
تشویش کی بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں یہ دوسرا ایسا معاملہ ہے۔ اس سے پہلے سلایا کا ہی ایک اور جہاز ’الفیض نور سلیمانی-1‘ بھی آبنائے ہرمز میں مبینہ کراس فائرنگ کے دوران غرق ہو گیا تھا۔ لگاتار 2 جہازوں کے حادثے کا شکار ہونے سے گجرات کے سمندری تاجروں میں خوف بڑھ گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران-امریکہ کشیدگی اور آبنائے ہرمز میں بڑھتی فوجی سرگرمیوں کی وجہ سے بحیرۂ عرب اور خلیجی خطہ اب انتہائی حساس بن چکا ہے۔ دنیا کے مصروف ترین سمندری تجارتی راستوں میں شامل اس علاقے سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور بھاری مقدار میں کارگو گزرتا ہے۔ ایسے میں ہندوستانی جہاز پر ہوا یہ حملہ صرف ایک سمندری حادثہ نہیں، بلکہ پورے خطے میں بڑھتے جیو پولیٹیکل خطرات کا اشارہ مانا جا رہا ہے۔ خاص طور پر ان ہندوستانی تاجروں اور ملاحوں کے لیے، جو دہائیوں سے خلیجی راستوں پر منحصر ہیں۔






