرچہ مرکزی دھارے کے میڈیا اداروں نے ووٹر لسٹ سے قصداً نام حذف کرنے اور اس میں مشتبہ چھیڑ چھاڑ کے تمام شواہد کو تقریباً دبا دیا تھا، پھر بھی متعدد رپورٹس (’نیشنل ہیرالڈ‘ اور ’دی وائر‘، ’نیوز لانڈری‘، ’اسکرول‘، ’دی نیوز منٹ‘، ’رپورٹرز کلیکٹو‘ جیسے میڈیا اداروں میں) اور دیگر انکشافات سامنے آئے، جیسے کرناٹک کے مہادیو پورہ اور آلند کے بارے میں راہل گاندھی کے انکشافات، جن سے اس معاملے کی گہری جانچ کا مطالبہ اٹھا۔ اس بات پر معقول شک پیدا کرنے کے لیے کافی شواہد موجود تھے کہ ایس آئی آر کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ہوئی تھی، لیکن اس کے باوجود الیکشن کمیشن سے جواب طلب کرنے، ایس آئی آر کے بارے میں کھل کر بات کرنے اور پیش کیے گئے شواہد کو غلط ثابت کرنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے سپریم کورٹ نے اس عمل پر اپنی منظوری کی مہر ثبت کر دی ہے۔

اس سے اپوزیشن کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ انتخابات اب بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے لیے منصفانہ میدان نہیں رہے ہیں۔ انہیں ہندوستانی جمہوریت، جمہوری اداروں، میڈیا اور عوام تک اپنی بات پہنچانے کے دیگر ذرائع پر قبضے کے خلاف لڑنے کے لیے دوسرے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔ اپوزیشن لیڈران کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آزاد اور منصفانہ انتخابات، ہماری جمہوریت، ہمارے آئین اور ہندوستان کی متنوع شناخت پر ہو رہے حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے انہیں متحد ہونا ہوگا۔ حکومت چلانے کے لیے کم از کم مشترکہ پروگرام بنانے سے پہلے انہیں ’کامن تھریٹ پرسیپشن‘ (خطرے کے بارے میں یکساں فہم) طے کرنی ہوگی۔ دوبارہ حکومت چلانے کا موقع حاصل کرنے کے لیے انہیں سب سے پہلے مل کر کام کرنا ہوگا، حقیقی اتحادیوں اور دھوکے بازوں کی شناخت کرنی ہوگی اور حقیقی اتحادیوں کو اپنے ساتھ برقرار رکھنا ہوگا۔ 8 جون کو ہونے والی ’انڈیا بلاک‘ کی میٹنگ ایک آغاز ہے۔ ابھی بہت طویل سفر باقی ہے۔

(یہ مضمون انگریزی ہفتہ وار ’سنڈے نیشنل ہیرالڈ‘ میں شائع ہوا، جس کا ترجمہ یہاں پیش کیا گیا ہے)


0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...