
تمام تصویریں: غالب شمس
آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما کی حکومت نے 2023 میں 1,281 سرکاری امداد یافتہ مدارس کو مڈل انگلش اسکولوں میں تبدیل کرنے کا اعلان کیاتھا، اور اس مبینہ تعلیمی اصلاح کے پس پردہ بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کی بات کہی گئی تھی۔
بظاہر یہ ایک ماڈرن تعلیمی منصوبہ تھا،لیکن صوبے کے دیہی علاقوں کے حالات اور مسلم اکثریتی اضلاع کے زمینی حقائق حکومت کے اس تعلیمی منصوبہ کی سیاست اور اس کے کھیل کو بے نقاب کرتے نظر آتے ہیں ۔
اس تعلیمی اصلاح کے پس پردہ ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کا خواب دکھانے والی بی جے پی حکومت نے بچوں کو ایک طرح سے تعلیم سے ہی محروم کر دیا ہے۔
دراصل، اب تک جو بچے قدیم اور روایتی تعلیمی نظام سے فیض یاب ہو رہے تھے، وہ اس جدید تعلیمی نظام کو کئی وجہوں سے قبول نہیں کرپائے، جس کے نتیجے میں ڈراپ آؤٹ کا رجحان یہاں تشویشناک حد تک بڑھ گیا ہے۔
اس سے بڑا المیہ کیا ہوگا کہ بارپیٹا ضلع کے ایک گاؤں میں ایک عمارت، جسے مقامی لوگ اسکول بتاتے ہیں، کےصحن اور برآمدہ میں میں چھالیہ (سپاری) سکھائی جا رہی تھی۔
یہ کوئی گودام نہیں تھا، بلکہ یہ ان متعدد عمارتوں میں سے ایک ہے جن کے سائن بورڈ پر کبھی ’مدرسہ‘ لکھا ہوتاتھا۔
اب یہ بورڈ ہٹا دیے گئے ہیں، ان کی پہچان بدل دی گئی ہے۔ لیکن ان عمارتوں کی خستہ حالی، بدنظمی اور درس و تدریس کے لیےمخصوص کمروں کی ویرانی حکومت کے نئے تعلیمی نظام اور نام نہاد ’جدید کاری‘ کے دعووں کی قلعی کھولتی ہے۔
اسکول کےصحن اور برآمدہ میں میں چھالیہ (سپاری) سکھائی جا رہی ہے۔
حکومت کے دعووں کے برعکس، ان اداروں میں تعلیمی سطح پر کوئی انقلاب نہیں آیا ہے۔
گوالپارہ ضلع کا ایک سرکاری مدرسہ ،جو اب ایم ای اسکول ہے، اس کے ایک سینئر استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت نے مدرسوں کے تعلیمی ماڈل کو بہتر بنانے کے بجائے ماڈرن ایجوکیشن کے نام پر ان کی مذہبی شناخت پر سیاسی ضرب لگائی ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ،باہر سے دیکھنےپر ایسا لگتا ہے کہ ایک بڑی تعلیمی اصلاح عمل میں آئی ہے۔مگرحقیقت یہ ہے کہ عمارت وہی ہے، کلاس رومز وہی ہیں اور زیادہ تر اساتذہ بھی وہی ہیں۔ تبدیلی کے نام پر بس یہ ہوا ہے کہ ہمارے ادارے کو نیا نام مل گیا ہے اور مذہبی تعلیم کو نصاب سے ہٹا دیا گیا ہے۔
ان کی مانیں تو مسئلہ کبھی عصری تعلیم کا تھا ہی نہیں۔یہاں پہلے ہی ریاضی، سائنس، انگریزی اور ریاستی نصاب پڑھائے جا رہے تھے۔ طلبہ مذہبی علوم کے ساتھ جدید اور عصری تعلیم حاصل کر رہے تھے۔
وہ سوال اٹھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر حکومت کا مقصد تعلیمی معیار کو بہتر بنانا تھا، تو وہ اساتذہ کو اس حوالے سے ٹریننگ دے سکتی تھی اور انفراسٹرکچر کو بہتر کر سکتی تھی۔ لیکن یہ سب عملی اور مثبت اقدامات نہیں کیے گئے اور ایک مخصوص مذہب کو بدنام کرنے کی سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہوئے ہندوتوا کی سیاست نے وہی کیا، جس کے لیے ملک بھر میں اس کی پہچان ہے۔
اسی طرح بارپیٹا میں واقع ’بردالونی سسرا سینئر مدرسہ‘ بھی اب ایک عام سرکاری اسکول ہے۔ یہاں کے 15 سالہ طالبعلم مومن (فرضی نام) کے لیے یہ تبدیلی کتابوں اور نئے مضامین سے زیادہ مذہبی تشخص کو مٹانے کی کوشش ہے۔ وہ کہتے ہیں؛
