
قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک اہم بیان بھی دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے پاس موجود افزودہ شدہ یورینیم کو یا تو امریکہ کے حوالے کرنا ہوگا، یا پھر اسے تباہ کرنا ہوگا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یورینیم کو ایران میں ہی ختم کیا جا سکتا ہے یا پھر کسی دوسری جگہ محفوظ طریقے سے لے جا کر تباہ کرنا مناسب ہوگا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا ہے کہ اس پورے عمل کی نگرانی ایٹامک انرجی کمیشن یا کسی یکساں ادارہ کی موجودگی میں ہوگی۔ گزشتہ ہفتہ بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو امریکہ یہ یورینیم اپنے پاس رکھنے نہیں دے گا۔ امریکی افسر اب ’نو ڈَسٹ، نو ڈالرس‘ کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جب تک ایران تقریباً 1000 پاؤنڈ (تقریباً 453 کلو) افزودہ یورینیم نہیں ہٹاتا، تب تک اسے کسی معاشی راحت یا معاہدہ کا فائدہ نہیں ملے گا۔






