مسجد الحرام کی وہ جگہ، جہاں 1276 سالوں سے تکبیریں گونج رہی ہیں

AhmadJunaidJ&K News urduMay 26, 2026363 Views


’مکبریہ‘ مسجد الحرام کے اندر ایک مخصوص جگہ ہے جو اذان دینے اور مسجد حرام کے ائمہ کے پیچھے تکبیر، رکوع، سجدہ، سلام اور متعدد مذہبی شعائر سے وابستہ بہت سی پکاروں کو دہرانے کے لیے وقف ہے۔

<div class="paragraphs"><p>مسجد الحرام کا مکبریہ، تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>مسجد الحرام کا مکبریہ، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

google_preferred_badge

مسجد الحرام کا ’مکبریہ‘ سن 91 ہجری میں اموی سلطنت کے دور میں خلیفہ عمر بن عبد العزیز کے عہد میں اپنے قیام کے وقت سے لے کر آج تک ایک ایسا پلیٹ فارم رہا ہے جو حرمین شریفین کی تاریخ سے جڑا ہوا ہے۔ 1276 سال سے زائد عرصے سے مکبریہ سے اب بھی تکبیر، تہلیل اور تسبیح کی آوازیں گونج رہی ہیں۔ یہ ایک ایسا ایمانی منظر فراہم کرتا ہے جو بیت اللہ الحرام کا قصد کرنے والوں کے دلوں کو چھو لیتا ہے۔ دوسری طرف اس سے مذہبی شعائر سے جڑی ہر چیز کے لیے سعودی توجہ کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔

یہ ’مکبریہ‘ مسجد الحرام کے اندر ایک مخصوص جگہ ہے جو اذان دینے اور مسجد حرام کے ائمہ کے پیچھے تکبیر، رکوع، سجدہ، سلام اور متعدد مذہبی شعائر سے وابستہ بہت سی پکاروں کو دہرانے کے لیے وقف ہے۔ تمام ادوارمیں جدید صوتی ٹیکنالوجی کے ظہور سے پہلے اس کا وجود امام کی آواز کو نمازیوں تک پہنچانے سے جڑا رہا۔ یہ اس وقت تک بھی الحرم المکی الشریف میں اذان اور تکبیر کے نظام کے اندر اپنی روحانی اور علامتی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہے۔ اسی تناظر میں ’مکبریہ‘ کا خاص مذہبی اوقات میں، خاص طور پر حج کے دنوں اور ذوالحج کے پہلے عشرے میں ایک واضح کردار ہوتا ہے۔ یہاں سے المسجد الحرام کے اطراف میں ایک پروقار آواز میں تکبیریں بلند ہوتی ہیں جن کی گونج بیتِ عتیق کے گوشہ و کنار میں سنائی دیتی ہے۔ یہ ایک ایسا منظر ہوتا ہے جو مسلمانوں کے اتحاد اور شعائر اللہ کی تعظیم پر ان کے اکٹھے ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔

مکبریہ کو گزشتہ دہائیوں کے دوران مسجد حرام کی یکے بعد دیگرے ہونے والی سعودی توسیع کے ضمن میں مسلسل ترقیاتی مراحل سے نوازا گیا ہے۔ اس کی تاریخی اور جذباتی قدر کو محفوظ رکھنے اور اسے جدید ترین صوتی نظاموں اور انجینئرنگ ٹیکنالوجیز سے جوڑنے کا پورا خیال رکھا گیا۔ یہ ٹیکنالوجیز لاکھوں نمازیوں اور زائرین تک اعلیٰ معیار کے ساتھ تکبیریں اور اذان پہنچانے کو یقینی بناتی ہیں۔ یہ مکبریہ اسلامی دنیا کی بڑی مساجد کے معمارانہ اور عملی ورثے کے ایک پہلو کو بھی مجسم کرتا ہے کیونکہ تکنیکی دور سے پہلے اس کا وجود شعائر کو منظم کرنے، اذان دینے اور تکبیریں بلند کرنے سے جڑا ہوا تھا ۔ بعد میں جدید ذرائع کی ترقی کے ساتھ یہ مسجد حرام کے اندر اپنی تاریخی اور روحانی موجودگی کو برقرار رکھنے والی ایک علامت میں تبدیل ہو گیا۔ اسی طرح حرمین شریفین کے امور کے ذمہ دار سعودی ادارے صوتیات، اذان اور تکبیر کے نظام کی دیکھ بھال میں اپنی انتھک کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں جس سے مسجد حرام کے اندر ایمانی ماحول کو تقویت ملتی ہے ۔ یہ سب ایک مربوط آپریشنل نظام کے تحت ہوتا ہے۔

