
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ چین نے عالمی سفارت کاری کے بدلتے ہوئے مزاج کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ اس ملاقات میں تجارت، ٹیرف، ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور جغرافیائی سیاست جیسے موضوعات تو مرکزی حیثیت رکھتے تھے، مگر انسانی حقوق تقریباً مکمل طور پر غائب رہے۔ یہی خاموشی اس دورے کا سب سے اہم اور معنی خیز پہلو ہے، کیونکہ یہ نہ صرف امریکی خارجہ پالیسی میں ایک بنیادی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ چین کے بڑھتے ہوئے عالمی اعتماد کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
ماضی میں امریکی صدور، خواہ وہ بل کلنٹن ہوں جارج بش یا باراک اوبامہ، چین کے ساتھ تعلقات میں انسانی حقوق کے مسئلے کو کسی نہ کسی سطح پر ضرور اٹھاتے تھے۔ تبت، سنکیانگ، ہانگ کانگ، مذہبی آزادی اور سیاسی قیدیوں کے معاملات امریکی بیانیے کا مستقل حصہ رہے۔ اگرچہ واشنگٹن اکثر معاشی مفادات کو ترجیح دیتا تھا، پھر بھی انسانی حقوق کو امریکی ’اخلاقی قیادت‘ کے تصور سے الگ نہیں کیا جاتا تھا۔






