
ابھشیک منو سنگھوی نے کہا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ واضح کیا ہے کہ شہریت کے معاملے میں حتمی فیصلہ لینے کا اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں ہے۔ ان کے مطابق شہریت ایک قانونی معاملہ ہے، جس پر فیصلہ کرنے کی مجاز اتھارٹی وزارت داخلہ یا متعلقہ بااختیار ادارے ہیں۔ الیکشن کمیشن صرف انتظامی سطح پر اس معاملے کو دیکھ سکتا ہے۔
کانگریس نے سوال اٹھایا کہ اگر شہریت کا حتمی فیصلہ مجاز اداروں کے دائرۂ اختیار میں آتا ہے تو پھر مختلف ریاستوں میں کروڑوں لوگوں کے نام ووٹر فہرستوں سے کیسے ہٹائے گئے۔ پارٹی کے مطابق تقریباً سات کروڑ پچاس لاکھ افراد کے ووٹنگ حقوق ایسے ادارے کے ذریعے متاثر ہوئے جسے اس حوالے سے مکمل اختیار حاصل نہیں تھا۔






