مغربی بنگال اسمبلی انتخاب کے نتائج میں دھاندلی کے الزامات لگاتار لگ رہے ہیں۔ اب کانگریس کے سینئر لیڈر عمران مسعود نے مغربی بنگال میں 4 ہزار ای وی ایم جلنے پر اپنی شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اس معاملہ میں بی جے پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کو ختم کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، سیاسی پارٹیوں پر حملے ہو رہے ہیں اور ملک میں تاناشاہی لانے کی تیاری چل رہی ہے۔
ہزاروں کی تعداد میں ای وی ایم جلنے کی خبروں پر اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے عمران مسعود نے کہا کہ ’’اگر ہم آج نہیں بیدار ہوئے تو یہ کبھی نہیں رکنے والا ہے۔ مغربی بنگال میں ووٹنگ مشینیں چل گئیں۔ یہاں سوال کھڑا ہوا تھا کہ جس گاؤں کے اندر 97 فیصد مسلم ووٹ تھے، وہاں 90 فیصد ووٹ بی جے پی کو کس طرح مل گیا۔‘‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ سوال جیسے ہی کھڑا ہوا، 4000 ای وی ایم جلا دی گئیں۔
قابل ذکر ہے کہ جنوبی کولکاتا کے علی پور علاقہ میں 9 منزلہ عمارت میں گزشتہ 10 جون کو شدید آگ لگ گئی تھی۔ اس عمارت میں دیگر محکموں کے علاوہ جنوبی 24 پرگنہ ضلع پریشد کا دفتر بھی تھا۔ فائر بریگیڈ اور ایمرجنسی خدمات کے ریاستی وزیر کوشک چودھری نے بتایا تھا کہ آگ میں تقریباً 4000 ای وی ایم جل کر ختم ہو گئیں۔ ریاست میں رواں سال ہوئے اسمبلی انتخاب کے دوران ان الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال 10 انتخابی حلقوں میں کیا گیا تھا۔
بہرحال، عمران مسعود نے نیٹ پیپر لیک معاملہ پر بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’نیٹ امتحان میں گھوٹالہ ہوا، پوری وزارت تعلیم میں آگ لگ گئی۔ جو واقعات ہو رہے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ملک تاناشاہی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ملک کے سبھی سسٹم کو پنگو بنانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔‘‘ انھوں نے امتحانات میں ہو رہی مبینہ دھاندلی کو طلبا اور نوجوانوں کے مستقبل کے لیے انتہائی خطرناک بتایا، اور کہا کہ اس کے خلاف پارٹی آواز اٹھاتی رہے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
































