چار سال سے زیادہ سے جیل میں بند کشمیری ایکٹوسٹ خرم پرویز کو این آئی اے کیس میں ضمانت ملی

AhmadJunaidJ&K News urduJune 11, 2026363 Views


کشمیر کے معروف انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کو دہلی ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی ہے۔ این آئی اے نے خرم پرویز کے دفتر پر چھاپے ماری کے بعد 22 نومبر 2021 کو انہیں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا تھا، جس پر اقوام متحدہ سمیت کئی عالمی تنظیموں نے اعتراض کیا تھا۔

خرم پرویز۔تصویر بہ شکریہ: فیس بک/ یو این جنیوا

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے بدھ (10 جون) کو کشمیر کے معروف انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز کو ضمانت دے دی۔ یہ راحت اس کیس میں ملی ہے جس میں این آئی اے نے خرم پرویز کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت کارروائی کی تھی۔

معلوم ہو کہ این آئی اے نے خرم پرویز کے دفتر پر چھاپے ماری کے بعد 22 نومبر 2021 کو انہیں یو اے پی اے کے تحت گرفتار کیا تھا، جس پر اقوام متحدہ سمیت کئی بین الاقوامی تنظیموں نے اعتراض کیا تھا۔

لائیو لا کی رپورٹ کے مطابق، جسٹس نوین چاولہ اور جسٹس جسٹس رویندر دوڈیجہ کی ڈویژن بنچ نے خرم پرویز کی اس اپیل کو منظوری دے دی، جس میں انہوں نے ٹرائل کورٹ کے 17 دسمبر 2024 کے اس فیصلےکو چیلنج کیا تھا جس میں انہیں ضمانت دینے سے انکار کر دیا گیا تھا۔

بنچ نے کہا، ’ہم نے متعدد شرائط کے ساتھ ضمانت دی ہے۔‘

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، خرم پرویز کے خلاف یو اے پی اے کے تحت سنگین دفعات عائد کی گئی ہیں۔ ان پر یو اے پی اے کی دفعہ 17 (دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے فنڈ جمع کرنا)، دفعہ 18 (سازش کرنا)، دفعہ 18بی(دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے افراد کو تیار یا بھرتی کرنا)، دفعہ 38 (کسی دہشت گرد تنظیم کا رکن ہونا) اور دفعہ 40 (دہشت گرد تنظیم کے لیے فنڈ اکٹھا کرنا) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

سال2021سے پہلے خرم پرویز کو سال 2016 میں بھی اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب کشمیر میں برہان وانی کی ایک جھڑپ میں ہلاکت کے بعد کئی دنوں تک تشدد جاری رہا تھا۔ اس وقت خرم پرویز اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے جنیوا جا رہے تھے کہ انہیں دہلی کے اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس وقت محبوبہ مفتی ریاست کی وزیر اعلیٰ تھیں اور خرم پرویز پر پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) نافذ کیا گیا تھا۔ خرم کو دو ماہ سے زیادہ عرصے تک جیل میں رہنا پڑا تھا۔ بعد میں عدالت سے انہیں راحت ملی اور عدالتی حکم پر ان کے خلاف نافذ پی ایس اے واپس لے لیا گیا۔

اس سے قبل سال 2004 میں خرم پرویز کی گاڑی شمالی کشمیر کے لولاب علاقے میں ایک دھماکے کی زد میں آ گئی تھی، جب وہ اس وقت ہونے والے انتخابات کی نگرانی کر رہے تھے۔ اس دھماکے میں ان کی ایک ٹانگ کٹ گئی تھی، جبکہ ان کی ساتھی آسیہ جیلانی شدید زخمی ہو گئی تھیں اور بعد میں ان کی موت ہو گئی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ 2023 میں خرم پرویز کو مارٹن اینلز ایوارڈ 2023 کے تین فاتحین میں سے ایک منتخب کیا گیا تھا۔ یہ ایوارڈ ایک معروف برطانوی انسانی حقوق کے کارکن کے نام پر رکھا گیا ہے اور ان بہترین کارکنوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے انسانی حقوق کے میدان میں نمایاں اور نئےاقدامات کیے ہوں۔

اس سے قبل 2006 میں خرم پرویز کو ری باک ہیومن رائٹس ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ یہ ایوارڈ 30 سال سے کم عمر کے ایسے شخص کو دیا جاتا ہے جس نے عدم تشدد کے اصولوں کی پیروی کرتے ہوئے انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی ہو۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...