جلد ہی آپ کی جیب میں موجود کاغذ کے نوٹوں کی جگہ پلاسٹک کے نوٹ لے سکتے ہیں۔ ’ریزرو بینک آف انڈیا‘ (آر بی آئی) پلاسٹک (پالیمر) کرنسی نوٹ متعارف کرانے پر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ غور و خوض کر رہا ہے۔ حال ہی میں پٹنہ اور ممبئی میں منعقدہ مرکزی بینک کی بورڈ میٹنگوں میں اس معاملے پر سنجیدہ تبادلۂ خیال ہوا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران نقدی کی بڑھتی ہوئی طلب، کاغذی نوٹوں کی چھپائی پر آنے والا خرچ اور ان کے جلد خراب ہو جانے کے مسئلے کو دیکھتے ہوئے یہ قدم اٹھانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ جلد ہی عوام کے لیے پلاسٹک نوٹوں کا ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا جائے گا۔
آر بی آئی کی تازہ سالانہ رپورٹ کے مطابق کاغذی نوٹوں کی چھپائی پر 6372.8 کروڑ روپے خرچ ہوئے، جو گزشتہ مالی سال کے 5101.4 کروڑ روپے کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں۔ نوٹوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے سبب چھپائی کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ اس معاملے سے تعلق رکھنے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں پلاسٹک نوٹ طویل مدت میں زیادہ کفایتی ثابت ہوتے ہیں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب ملک کے اے ٹی ایم بھی اتنے جدید ہو چکے ہیں کہ وہ پالیمر نوٹوں کو آسانی سے پہچان کر جاری کر سکتے ہیں۔
عام طور پر لوگوں کی جیبوں میں آنے والے نوٹ اکثر میلے یا پھٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ ایسے خراب نوٹوں کو تلف کرنا بھی آر بی آئی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ مالی سال 2025 کے دوران 23.8 ارب خراب نوٹوں کو گردش سے باہر کیا گیا، جو گزشتہ سال کے 21.24 ارب نوٹوں کے مقابلے میں 12.3 فیصد زیادہ ہے۔ ان میں سب سے زیادہ 500 روپے کے نوٹ شامل تھے، جبکہ اس کے بعد 100 روپے کے نوٹوں کی تعداد رہی۔
ڈیجیٹل ادائیگیوں میں اضافے کے باوجود ملک میں نقدی کا استعمال کم نہیں ہوا ہے۔ 15 مئی تک گردش میں موجود مجموعی کرنسی (سی آئی سی) سالانہ بنیاد پر 11.5 فیصد بڑھ کر 42.86 لاکھ کروڑ روپے کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی۔ ایسے میں پلاسٹک نوٹوں کی عمر کاغذی نوٹوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہونے کے باعث بار بار نئے نوٹ چھاپنے کا دباؤ کم ہو جائے گا۔ توجہ طلب ہے کہ بازار میں 10 اور 20 روپے جیسے چھوٹے نوٹوں کی طلب ہمیشہ برقرار رہتی ہے، اگرچہ مجموعی کرنسی میں ان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ مرکزی بینک نے سکوں کے استعمال کو فروغ دینے کی کئی کوششیں کیں، لیکن مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔
واضح رہے کہ 2012 میں اُس وقت کی حکومت نے 5 شہروں میں 10 روپے کے ایک ارب پلاسٹک نوٹوں کا فیلڈ ٹرائل شروع کیا تھا۔ اُس وقت مقصد نوٹوں کی عمر بڑھانا تھا، لیکن تکنیکی مسائل کے سبب یہ منصوبہ روک دیا گیا تھا۔ اب ایک دہائی بعد حالات کافی بدل چکے ہیں اور ٹیکنالوجی پہلے سے کہیں زیادہ جدید ہو گئی ہے، جس کے باعث پرانی رکاوٹیں تقریباً ختم ہو چکی ہیں۔
پلاسٹک نوٹوں کا تصور عالمی سطح پر نیا نہیں ہے۔ اس وقت دنیا کے تقریباً 60 ممالک پالیمر بینک نوٹ استعمال کر رہے ہیں۔ اس سلسلے کی شروعات 1988 میں آسٹریلیا نے 10 ڈالر کا پلاسٹک نوٹ جاری کر کے کی تھی۔ اس کے بعد سنگاپور، انڈونیشیا، تھائی لینڈ اور ملیشیا سمیت کئی ممالک نے اسے اختیار کیا۔ یورپ میں رومانیہ نے 1998 میں سب سے پہلے پلاسٹک نوٹ متعارف کرائے، جبکہ کناڈا نے 2011 میں انہیں اپنے مالیاتی نظام کا حصہ بنایا۔ دوسری جانب امریکی ڈالر مکمل طور پر پلاسٹک کے نہیں ہوتے بلکہ وہ کاٹن اور لینن کے ایک خاص مرکب سے تیار کیے جاتے ہیں۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔





































