تمل ناڈو میں کمل کھلنے سے قبل ہی کیچڑ خشک ہو گیا…ہیل انجم

AhmadJunaidJ&K News urduJune 7, 2026362 Views


بہرحال ان کی کوششوں سے ریاست میں بی جے پی کو قدم جمانے کا موقع مل رہا تھا۔ 2022کے شہری بلدیاتی انتخابات ان کی قیادت میں لڑے گئے۔ بی جے پی چنئی کے بیس وارڈوں میں دوسری پوزیشن پر رہی۔ نتائج آنے کے بعد بی جے پی کے لیڈر کہنے لگے تھے کہ پارٹی ریاست میں کافی مضبوط ہو رہی ہے۔ ان انتخابی نتائج نے بی جے پی میں خوداعتمادی پیدا کر دی۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں اس کو گیارہ فیصد ووٹ ملے۔ لیکن وہ ایک بھی سیٹ جیتنے میں ناکام رہی۔ اب جبکہ اناملائی نے استعفیٰ دے دیا ہے تو آنے والے بلدیاتی انتخابات میں ان کے حامیوں کا الیکشن لڑنے کا قوی امکان ہے۔

اناملائی کے استعفیٰ کے بعد متعدد بی جے پی لیڈران دعویٰ کر رہے ہیں کہ اس سے پارٹی کے امکانات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس منظرنامہ پیش کر رہے ہیں۔ ایسی خبریں ہیں کہ بڑی تعداد میں ان کے حامی بی جے پی چھوڑ چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے اس کااثر بی جے پی پر تو پڑنا ہی ہے۔ بی جے پی کے بعض رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے کسی عوامی تحریک کی یعنی اناملائی کی تحریک کی حمایت نہیں کی ہے۔ یہ بیان چغلی کھا رہا ہے کہ ان کے جانے سے بی جے پی یقیناً پریشان ہے۔ وہ پہلے سے ہی استعفیٰ دینا چاہ رہے تھے۔ انھوں نے دسمبر 2025 ہی میں پارٹی اعلیٰ کمان سے کہہ دیا تھا کہ وہ پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ لیکن یہ کہہ کر ان کو روکا گیا کہ اس سے بی جے پی کے انتخابی امکانات پر اثر پڑے گا اس لیے وہ انتخابات تک رک جائیں۔

0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Previous Post

Next Post

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...