ایک جنازہ، دو کنارے اور کشمیر کی خونی لکیر

AhmadJunaidJ&K News urduMay 6, 2026358 Views


کیا کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں میں بٹے عوام یکجا نہیں ہوسکتے ۔کیا یہ خونی لکیرمٹ نہیں سکتی۔ جب برطانیہ اور آئر لینڈسات سو سالہ دشمنی دفن کرسکتے ہیں، تو ہندوستان اور پاکستان بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز کرکے حل کی طرف گامزن ہوکر کیوں امن کی راہیں تلاش نہیں کرسکتے؟

علامتی تصویر، فوٹو: وکی میڈیا کامنس

روزنامہ ’ڈان‘کے مظفر آباد کے نامہ نگار طارق نقاش کی ایک حالیہ رپورٹ نے ایک بار پھر اس انسانی المیے کو مرکز نگاہ بنا دیا ہے، جس کی مثال دنیا کی شاید ہی کوئی اور سرحد پیش کر سکے۔

یہ محض ایک جنازے کی خبر نہیں تھی۔ یہ کشمیر کی اس مسلسل اذیت کی علامت تھی، جو آٹھ دہائیوں سے سرحد، فوجی پہرے، بند راستوں، منقطع رشتوں اور بے بس خاندانوں کی صورت میں جاری ہے۔ اس شدید ترین فوجی نگرانی والی لکیر پر، جسے ابھی تک عارضی سمجھا جاتا ہے، لوگ اپنے پیاروں کو دیکھ سکتے ہیں، مگر ان تک پہنچ نہیں سکتے۔ دکھ اور خوشی کے لمحات سرحد پار کر لیتے ہیں، مگر انسان نہیں کر پاتے۔

کپواڑہ کے علاقے کیرن سے تعلق رکھنے والے 50 سالہ راجہ لیاقت خان کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔ ان کا جنازہ جغرافیائی حدود میں بٹے ہوئے ایک ایسے اجتماعی ماتم کا لمحہ بن گیا، جس کی مثال شاید ہی کہیں ملے۔

ان کے بہن بھائی اور رشتہ دار، جو دہائیوں سے پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں مقیم ہیں، لائن آف کنٹرول کی نشاندہی کرنے والے دریائے کشن گنگا یا نیلم کے دوسرے کنارے پر ان کی آخری رسومات کو دیکھنے کےلیے جمع تھے۔

وہ محض چند سو گز کے فاصلے پر کھڑے تھے۔ اتنے قریب کہ جب سوگواروں نے آخری دیدار کے لیے چہرہ کھولا تو وہ اسے دیکھ سکتے تھے، مگر اتنے دور کہ تابوت کو کندھا نہ دے سکے، نہ تدفین میں شریک ہو سکے، نہ وہ بنیادی انسانی رسم ادا کر سکے جو ہر معاشرے میں مرنے والے کے ساتھ آخری تعلق کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

ایک غمزدہ بھائی نے پوچھا;

’ کیا اس سے بڑھ کر بھی کوئی اذیت ہو سکتی ہے کہ ہمارا بھائی چند سو گز دور تابوت میں پڑا ہو اور ہم اسے کندھا دینے سے بھی محروم ہوں؟‘

یہ سوال صرف ایک خاندان کا نہیں تھا۔ یہ پوری وادی، پورے منقسم کشمیر اور ان تمام خاندانوں کی اجتماعی فریاد تھی جن کے گھر، کھیت، قبرستان، رشتے اور یادیں اس لکیر کے دونوں طرف بکھری ہوئی ہیں۔

سوشل میڈیا پر یہ تصاویر تیزی سے پھیلیں، لوگوں نے دکھ کا اظہار کیا، مگر لائن آف کنٹرول کے ساتھ رہنے والوں کے لیے یہ کوئی غیر معمولی واقعہ نہیں تھا۔ یہ ان کی روزمرہ حقیقت ہے۔

ایک ایسی حقیقت جس میں انسان اپنے رشتہ دار کو دیکھ سکتا ہے، آواز دے سکتا ہے، مگر اس تک پہنچ نہیں سکتا۔

لائن آف کنٹرول صرف ایک فوجی حد نہیں ہے۔ہندوستان اور پاکستان کی دیگر سرحدوں کے برعکس یہ ایک ایسا انسانی زخم ہے جو کبھی نہیں بھرا۔ خاندان دہائیوں سے اس کی وجہ سے تقسیم شدہ زندگی گزار رہے ہیں ۔

وہ اپنے پیاروں، مشترکہ یادوں، خاندانی تقریبات، شادیوں، جنازوں، عیدوں، میلوں، مزاروں، کھیتوں اور آبائی گھروں سے محروم کر دیے گئے ہیں۔

