
انسان کا اپنا وجود بھی خدا کی نشانی ہے۔ انسانی دماغ، دل، آنکھ، ڈی این اے اور شعور — یہ سب ایسے حیرت انگیز نظام ہیں جنہیں دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ ایک چھوٹے سے خلیے میں پوری زندگی کا نقشہ محفوظ ہے۔ دل دن رات لاکھوں بار دھڑکتا ہے مگر کبھی خود سے تھکتا نہیں۔ آنکھ لاکھوں رنگ پہچانتی ہے، دماغ یادداشت محفوظ رکھتا ہے، انسان محبت محسوس کرتا ہے، خواب دیکھتا ہے، سوچتا ہے۔
کیا یہ سب محض اندھے مادّی عمل کا نتیجہ ہوسکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ انسان کے اندر بھی خدا کی پہچان رکھی گئی ہے۔ جب زندگی کے تمام سہارے ٹوٹ جاتے ہیں تو انسان بے اختیار کسی اعلیٰ طاقت کو پکارتا ہے۔ یہ پکار اس بات کی علامت ہے کہ انسان کی روح اپنے خالق کو پہچانتی ہے۔
قرآن مجید بار بار انسان کو کائنات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ آسمانوں اور زمین کی تخلیق، دن اور رات کا بدلنا، سورج اور چاند کی گردش — یہ سب نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔ گویا ایمان اندھی تقلید نہیں بلکہ غور و فکر کا نتیجہ ہے۔