اسلام میں ’مکبریہ‘ یا جسے ’دکۃ المبلغین‘ (مبلغین کا چبوترا) کہا جاتا تھا، نمازیوں تک امام کی تکبیریں پہنچانے کی ایک معمارانہ اور تنظیمی ضرورت کے طور پر پیدا ہوا اور اس کی پہلی جڑیں اموی دور میں ظاہر ہوئیں۔ خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں عباسی عہد میں اس کی باقاعدہ معمارانہ شکل سامنے آئی یعنی اسے ایک بلند چبوترے کے طور پر تعمیر کیا گیا جو کنویں زمزم کے اوپر ایک عمارت کی شکل میں تھا اور سن 240 ہجری میں اسے گرا کر ایک نیا چبوترا تعمیر کیا گیا۔

سعودی عرب کے مرحوم بادشاہ شاہ عبد العزیز کے دور کی طرف بڑھتے ہوئے، یہ الحرم المکی الشریف کی توسیع کے کاموں میں شامل تھا اور اسے اس کی موجودہ شکل میں دوبارہ تعمیر کیا گیا جہاں اس میں پالش کیے گئے سفید سنگِ مرمر کا ایک بڑا حصہ شامل کیا گیا جس پر اسلامی نقش و نگار بنے ہوئے ہیں اور اسے جدید لاؤڈ سپیکرز سے لیس کیا گیا اور اس کے ستونوں کو سنگِ مرمر سے سجایا گیا۔ مکبریہ کا مخصوص کمرہ بیرونی آوازوں سے الگ تھلگ ہے تاکہ خلل پیدا نہ ہو اور اس کے اندر لال رنگ کی الرٹ لائٹ موجود ہے جو خودکار طریقے سے جلتی ہے۔ یعنی اذان کے وقت سے ایک منٹ پہلے تاکہ مؤذن اذان دینے اور کھڑے ہونے کے لیے تیار ہو جائے۔ اس کے علاوہ وقت داخل ہونے کی معلومات کے لیے دو گھڑیاں بھی موجود ہیں۔ اس کمرے میں باری باری کام کرنے کے لیے مسجد حرام کے 24 سے زائد مؤذن موجود ہیں اور وہ اذان دینے سے ایک گھنٹہ پہلے تشریف لاتے ہیں۔ وہ حرمین شریفین کے امور کی صدارت کے تحت ائمہ و مؤذنین کے امور کے جنرل ڈائریکٹوریٹ کے ذریعے تربیتی پروگراموں سے گزرتے ہیں۔ الحرم المکی الشریف میں مکبریہ کے کمرے میں نماز ادا کرنے کے دوران امام کی پیروی کے لیے ایک سکرین موجود ہے جس پر امام کی آواز مؤذن تک منقطع ہونے کی صورت میں انحصار کیا جاتا ہے اور جنازوں کی پیروی کے لیے ایک اور سکرین مختص ہے۔

ائمه کے امور کی ایجنسی ہر نماز کے لیے ایک مؤذن، ایک معاون اور ایک متبادل مؤذن مقرر کرتی ہے جہاں مؤذن اذان دیتا ہے، اقامت کہتا ہے اور تبلیغ کرتا ہے۔ امام کے بعد تکبیرِ تحریمہ، رکوع و سجود کی تکبیریں اور دونوں سلام دہراتا ہے۔ معاون کے کاموں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ جنازے کی نماز کے لیے پکارے۔ وہ یہ کام مکبریہ کے کمرے کے اندر جنازے کی سکرین پر معلومات کی موجودگی کے ذریعے کرتا ہے جو الیکٹرانک طور پر جنازہ یونٹ سے منسلک ہوتی ہے۔ متبادل مؤذن ہنگامی حالات میں مؤذن یا ملازم کے کام انجام دینے کے لیے تیار حالت میں موجود رہتا ہے۔

(بشکریہ ’اردو ڈاٹ العربیہ ڈاٹ نیٹ‘)

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...