کرناٹک کے وزیر اعلیٰ سدارمیا نے پی ایم مودی کے ان بیانات کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے، جن میں انھوں نے کانگریس کی داخلی جھگڑوں کا ذکر کیا تھا۔ سدارمیا کا کہنا ہے کہ اگلی بار ریاست کی کانگریس حکومت پر الزام عائد کرنے سے پہلے وزیر اعظم کو پوری طرح کرنی چاہیے، کیونکہ بی جے پی کرناٹک میں خود ’سیاسی خودکشی‘ میں مصروف ہے۔
سدارمیا نے پی ایم مودی کی تقریر کو ہدف تنقید بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کرناٹک میں بی جے پی کی حالت ایسی ہو گئی ہے جہاں اس کے لیڈران ایک دوسرے کو نیچے کھینچنے اور ’سیاسی خودکشی‘ میں لگے ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’کرناٹک میں بی جے پی کی حالت ٹوکری میں پھنسے ان کیکڑوں کی طرح ہو گئی ہے، جو ایک دوسرے کو نیچے کی طرف کھینچ رہے ہیں اور اپنی ہی سیاسی خودکشی کر رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر نصف درجن گروپ سابق وزیر اعلیٰ بی ایس یدی یورپا اور ان کے اہل خانہ کی مخالفت کر رہے ہیں۔‘‘
سدارمیا کا کہنا ہے کہ کرناٹک میں بی جے پی کی حالت اتنی خراب ہو گئی ہے کہ اب وہ ان لیڈران کے پیروں میں گر رہی ہے جنھیں پارٹی نے معطل کر دیا تھا، اور انھیں انتخابی تشہیر کے لیے واپس لا رہی ہے۔ ایسے لوگ اب کانگریس کو تبلیغ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ’’وزیر اعظم کو پہلے اپنے بوسیدہ مکان کو سنبھالنا چاہیے، پھر اس کے بعد ہمارے بارے میں بات کرنی چاہیے۔‘‘
وزیر اعلیٰ سدارمیا کا یہ بیان پی ایم مودی کے ذریعہ اتوار کو دیے گئے اس بیان کے بعد آیا ہے، جس میں وزیر اعظم نے کانگریس پر کرناٹک میں اقتدار کے لیے داخلی جدوجہد کا ذکر کیا تھا۔ انھوں نے کرناٹک پر داخلی جدوجہد کے سبب بہتر حکمرانی مہیا کرانے میں ناکام رہے اور عوام سے دھوکہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ساتھ ہی پی ایم مودی نے کانگریس کو ’پرجیوی پارٹی‘ بتایا تھا۔ اس تعلق سے سدارمیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا تھا کہ ’’پی ایم مودی کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ اتوار کو بنگلورو میں کی گئی ان کی تقریر ملک کے وزیر اعظم کے طور پر تھی، یا بی جے پی کی ریاستی یونٹ کے صدر کی شکل میں تھی، یا پھر کرناٹک میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر تھی۔ ریاست کی عوام کے من میں پیدا ہوئی اس الجھن کو انھیں دور کرنا چاہیے۔‘‘


