پہلے یہاں سائنس اور دوسرے عصری علوم کے ساتھ مذہبی اور اخلاقی تربیت پر بھی زور دیا جاتا تھا۔ اب سب کچھ بدل گیا ہے۔ نصاب تو وہی ہے جو دوسرے عام سرکاری اسکولوں کا حصہ ہے، لیکن وہ اخلاقی تربیت جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے کبھی اپنی زمینیں وقف کی تھیں … (ایک لمحے کی خاموشی کے بعد) … اوربعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تبدیلی کے نام پر ہمارا تشخص ہی ہم سے چھین لیا گیا ہے۔
کم و بیش اسی طرح کے احساس کا اظہار گوالپارہ کے ’کٹاری ہارا ہائی اسکول‘کی طالبات بھی کرتی ہیں۔وہ ایک طرح سے مومن کی باتوں کی تصدیق کرتی ہیں، اور کہتی ہیں کہ اگر ہم اس تبدیلی کو انتظامی اقدامات تک ہی محدود رکھیں تو تعلیم کے معیار میں کوئی بہتری نہیں آئی، البتہ بے جا سختیوں اور بے توجہی نے ہمارے لیے تعلیم کو جاری رکھنامحال کر دیا ہے۔
کٹاری ہارا ہائی اسکول
غور طلب ہے کہ اس تبدیلی کا سب سے المناک پہلو ان ہزاروں طالبات کا ڈراپ آؤٹ ہے، جن کے لیے کبھی یہ تعلیمی ادارے مدارس کی صورت میں ایک محفوظ سماجی اور تہذیبی پناہ گاہ تھے۔
آسام کے مسلم اکثریتی ریتیلے جزیروں (چار) کا دورہ کریں، تو یہی المیہ ہربچی کا مقدرنظر آتا ہے۔
بارپیٹا کے ایک دور افتادہ گاؤں میں 13 سالہ طالبہ زینب (فرضی نام) کے والد برہم پترا ندی کے کنارے یومیہ اجرت پر کام کرتے ہیں، اس تبدیلی کے بعد انہوں نے زینب کو اسکول بھیجنا بند کر دیا ہے۔افسوس کا اظہار کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں؛
ہم نے اپنی بیٹی کو مدرسہ اس لیے بھیجا تھا کہ وہ عصری تعلیم کے ساتھ قرآن اور اسلامی فقہ کی بنیادی تعلیم حاصل کر لے گی۔ اب چونکہ وہ تعلیمی نظام ہی ختم کر دیا گیا ہے، تو ہم اسے ایک عام سے اسکول کے کھلے ماحول میں نہیں بھیج سکتے۔
دراصل مدرسہ اور اسکول کی تعلیمی فضا کو لے کر کئی لوگوں کے اپنے خدشات ہیں ،ایسے میں ان کی باتیں سنتے ہوئے محسوس ہوتاہے کہ حکومت کو پہلے حاشیے کے اس سماج کو اپنے اعتماد میں لینا چاہیے تھااورتبدیلی کے عمل میں مدرسہ کو براہ راست اسکول میں تبدیل کرنے کے بجائے مدارس کے تعلیمی نظام کو ہی بہتر بنانے اور اپ -گریڈ کرنے پر زور دینا چاہیے تھا۔
یہاں کسی بیٹی کے باپ کے خدشات یوں ہی نہیں ہیں۔ اساتذہ بتاتے ہیں کہ بعض اسکولوں میں ’یونیفارم کوڈ‘ کی سخت پابندی کے نام پر نقاب یا حجاب کو قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں قدامت پسند گھرانے اپنی بچیوں کو اسکول نہیں بھیجنا چاہتے۔
ان باتوں کی تصدیق پینل آف انٹرنیشنل انڈیپنڈنٹ ایکسپرٹس(پی آئی آئی ای) کی رپورٹ (ص: 325) سے بھی ہوتی ہے۔
یہ رپورٹ واضح کرتی ہے کہ آسام کے سرکاری مدارس میں تبدیلی کے عمل نے تقریباً 98,000 طلبہ کو متاثر کیا ہے، جن میں اکثریت لڑکیوں کی ہے۔
واضح ہو کہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیارات—خصوصاً خواتین کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کے خاتمے کے کنونشن یعنی کنونشن آن دی الیمنیشن آف آل فارمز آف ڈسکریمنیشن اگینسٹ ویمن (سی ای ڈی اے ڈبلیو)اور بچوں کے حقوق کے کنونشن یعنی کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ (سی آر سی)کے تحت ریاستیں پابند ہیں کہ وہ طالبات کے لیے سازگار ماحول پیدا کریں، نہ کہ ایسی پالیسیاں لائیں جو ان کے تعلیمی اخراج کا سبب بنیں۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر کہا جا سکتا ہے کہ ہمنتا کی حکومت نے صرف اور صرف متعصب سیاست کی ہے اور بعض عملی باتوں پر بھی غور نہیں کیا۔