کیرن میں جو کچھ ہوا، وہ اس بڑے اور خاموش المیے کا محض ایک ظاہری لمحہ تھا، جو ہر روز سرخیوں کے بغیر وقوع پذیر ہوتا ہے۔

بیسویں صدی جہاں دنیا کےلیے آزادی کی نقیب بن کر آئی وہیں اس نے بدقسمت خطےکشمیر کے بیرونی دنیا سے روابط کو تقریباً مکمل طور پر منقطع کر دیا۔ صدیوں تک کشمیر وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، تبت، کاشغر، ختن، گلگت، بلتستان، پنجاب اور برصغیر کے دیگر علاقوں کے درمیان ایک قدرتی گزرگاہ رہا۔ تجارت، روحانیت، علم، زبان، لباس، خوراک اور ثقافت کے راستے ان پہاڑوں، دروں اور وادیوں سے گزرتے تھے۔

مگر جدید ریاستی سرحدوں، سوویت یونین کے قیام، وسطی ایشیا کے بند ہو جانے، کاشغر تک رسائی کے خاتمے نے کشمیر کو بتدریج ایک بند خطے میں بدل دیا۔ تاجکستان، جہاں کشمیریوں تک اسلام پہنچانے والی عظیم شخصیت میر سید علی ہمدانی کا مزار کلوب صوبہ میں واقع ہے، کشمیریوں کی دسترس سے دور ہو گیا۔ پھر کاشغر کے راستے بھی بند ہو گئے۔

سن سینتالیس نے تو گویا قہر ڈھا دیا۔ لائن آف کنٹرول یا حد متارکہ نے نہ صرف زمین پر بلکہ کشمیریوں کے سینوں پر بھی ایک خونی لکیر کھینچ دی۔ اگرچہ پچھلی کئی صدیوں سے یہ خطہ سیاسی طور پر مجبور و مقہور رہا، مگر وسطی اور جنوبی ایشیا کی رہگزر پر ہونے کی وجہ سے باقی دنیا کے ساتھ رابطے اسے ایک طرح کا اطمینان دیتے تھے۔

لائن آف کنٹرول نے یہ سبھی رابطے کاٹ دیے۔ شمالی کشمیر، پیر پنجال، کرناہ، کیرن، لیپا، پونچھ، راجوری، اوڑی، کپواڑہ اور کارگل جیسے وسیع علاقے اس تقسیم سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

یہاں منقسم خاندان آج بھی دوسری طرف دیکھتے ہیں، آہیں بھرتے ہیں، اور اپنے ہی عزیزوں کو پردیس کی طرح یاد کرتے ہیں۔اس گھیرابندی نے ایک طرح کی خوف کی نفسیات پیدا کی ہے۔

اسے اسیری ذہنیت کہا جا سکتا ہے۔جس میں  انسان اپنے ماحول کو کھلی دنیا کی طرح نہیں بلکہ ایک بند احاطے کی طرح محسوس کرتا ہے۔ اس ماحول میں سماج میں منفی ذہنیت پنپتی ہے۔

حکمراں اور شہری کا رشتہ پھر ویسا ہی ہو جاتا ہے جیسا قیدی اور جیل سپرنٹنڈنٹ کا ہوتا ہے۔ جیل کا منتظم کتنا ہی نرم مزاج کیوں نہ ہو، قیدیوں کا خیال رکھنے والا کیوں نہ ہو، بنیادی رشتہ تناؤ سے خالی نہیں ہو سکتا۔ ہندوستان اور پاکستان کے حکمران ابھی تک کشمیریوں کی نفسیات کے اس نکتے کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر ہیں۔

میں نے اس حقیقت کو لائن آف کنٹرول کے ساتھ مختلف صورتوں میں بکھرتے دیکھا ہے۔ اکھنور سے پونچھ، راجوری، اوڑی، توتمار گلی، چوکی بل، کرناہ، کیرن اور کارگل تک مختلف اوقات میں اس لکیر کا سفر کرتے ہوئے ہر جگہ ایک ہی کہانی دہرائی جاتی ہے۔

کہیں جنازہ دوسری طرف رہ جاتا ہے، کہیں شادی۔ کہیں مزار چھوٹ جاتا ہے، کہیں قبرستان۔ کہیں ایک بوڑھا اپنی پیدائش کا گھر دیکھ نہیں سکتا، کہیں ایک ماں اپنی بیٹی سے ملنے کے لیے پہاڑوں کی طرف دیکھتی رہ جاتی ہے۔

ایک بار میں اسی علاقے میں گیا جہاں ہندوستانی حدود میں راجہ لیاقت خان کا انتقال ہوا۔ اس وقت حالات نسبتاً پرسکون تھے۔ سرحد کے پاکستانی کنٹرول والے حصے میں ایک شادی کی تقریب جاری تھی۔ دولہے کو ایک پتھر پر بٹھایا گیا تھا۔ وہ انتظار کر رہا تھا۔

