
وکیل نے جسٹس سورن کانتا شرما کے ایک فیصلے کا بھی حوالہ دیا لیکن عدالت نے کہا کہ صرف کسی فیصلے کا ذکر کافی نہیں ہوتا، بلکہ یہ بھی ثابت کرنا ضروری ہے کہ قانون کے تحت عدالت کے حکم کے بعد الیکشن کمیشن کو ایسی کارروائی کا اختیار حاصل ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اگر کسی سیاسی رہنما نے عدالت کے خلاف بیان دیا ہے تو اس کے لیے توہین عدالت کی الگ قانونی کارروائی موجود ہے۔ صرف اس بنیاد پر کسی سیاسی جماعت کا رجسٹریشن ختم نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی کسی رہنما کو انتخاب لڑنے سے روکا جا سکتا۔
عدالت نے آخر میں کہا کہ سیاسی جماعتوں کے رجسٹریشن سے متعلق مکمل قانونی طریقہ کار پہلے سے طے ہے اور موجودہ عرضی اسی قانونی نظام کو درست طور پر سمجھے بغیر دائر کی گئی ہے۔






