برطانیہ میں پاکستانی گرومنگ گینگ کے مظالم، 700 مردوں نے کی عصمت دری

AhmadJunaidJ&K News urduJune 3, 2026360 Views


برطانوی پارلیمنٹ میں گرومنگ گینگز کے حوالے سے نئے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ایم پی روپرٹ لو نے پارلیمنٹ میں متاثرین کی دردناک کہانیاں پڑھ کر سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>

i

user

google_preferred_badge

برطانوی پارلیمنٹ میں گرومنگ گینگز کا دیرینہ تنازعہ ایک بار پھر بھڑک اٹھا ہے۔ برطانوی رکن پارلیمنٹ روپرٹ لو نے پارلیمنٹ میں ایک چونکا دینے والی تقریر کی، اس ہولناک زیادتی سے بچ جانے والے بہادروں کی شہادتیں پڑھ کر سنائیں۔

لو نے ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ ان متاثرین کی دردناک کہانیاں سنیں اور سخت کارروائی کریں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ گزشتہ سال ان کی سربراہی میں ہونے والی نجی تحقیقات میں برطانیہ کے کم از کم 85 علاقوں میں اس طرح کے گینگ پر مبنی بچوں کے جنسی استحصال کی نشاندہی کی گئی۔

ایم پی لو کے مطابق، یہ “ریپ گینگ”، جو بنیادی طور پر پاکستانی نژاد مردوں پر مشتمل ہے، کئی دہائیوں سے سرگرم ہیں۔ ایم پی لو نے جو بیان پارلیمنٹ میں پڑھے وہ رونگٹے کھڑے کردینے والے تھے۔ ایک متاثرہ نے بتایا، “جب میں 12 یا 13 سال کی تھی، ایک شخص نے میرا ریپ کیا، اس کے بعد اس نے میرے جسم میں جیک ڈینیئلز کی  شراب کی ایک خالی بوتل ڈالی، جس کا  شیشہ اندر ہی  ٹوٹ گیا۔” ایک اور متاثرہ نے بتایا، “یہ سب تب شروع ہوا جب میں 13 سال کی تھی۔ تین سالوں کے دوران تقریباً 600 سے 700 مختلف مردوں نے میرے ساتھ زیادتی کی۔”

ایک متاثرہ کے مطابق، “عید اور دیگر تعطیلات کے دوران بدسلوکی میں نمایاں اضافہ ہو جاتا تھا۔ بڑی  پارٹیاں ، زیادہ پرتشدد اور زیادہ خطرناک ہو جاتی تھیں، جن میں بہت سی لڑکیوں کو بھی شامل کیا جاتا تھا۔”ایک خاتون نے گواہی دی کہ اس نے 15 سے 20 خواتین کو پنجروں میں بند دیکھا۔ ایک اور متاثرہ نے بتایا کہ اسے جانوروں پر ظلم کرنے پر مجبور کیا گیا، اور مدد کرنے کے بجائے، لوگوں نے ہنس کر اسے فلمایا۔

متاثرین نے الزام لگایا کہ ملزمان نے ان کی نسل اور مذہب کو استعمال کرتے ہوئے انہیں ذہنی طور پر توڑ دیا۔ ایک متاثرہ نے کہا، “وہ مسلسل کہتے تھے کہ سفید فام اور عیسائی لڑکیوں کا کوئی کردار یا قدر نہیں ہے، جب کہ مسلمان لڑکیوں کا وقار اور اعلیٰ مقام ہے۔ انہوں نے اس طرح کے موازنہ کا استعمال کرتے ہوئے ہمارے ساتھ کیے گئے ناروا سلوک کو جائز قرار دیا۔” ایک اور متاثرہ نے بتایا کہ جب اس نے اپنی مقدس صلیب کا نیکلیس اپنے گلے میں پہنتی تو اس کا مذاق اڑایا گیا۔ ملزم اس سے پوچھتا، “اب تمہارا خدا کہاں ہے؟ کیا تمہارے خدا نے تمہیں چھوڑ دیا ہے؟”

ممبر پارلیمنٹ کے بیانات میں پولیس اور صحت کے نظام پر بھی سنگین الزامات لگائے گئے ہیں۔ ایک متاثرہ نے دعویٰ کیا، “بدسلوکی کے دوران، ملک کے مختلف حصوں میں کئی پولیس افسران نے مجھے بھی زیادتی کا نشانہ بنایا۔”

ایک متاثرہ نے کہا، “جب میں 15 سال کی تھی، مجھے بہت زیادہ خون بہہ رہا تھا اور میں بیٹھ بھی نہیں سکتی تھی۔ جب میں اسپتال گئی تو میں اتنی خوفزدہ تھی کہ میں نے سچ نہیں بتایا اور کہا کہ میرے مشروب میں کچھ ملا ہوا تھا۔ ڈاکٹروں نے مجھے کچھ دوائیں دیں اور بغیر کوئی سوال پوچھے ڈسچارج کر دیا۔”

برطانیہ میں، “گرومنگ گینگز” کی اصطلاح سے مراد ایسے معاملات ہیں جہاں کمزور اور بے دفاع بچوں یا نوعمروں کو جنسی استحصال کے طویل عرصے تک متعدد مردوں کے ذریعے لالچ دیا جاتا ہے، نشہ دیا جاتا ہے یا ڈرایا جاتا ہے۔ یہ اسکینڈل رودرہیم، روچڈیل اور اولڈہیم جیسے شہروں میں تحقیقات کے بعد سامنے آیا تھا۔ ایم پی روپرٹ لو نے اپنی تقریر میں کہا کہ آنے والے دنوں میں جاری ہونے والی اس آزاد تحقیقات کی مکمل رپورٹ برطانیہ کو ہمیشہ کے لیے بدل دے گی۔ انہوں نے تمام ارکان پارلیمنٹ پر زور دیا کہ وہ اس سمت میں فوری، ٹھوس کارروائی کریں۔ (بشکریہ نیوز پورٹل ‘آج تک‘)

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...