اس طرف، فوجیوں کی کڑی نگرانی میں، رشتہ دار جمع ہوئے۔ انہوں نے نقدی سے بھرے لفافے چھوٹے پتھروں کے ساتھ باندھے اور انہیں سرحد کے اس پار پھینکنا شروع کر دیا۔ یہ عمل جتنا عجیب اور مضحکہ خیز دکھائی دیتا تھا، اتنا ہی دردناک اور انسانی بھی تھا۔ یہ ایک ایسی لکیر کے آر پار کمزور سا پل تھا جو صرف علیحدگی پر اصرار کرتی ہے۔

اس منظر میں کشمیر کی پوری ٹریجڈی سمٹ آئی تھی۔  ایک طرف رشتہ نبھانے کی کوشش، دوسری طرف سرحد کی سختی۔ لوگ اپنے عزیزوں کو تحفہ بھیجنے کے لیے نہ ڈاک استعمال کر سکتے تھے، نہ راستہ، نہ بس۔ انہیں پتھر کا سہارا لینا پڑتا تھا۔ وہ پتھر جو عموماً سرحدوں پر تشدد کی علامت بن جاتے ہیں، وہاں محبت، شرکت اور رشتے کی علامت بن گئے تھے۔

سال 2005میں مرحوم شجاعت بخاری کی قیادت میں کشمیری صحافیوں کے ایک وفد کے ساتھ جب میں پہلی بار مظفر آباد گیا تو اس تہہ در تہہ درد کو غیر معمولی قربت کے ساتھ دیکھنے اور محسوس کرنے کا موقع ملا۔

سن سینتالیس کے بعد پیدا ہونے والی نسل، دونوں اطراف، ’دوسری طرف ‘ کے خوابوں کے ساتھ جوان ہوئی تھی۔ یہ خواب بزرگوں کی کہانیوں، گم شدہ گھروں، چھوٹے ہوئے رشتوں، بازاروں، مدرسوں، خانقاہوں، درگاہوں اور پہاڑی راستوں سے بنے تھے۔

مگر وہاں پہنچنے کے لیے براعظموں جتنا سفر کرنا پڑتا ہے۔ بارہمولہ مظفر آباد سے بہ مشکل 50 کلومیٹر دور ہے، مگر عملی طور پر وہاں پہنچنے کے لیے ہزاروں میل کا سفر کرنا پڑتا ہے۔

مظفر آباد  بازار میں گھومتے ہوئے اور ہمیں سیاح گردانتے ہوئے ایک معمر شخص نے پہاڑوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،’اس کے پار کپواڑہ ہے، دوسری چوٹی کے پار اوڑی اور بارہمولہ۔‘

 جب انہیں بتایا کہ ہم انہی علاقوں سے آئے ہیں تو اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ کبھی بارہمولہ میں رہتے تھے اور اپنے والد کے ساتھ دکان چلاتے تھے، مگر 1947 نے سب کچھ بدل دیا اور تب سے بارہمولہ کی طرف منہ کرکے وقتاً فوقتاً لمبی سانسیں لےکر آہیں بھرتے ہیں۔

یہ صرف حال کا المیہ نہیں۔ تاریخ بھی اس دراڑ کی گواہ ہے۔ قدیم شاردا یونیورسٹی کے کھنڈرات آج بھی اس مشترکہ ورثے کو محفوظ رکھے ہوئے ہیں جسے سیاست مٹانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ مگر ستم یہ ہے کہ علمی تحقیق تک سرحدوں کی محتاج ہو گئی ہے۔

ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر رخسانہ خان جیسی شخصیات کو بھی ویزا نہ ملنے کی وجہ سے علمی کاموں میں رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یعنی جو تہذیب کبھی راستوں سے بنتی تھی، آج اجازت ناموں اور بندشوں میں قید ہے۔

ضلع کپواڑہ کی لنگیٹ تحصیل کے انتہائی آخری سرے پر واقع لیپا وادی کی توتمار گلی بھی اسی المیے کا ایک منفرد باب ہے۔ مقامی باشندوں اور فوجی افسران نے مجھے بتایا کہ اس علاقے میں کسی صحافی کا پہلے کبھی گزر نہیں ہوا تھا۔

یہ وہ مقام ہے جہاں جغرافیہ، تاریخ، جنگ اور افسانہ ایک دوسرے میں گھل مل جاتے ہیں۔ اس وادی میں ایک عجوبہ فوجی اسپتال بھی ہے۔ یہ اسپتال پہاڑوں کو چیر کر سطح زمین کے نیچے تعمیر کیا گیا ہے۔ باہر سے دیکھ کر کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا کہ اندر اتنا بڑا اور جدید سہولیات سے آراستہ اسپتال موجود ہے۔

