لکھنؤ کے تیز گیندباز پرنس یادو نے ایک شاندار گیند پر وراٹ کوہلی کو بولڈ کر دیا۔ خود کوہلی اس گیند سے حیران تھے، کیونکہ وہ اسے پڑھ ہی نہیں پائے اور پوری طرح چوک گئے۔ اس شاندار گیند کی وجہ سے کوہلی بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹنے کو مجبور ہوئے۔ پرنس کے لیے یہ ایک ڈریم وکٹ تھی، جس کا عکس ان کے جشن میں بھی نظر آیا۔ اس تیز گیندباز نے جمعرات کو ہوئے مقابلے (لکھنؤ بمقابلہ بنگلورو) میں مجموعی طور پر 3 وکٹیں حاصل کیں۔ میچ کے بعد پرنس نے بتایا کہ پچھلے میچ کے بعد کوہلی نے انہیں جو مشورہ دیا تھا، وہی کام آ گیا۔ یعنی پرنس نے کوہلی کے ہی ’منتر‘ کا سہارا لے کر انھیں صفر پر آؤٹ کر دیا۔
آئی پی ایل 2026 میں یہ دوسری بار تھا جب لکھنؤ سپر جائنٹس اور رائل چیلنجرز بنگلورو آمنے سامنے تھیں۔ پچھلے میچ میں آر سی بی اور کل ہوئے مقابلے میں ایل ایس جی نے بازی ماری۔ یہ لکھنؤ کے لیے کرو یا مرو والا مقابلہ تھا، کیونکہ اب بھی ٹیم اپنے تمام میچ جیت کر صرف 14 پوائنٹس تک پہنچ سکتی ہے، جو کہ پلے آف میں پہنچنے کی انتہائی لازمی ہے۔ ایسے میں یہ جیت لکھنؤ کے لیے ضروری تھی۔ وراٹ کوہلی سمیت 3 بلے بازوں کو اپنا شکار بنانے والے پرنس یادو کا ماننا ہے کہ اب پچھلے میچوں کے بارے میں سوچ کر کچھ نہیں ہوگا، بس جوش کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
پرنس یادو نے لکھنؤ کی جیت کے بعد بتایا کہ پچھلے میچ کے بعد ان کی وراٹ کوہلی سے بات ہوئی تھی۔ کوہلی نے ان سے کہا تھا کہ جب تک گیند پچ سے موومنٹ لے رہی ہے، تب تک اپنی لینتھ پر قائم رہنا۔ پرنس نے کہا کہ ’’آج میں نے ویسا ہی کیا جیسا کوہلی نے مجھے پچھلے میچ کے بعد کہا تھا۔‘‘ پرنس نے اپنی مس فیلڈ پر بھی بات کی، جو ان سے پہلی ہی گیند پر ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے مس فیلڈ کی بات کو جلد ہی بھلا دیا اور اگلی گیند پر توجہ دی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب ان میچوں کے بارے میں کچھ نہیں کیا جا سکتا جو گزر چکے ہیں، لیکن وہ اس سیزن کو اچھے طریقے سے ختم کرنے کے بارے میں سوچیں گے۔
واضح رہے کہ بارش سے متاثر لکھنؤ اور بنگلورو کے میچ میں لکھنؤ نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 19 اوورز میں 209 رن بنائے تھے۔ مشیل مارش نے 56 گیندوں میں 9 چھکوں اور اتنے ہی چوکوں کی مدد سے 111 رن بنائے تھے۔ ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے آر سی بی کے مڈل آرڈر بلے بازوں نے اچھا مظاہرہ کیا اور میچ کو آخری اوور تک لے گئے، لیکن وہ ہدف سے 10 رن دور رہ گئے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔



































