جرمنی اور فرانس کے درمیان ایک بڑا دفاعی معاہدہ ٹوٹ گیا ہے، جس نے ہندوستان کے لیے ایک تاریخی موقع فراہم کر دیا ہے۔ دونوں یوروپی ممالک مشترکہ طور پر ’فیوچر کومبیٹ ایئر سسٹم‘ (ایف سی اے ایس) کے تحت چھٹی نسل کا جنگی طیارہ تیار کرنے والے تھے۔ اس منصوبے میں شامل بڑی کمپنیوں کے درمیان اختلافات کے باعث یہ پروجیکٹ منسوخ ہو گیا ہے۔ اب فرانس اس دفاعی ٹیکنالوجی کے لیے ہندوستان کی جانب دیکھ رہا ہے۔ رواں سال کے آغاز میں ہندوستان اور فرانس کے وزرائے دفاع کے درمیان اس اہم شراکت داری پر ابتدائی بات چیت بھی ہو چکی ہے۔ یہ شراکت داری ہندوستانی فضائیہ کی قوت میں کئی گنا اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ دفاعی ٹیکنالوجی کے میدان میں ملک کو خود کفیل بنانے کی سمت ایک بڑا قدم ثابت ہو سکتی ہے۔
دراصل 2017 میں فرانس اور جرمنی نے مستقبل کے جنگی طیارے کی تیاری کا خاکہ بنایا تھا۔ لیکن اس منصوبے میں شامل ایئربس اور ڈسالٹ جیسی کمپنیوں کے درمیان ٹیکنالوجی کی شراکت اور تجارتی معاملات پر اتفاق نہ ہو سکا۔ نتیجتاً یہ مشترکہ منصوبہ مکمل طور پر تعطل کا شکار ہو گیا اور جرمنی اب ایک نئے کنسورٹیم کے ساتھ اپنی الگ راہ اختیار کر رہا ہے۔ دفاعی امور کے ماہرین کے مطابق یہ یوروپی علیحدگی ہندوستان کے لیے ایک بڑی اسٹریٹجک کامیابی ثابت ہو سکتی ہے۔ ہندوستان اپنے مقامی ’ایڈوانسڈ میڈیم کومبیٹ ایئرکرافٹ‘ (اے ایم سی اے) پروگرام کے تحت پانچویں نسل کے جنگی طیارے تیار کر رہا ہے، لیکن چھٹی نسل کے جدید جنگی طیاروں کے لیے اسے طویل عرصے سے ایک قابل اعتماد غیر ملکی شراکت دار کی تلاش تھی۔
دفاعی شعبے میں طویل المدتی شراکت داری کے لیے سفارتی اعتماد سب سے اہم عنصر ہوتا ہے اور فرانس اس معیار پر پوری طرح پورا اترتا ہے۔ 35 ارب ڈالر کے ایک بڑے معاہدے کے تحت فرانسیسی رافیل جنگی طیاروں کی تیاری ہندوستان میں ہی کی جانی ہے۔ اس کے علاوہ فرانس جدید جیٹ انجن ٹیکنالوجی بھی ہندوستان کو منتقل کرنے جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے رواں سال فروری میں اپنی فرانسیسی ہم منصب کیتھرین ووترین کے ساتھ تفصیلی ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات میں چھٹی نسل کے جنگی طیارے کی مشترکہ تیاری کا موضوع نمایاں طور پر زیر بحث رہا۔ اس سے قبل ہندوستان نے جاپان، اٹلی اور برطانیہ کے ’گلوبل کومبیٹ ایئر پروگرام‘ (جی سی اے پی) کا بھی تکنیکی جائزہ لیا تھا، لیکن کئی ممالک کے اتحاد کے بجائے کسی ایک قابل اعتماد ملک کے ساتھ کام کرنا زیادہ محفوظ اور عملی سمجھا جا رہا ہے تاکہ آئندہ کسی باہمی اختلاف کے باعث منصوبہ درمیان میں نہ رک جائے۔
بہرحال، چھٹی نسل کے جنگی طیاروں کی تیاری کے لیے بھاری سرمایہ کاری اور انتہائی جدید تحقیق درکار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان اور فرانس کا مشترکہ طور پر کام کرنا معاشی اعتبار سے بھی فائدہ مند سمجھا جا رہا ہے۔ اس وقت دنیا کا کوئی بھی ملک چھٹی نسل کا جنگی طیارہ عملی طور پر استعمال نہیں کر رہا۔ امریکہ اپنے ’نیکسٹ جنریشن ایئر ڈومیننس‘ (این جی اے ڈی) پروگرام پر کام کر رہا ہے، جبکہ چین نے بھی حال ہی میں چند جدید ماڈلز پیش کیے ہیں۔ امریکہ، چین اور روس پہلے ہی پانچویں نسل کے اسٹیلتھ اور بھاری ہتھیاروں سے لیس جنگی طیارے استعمال کر رہے ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کے آئندہ دورۂ فرانس کے دوران دفاعی شعبہ میں مشترکہ ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ اگر یہ معاہدہ حتمی شکل اختیار کر لیتا ہے تو یہ ٹیکنالوجی فضائی میدان میں ہندوستان کی دفاعی صلاحیت اور اثر و رسوخ کو یکسر بدل سکتی ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































