مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں شکست کے بعد ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس میں بکھراؤ شروع ہو گیا ہے۔ ریاست کی الگ الگ نگر پالیکاؤں سے ترنمول کانگریس کے 101 کونسلرز نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ یہ استعفیٰ اسمبلی انتخاب کے نتائج کے بعد پارٹی میں اندرونی خلفشار، پارٹی چھوڑنے کا معاملہ اور بغاوت بہت بڑھ گئی ہے۔ اتنا ہی نہیں، بدعنوانی اور ناجائز وصولی جیسے سنگین الزامات کے سبب پارٹی کے 17 کونسلرز اور مقامی لیڈران کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی زمینی سطح پر ایک بڑے سیاسی بحران سے گزر رہی ہے۔
جو خبریں سامنے آ رہی ہیں، اس کے مطابق کم از کم 6 نگر پالیکاؤں کے ترنمول کونسلرز نے الگ الگ موقع پر استعفے دیے ہیں۔ ان میں شمالی بیرک پور سے 15 ترنمول کونسلرز، گارولیا سے 18 ترنمول کونسلرز، کونٹائی سے 14 ترنمول کونسلرز، ہالسہار سے 16 ترنمول کونسلرز، بھٹپارا سے 30 ترنمول کونسرلز اور ڈائمنڈ ہاربر سے 8 ترنمول کونسلرز نے استعفیٰ دے دیا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ ڈائمنڈ ہاربر نگر پالیکا میں پیر کے روز ترنمول کانگریس کے 8 کونسلرز نے اجتماعی طور پر استعفیٰ دے دیا۔ یہ علاقہ ترنمول کانگریس کا قلعہ تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں سے ممتا بنرجی کے بھتیجے ابھشیک بنرجی رکن پارلیمنٹ ہیں۔ جس طرح ریاست بھر میں ترنمول کانگریس کو مشکلات کا سامنا ہے، ممتا بنرجی کے لیے پارٹی کو سنبھالنا ایک بڑا چیلنج ہے۔
قابل ذکر ہے کہ کچھ دن قبل سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’جن لیڈران کو پارٹی چھوڑنی ہے، وہ چھوڑ سکتے ہیں۔ میں پارٹی پھر کھڑی کر لوں گی۔‘‘ ممتا نے یہ بیان اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد پارٹی لیڈران کے ساتھ ہوئی ایک میٹنگ میں دیا تھا۔ ممتا نے صاف لفظوں میں کہا تھا کہ جو لیڈران پارٹی چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں، وہ جا سکتے ہیں۔ انھیں کسی کے جانے کی فکر نہیں ہے۔ وہ تنہا پارٹی کو پھر سے کھڑا کرنے کی طاقت رکھتی ہیں۔


































