بہار کے سہرسہ ضلع واقع مہیشی بلاک میں موجود سرکاری مڈل اسکول بلواہا میں جمعرات کو ایک ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ ’مڈ ڈے میل‘ کھانے کے بعد 250 سے زائد بچوں کی اچانک طبیعت بگڑ گئی۔ اچانک بچوں کی طبیعت خراب ہونے سے اسکول احاطہ میں افرا تفری مچ گئی۔ بچوں کو الٹی، پیٹ درد، چکر اور بے چینی کی شکایت ہونے لگی، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا۔ کچھ متاثرہ بچوں کے اہل خانہ کا الزام ہے کہ این جی او کی طرف سے فراہم کیے گئے مڈ ڈے میل میں زہریلا سانپ گر گیا تھا، جس کی وجہ سے بچوں کی حالت بگڑ گئی۔ حالانکہ انتظامیہ نے ابھی اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسکول میں بچوں کو مڈ ڈے میل کے تحت چاول اور دال پیش کی گئی تھی۔ کھانا کھانے کے کچھ ہی دیر بعد کئی بچوں کو پیٹ درد، الٹی اور چکر آنے لگے۔ دیکھتے ہی دیکھتے بڑی تعداد میں طلبا و طالبات بیمار پڑ گئے، جس سے اسکول انتظامیہ میں ہنگامہ مچ گیا۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اہل خانہ بڑی تعداد میں اسکول اور اسپتال پہنچ گئے۔ تمام بچوں کو فوری طور پر مہیشی ہیلتھ سینٹر میں داخل کرایا گیا، جبکہ سنگین حالت والے کچھ بچوں کو بہتر علاج کے لیے سہرسہ صدر اسپتال ریفر کیا گیا۔
بڑی تعداد میں بچوں کی طبیعت خراب ہونے کی خبر ملتے ہی ضلع انتظامیہ اور محکمۂ صحت کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور معاملے کی جانچ شروع کر دی۔ انتظامیہ نے مڈ ڈے میل کے نمونے جانچ کے لیے لیب بھیج دیے ہیں۔ سول سرجن ڈاکٹر راج نارائن پرساد نے بتایا کہ پہلی نظر میں معاملہ فوڈ پوائزننگ کا معلوم ہوتا ہے۔ فی الحال تمام بچوں کی حالت مستحکم بتائی جا رہی ہے اور بیشتر بچے خطرے سے باہر ہیں۔
اس درمیان ضلع مجسٹریٹ دیپیش کمار اور ایس پی ہمانشو بھی صدر اسپتال پہنچے۔ انھوں نے زیر علاج بچوں سے ملاقات کر کے صحت انتظامات کا جائزہ لیا۔ افسران نے دعویٰ کیا کہ تمام بچوں کا علاج جاری ہے اور صورتِ حال قابو میں ہے۔ اس واقعہ کے بعد اہل خانہ میں شدید غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ لوگوں نے مڈ ڈے میل فراہم کرنے والی این جی او تنظیم پر لاپروائی کا الزام لگاتے ہوئے اس کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ جانچ رپورٹ آنے کے بعد قصورواروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی۔ فی الحال پورے معاملے کی جانچ جاری ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


