اور ایسا بھی نہیں ہے کہ لوگوں نے حکومت کے سامنے اپنی باتیں نہیں رکھی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ حکومت پولرائزیشن کی سیاست کرتی ہے اور مسلمانوں کے خلاف کھلم کھلا بیان بازی کرتی ہے، ایسے میں سمجھا جا سکتا ہے کہ اس حکومت کی منشا اول و آخر کیا ہے۔
گوالپارہ ضلع کی بات کریں تو یہاں ڈھکالیا پارا میں ایک سرکاری مدرسے کے بانی اور سابق ہائی اسکول ٹیچر صدیق حسن آج بھی اس متعصب سیاست کے صدمے سے باہر نہیں آئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں؛
جب اس مدرسے کو اسکول میں بدلا گیا تو پورا گاؤں صدمے میں تھا۔ گاؤں کے لوگوں نے متحد ہو کر ڈپٹی کمشنر اور مقامی ایم ایل اے کو عرضداشت جمع کرائی کہ مدرسے کو بند نہ کیا جائے۔ لیکن حکام نے ہماری ایک نہیں سنی۔
صدیق حسن حکومت کے بیانیہ کو سختی سے مسترد کرتے ہیں؛
یہ سرکاری مدارس تھے۔ عربی اور اسلامیات کے ساتھ طلبہ کو مکمل سرکاری نصاب بھی پڑھایا جاتا تھا تاکہ بچے روایات سے بھی وابستہ رہیں اور جدید تعلیم بھی حاصل کریں۔
اب صورتحال یہ ہے کہ کئی اداروں کے بند ہونے کی باتیں کہی جا رہی ہیں۔ عصری مضامین اور انگریزی کے اساتذہ کی اسامیاں خالی پڑی ہیں، اس لیےایسےاساتذہ جنہیں بنیادی طور پر مذہبی تعلیم کے لیے بحال کیا گیا تھا، اب اپنے مضامین سے الگ نصاب پڑھانے کو مجبور ہیں۔
بتایا جاتا ہے کہ اس صورتحال نے تعلیمی معیار کا جنازہ نکال دیا ہے۔
حتیٰ کہ نئے تعلیمی نظام کے بعد داخلے کی شرح میں غیر معمولی کمی کا مشاہدہ کیا گیا ہے اور کئی جگہوں پر حکومت کو انہیں بند کر کے ضم کرنا پڑا ہے۔
آسام کے ڈائریکٹوریٹ آف ایلیمنٹری ایجوکیشن (ڈی ای ای)کے جنوری 2026 کےحکم نامےکے مطابق، 91 لوئر پرائمری اور مڈل انگلش اسکولوں کو انضمام کے لیے نامزد کیا گیا۔ یہ رجحان نیا نہیں، گزشتہ پانچ سالوں میں ریاست بھر میں کل 2,980 اسکولوں کو ضم کیا گیا ہے (جن میں 21 اضلاع کے 206 سیکنڈری اور 2,774 پرائمری اسکول شامل ہیں)۔
بہرحال ، اب بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ایک تعلیمی پالیسی محض تھی؟
پی آئی آئی ای کی رپورٹ (ص: 87) اس کا جواب نفی میں دیتی ہے۔
رپورٹ بتاتی ہے کہ حکومت نے 2021 کے قانون کے تحت 620 سرکاری امداد یافتہ مدارس کو بند کر کے عام اسکولوں میں بدلا، لیکن ٹھیک اسی مدت میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والے 97 سنسکرت اداروں کو باقاعدہ اپ-گریڈ کیا گیا۔
یہ صریح تضاد مساوی سلوک کے دعووں کو باطل کر دیتا ہے۔ بتادیں کہ مارچ 2023 میں وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا شرما نے تمام مدارس کو مکمل طور پر بند کرنے کے ارادے کا بھی اظہار کیا تھا۔

دھوبری ضلع کے آنند نگر اور بین سار جیسے علاقوں میں اس پالیسی نے صدیوں پرانے سماجی تانے بانے کو ادھیڑ دیا ہے۔ مقامی عالم دین مولانا عبد الماجد کے مطابق، اساتذہ اور کمیونٹی میں ایک گہرا عدم تحفظ ہے۔
متاثرین سے بات چیت کے دوران ہمارا تجربہ بھی یہی تھاکہ اساتذہ خوف میں مبتلا ہیں۔
