
اس عارضی معاہدے میں بنیادی طور پر 5 اہم نکات کیے گئے ہیں، جو اس طرح ہیں:
ایران 60 دنوں تک آبنائے ہرمز کو بند نہیں کرے گا اور وہاں سے تیل و گیس کی معمول کی تجارت جاری رہے گی۔ اس کے بدلے امریکہ نے ایران پر عائد بعض فوری پابندیوں میں نرمی کا وعدہ کیا ہے۔
دونوں ممالک 60 دنوں تک ایک دوسرے پر ڈرون یا میزائل حملے نہیں کریں گے۔ اس دوران ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) اور امریکی فوج کے درمیان براہ راست تصادم سے گریز کیا جائے گا۔
ایران نے اپنے جوہری پروگرام میں مزید شفافیت لانے اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے معائنہ کاروں کو زیادہ رسائی دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکہ نے مکمل جوہری معاہدے (جے سی پی او اے) کی بحالی کی سمت میں پیش رفت کا اشارہ دیا ہے۔
ایران نے اپنے حمایت یافتہ گروہوں، جیسے حزب اللہ اور حوثیوں، کو امریکی اڈوں پر حملے نہ کرنے کی ہدایت دینے کا وعدہ کیا ہے۔
ایران کو محدود مقدار میں تیل برآمد کرنے کی اجازت دی جائے گی، تاکہ اس کی معیشت کو فوری راحت مل سکے۔






