
اٹل بہاری واجپئی نے کہا تھا، ’’آپ دوست بدل سکتے ہیں، لیکن پڑوسی نہیں۔‘‘ نیپال، دہلی کے لیے کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے حل کرنا ہو، بلکہ ایک ایسا شراکت دار ہے جس کے ساتھ مل کر آگے بڑھنا ہے۔ وکرم مسری معاملے کو صرف ایک جھٹکے کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک موقع کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے — ہندوستان کے لیے یہ دکھانے کا موقع کہ بالغ اور مضبوط طاقتیں بغیر غیر ضروری ردعمل کے مشکلات کو قبول کرتی ہیں اور اسٹریٹجک صبر کے ساتھ بات چیت جاری رکھتی ہیں۔
وزیر اعظم اور صدر ملک کا چہرہ ہوتے ہیں۔ جب دنیا سفیروں، خصوصی ایلچیوں یا خارجہ سکریٹریوں کے ذریعے بات چیت کے لیے آتی ہے تو حکومت کے سربراہ کا ہر ملاقات میں موجود ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ لیکن دروازہ کبھی بند دکھائی نہیں دینا چاہیے۔ ہندوستان کے خارجہ سکریٹری کے پیچھے پوری ہندوستانی ریاست کا سیاسی وزن موجود ہوتا ہے۔ جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکہ کا خصوصی ایلچی اوول آفس کی نمائندگی کرتا ہے۔ ’قد‘ یا ’مرتبے‘ کے نام پر ایسی ملاقاتوں سے انکار کرنا اسٹریٹجک اعتماد نہیں بلکہ محض دکھاوا ہے۔ اصل طاقت اس میں ہوتی ہے کہ ہم اپنے ہم منصبوں کا خیر مقدم کریں، ان کی بات توجہ سے سنیں، جہاں ضرورت ہو مضبوط جواب دیں اور ٹھوس نتائج کے ساتھ واپس آئیں۔ یہی حقیقی سفارت کاری ہے۔ آئیڈیلزم صرف سرخیاں بناتا ہے، جبکہ حقیقی سفارت کاری ہائی ویز، ٹرانزٹ کوریڈور، توانائی کے معاہدے، سرمایہ کاری کے بہاؤ اور سرحدی تنازعات کے حل تک پہنچتی ہے۔
بیجنگ جنوبی ایشیا کے ساتھ واضح شرائط پر معاملہ کرتا ہے: پہلے تبت، پھر رابطہ کاری، اور ہمیشہ اپنا بیانیہ۔ خود جنوبی ایشیا بھی ایک خاموش نئی ترتیب کے مرحلے سے گزر رہا ہے، اور وہی ممالک اس تبدیلی کی رفتار طے کریں گے جو اپنے اداروں کو منظم کریں گے، اپنی سمت واضح کریں گے اور خارجہ پالیسی کو ایک طویل مدتی اسٹریٹجک اثاثے کے طور پر دیکھیں گے۔