واضح لفظوں میں کہا جائے تو نوکری جانے اور شہریت کے تنازعہ میں الجھائے جانے کے خوف سے وہ اس موضوع پر کوئی بات نہیں کرنا چاہتے۔
وہیں،یہاں نفسیاتی خوف کا سایہ اس قدر گہرا نظر آیا کہ کئی تعلیمی اداروں میں کیمرہ دیکھتے ہی اساتذہ نے تصویر اتارنے سے منع کر دیا۔ بعض مقامات پر پولیس اہلکار بھی نگرانی کرتےنظر آئے،جنہوں نے آگے بڑھ کر ہمیں فوٹوگرافی سے روک دیا۔
کئی جگہوں پر یہ بھی محسوس ہوا کہ انہیں کیمرے سے زیادہ اس ہمہ وقت ریاستی نگرانی اور متوقع کارروائی کا خوف ہے، جس نے نہ صرف ان تعلیمی اداروں کی پہچان بدل دی ہے بلکہ تعلیمی فضا کی بے تکلفی، خوداعتمادی اور کھلے پن کو بھی محدود کر دیا ہے
دریں اثنا،ایک ماہر تعلیم نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ جب تک اساتذہ کی پرانی نسل نوکری میں ہے، ایک حد تک ایسےلوگ نظر آسکتے ہیں جو اقلیت سے تعلق رکھتےہیں۔ لیکن بھرتی کے نئے قواعد اس قدر سخت اور انتخابی ہو چکے ہیں کہ مستقبل میں ان اداروں سے اقلیت کی نمائندگی بتدریج ختم ہو سکتی ہے۔
پی آئی آئی ای کی رپورٹ کے ص؛ 145-146 پر اس صورتحال کو مسلمانوں کی ’سماجی اور تعلیمی موجودگی کو مشتبہ بنانے‘کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں سابق آرمی آفیسر اور آسام کی بنگالی مسلم کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے فیضان الحق بھی حکومت کی منشا پر سوال اٹھاتے ہیں؛
اگر حکومت کا مقصد واقعی مسلمانوں کے درمیان جدید تعلیم کو فروغ دینا تھا، تو وہ دہائیوں سے اس کمیونٹی کی خدمت کرنے والے اداروں کو ختم کرنے کے بجائے بہتر انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرتی۔
وہیں،آل آسام تنظیم مدارس قومیہ کے جنرل سکریٹری اور جمعیۃ علماء آسام کے ایڈیشنل جنرل سکریٹری عبد القادر قاسمی اسے ایک سیاسی ایجنڈا مانتے ہیں، وہ کہتے ہیں؛
یہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے۔ انتخابی مہم کے دوران مدارس کے بارے میں خوب بیان بازی کی گئی۔ اب جبکہ انتخابات ختم ہو چکے ہیں، یہ بحث عوامی مباحثے سے غائب ہو گئی ہے۔
جب ان سے نجی مدارس کے مستقبل کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا؛
مدارس کا وجود حکومت پر منحصر نہیں ہے۔ وہ انہیں اتنی آسانی سے ختم نہیں کر سکتے۔ ہم شریعت کے تقاضوں کی پیروی کے ساتھ ساتھ آئین ہند کا احترام کرنے کے پابند ہیں۔ اگر ہمارے اداروں کو غیر منصفانہ پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تو ہم عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ ہمیں عدلیہ پر بھروسہ ہے۔
بہرحال، اس وقت آسام میں تعلیمی اصلاحات کی سچائی یہی ہے کہ مدارس کو اسکول میں تبدیل کرتے ہوئے ایک بڑی اقلیتی برادری کے تشخص کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش حکومت کی جانب سےکی گئی ہے۔
اور اب یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ جدیدکاری کے نام پر اس پسماندہ کمیونٹی کی شناخت مٹائی گئی ہے۔ آج وہ دانش کدے، جہاں کبھی علم و تہذیب کے سوتے پھوٹتے تھے، ویران پڑے ہیں، اور ان میں سپاری سکھائی جا رہی ہے۔
نفرت اور تعصب کی اس سیاست کے درمیان المیہ یہ بھی ہے کہ بچوں کو ڈاکٹر اور انجینئر بننے کے خواب دکھانے والے ان اداروں میں اپنے اپنے مضامین کے اساتذہ تک نہیں ہیں۔






