
درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہونے سے قبل میں نے برسوں دشت صحافت کی خاک چھانی۔ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا، دونوں سے وابستگی رہی۔ عملی اور صحافتی زندگی کا آغاز اردو روزنامہ ’راشٹریہ سہارا‘ سے کیا، جس کے بعد ’عالمی سہارا اردو‘ چینل اور پھر ’ڈی ڈی اردو‘ سے تقریباً 10 برس تک وابستہ رہا۔ ’راشٹریہ سہارا‘ سے یہ انسلاک میرے لیے انتہائی خوشگوار تجربہ ثابت ہوا۔ پڑھنا، لکھنا اور علمی و ادبی شخصیات سے ملاقات ہمیشہ میرے لیے قلبی مسرت کا باعث رہے ہیں اور خوش قسمتی سے صحافت کا پیشہ ان تینوں عناصر کا حسین امتزاج ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ صحافت سے میری وابستگی شوقیہ نہ تھی، خانگی حالات اور معاشی تقاضے مجھے اس میدان میں لے آئے تھے۔ یہی سبب ہے کہ تقریباً 18 برس تک صحافت سے وابستہ رہنے کے باوجود میرا دل درس و تدریس ہی کی طرف مائل رہا۔ چنانچہ جب فضل باری تعالیٰ سے اسسٹنٹ پروفیسر کے منصب پر تقرری عمل میں آئی تو یوں محسوس ہوا جیسے میری ایک دیرینہ آرزو کو تعبیر مل گئی ہو۔
اگرچہ دہلی سے ایک گہری وابستگی قائم ہو چکی تھی، لیکن تعلیم و تعلم کا میدان اپنی روحانیت، تقدس اور معنویت کے اعتبار سے ہمیشہ میرے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ یہ محض معلومات کی منتقلی کا نام نہیں، بلکہ انسانی اذہان و افکار کی تربیت، کردار کی تعمیر و تشکیل اور معاشرے کی اصلاح کا ایک مقدس فریضہ ہے جسے انبیائے کرام علیہم السلام کی سنت سے نسبت حاصل ہے۔ شاید یہی سبب ہے کہ یہ پیشہ مجھے بے حد عزیز ہے اور اس کے لیے میں ہر دوسری مصروفیت اور پیشے کو ترک کرنے کے لیے آمادہ ہوں۔