اس اسپتال کی سب سے دلچسپ اور حیران کن خصوصیت اس کی اندرونی دیوار پر لگی ایک تختی ہے، جس پر جلی حروف میں لکھا ہے کہ اس اسپتال کا افتتاح کیپٹن پرویز مشرف نے کیا۔ یہ کیپٹن مشرف کوئی اور نہیں بلکہ بعد میں پاکستان کے فوجی حکمران بننے والے جنرل پرویز مشرف تھے۔

سال 1971 کی جنگ میں یہ علاقہ ہندوستان کے قبضے میں آیا۔ بتایا جاتا ہے کہ مشرف اسی علاقے میں زخمی ہوئے تھے۔ یہاں آباد نوکوٹ اور چھنی نامی دو گاؤں کے باشندے بھی لائن آف کنٹرول کے اس پار ہجرت کر گئے۔ ایک عرصے تک یہ علاقہ کسی کے باقاعدہ تصرف میں نہیں تھا۔ ہندوستانی فوج کو بھی علم نہیں تھا کہ پاکستانی فوج یہ علاقہ خالی کر چکی ہے۔

اچانک ایک دن ایک گلہ بان اپنی گم شدہ بھیڑوں کی تلاش میں نیچے اترا۔ جب واپس جانے لگا تو اوپر پہاڑوں پر موجود فوجیوں نے اسے پکڑ لیا کہ تم ’پاکستانی‘علاقے سے آ رہے ہو۔ اس نے واقعہ سنایا تو اسے چھوڑ دیا گیا اور پھر اس علاقے کو باقاعدہ اپنے تصرف میں لیا گیا۔

توتمار گلی میں ایک مزار اور مسجد بھی موجود ہے۔ ایک گلہ بان عبدالرحمن کمہار کو اس کا متولی اور سجادہ نشین بنایا گیا ہے۔ یہاں کے جنگلات میں کئی نادر اور قیمتی جڑی بوٹیاں پائی جاتی ہیں، جن میں ’تریپتری‘ نامی قیمتی بوٹی بھی شامل ہے۔ علاقے میں بے شمار قصے مشہور ہیں۔ ان کے راوی قلی بھی ہیں اور فوجی بھی۔

ان قصوں میں حقیقت کتنی ہے اور افسانہ کتنا، یہ الگ بحث ہے، مگر وہ اس علاقے کی نفسیات کو ضرور ظاہر کرتے ہیں۔

ایک مشہور قصہ ایک کتیا کے بارے میں سنایا جاتا ہے، جو مبینہ طور پر پاکستان کے لیے جاسوسی کرتی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ روزانہ تار کے نیچے سے دبک کر ہندوستانی علاقے میں آتی، ہندوستانی فوجی اسے کھانا دیتے، مگر رات کو وہ چوکی سے کچھ کاغذات چرا کر واپس لے جاتی۔ جب یہ راز کھلا تو اسے وہی سزا دی گئی جو ایک جاسوس کو دی جاتی ہے، یعنی اس کو شوٹ کرکے کتے کی موت دی گئی۔

ایک اور قصہ یہ ہے کہ ایک پاکستانی کمانڈو یہاں قلی کے طور پر کام کر رہا تھا۔ ایک رات موقع پا کر اس نے سپاہیوں کو قتل کیا اور سرحد پار چلا گیا۔ اس کے بعد سے یہاں تمام قلیوں کو رات سات بجے کے بعد بند کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ رفع حاجت کے لیے بھی باہر نکلنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ انہیں اپنے لمبے فوجی جوتوں میں ہی بول و براز کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ درگاہ کے مجاور عبدالرحمن کمہار نے خود اس اذیت کا ذکر کیا تھا۔

یہ واقعات صرف سرحدی سکیورٹی کی کہانیاں نہیں ہیں۔ یہ اس خوف، شک، تحقیر اور بندش کی نفسیات کو ظاہر کرتے ہیں جس نے لائن آف کنٹرول کے اطراف زندگی کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ جب انسانوں کے درمیان اعتماد ختم ہو جاتا ہے تو جانور بھی جاسوس بن جاتے ہیں، قلی بھی مشتبہ بن جاتے ہیں، اور گلہ بان بھی سرحدی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔

لائن آف کنٹرول کی ایک اور سچی کہانی مجھے ہندوستانی فوج کے ایک ریٹائرڈ کرنل جسبیر سنگھ بھلر نے سنائی تھی۔ یہ کہانی انہوں نے ایک پنجابی اخبار میں بھی چھپوائی تھی۔ غالباً 1960 کی دہائی میں، جب وہ ایک جونیئر کیپٹن تھے، ان کی پوسٹنگ کشمیر کے کسی دور افتادہ علاقے میں ہوئی۔

اس وقت کئی جگہ یہ لائن کاغذوں پر تو موجود تھی، مگر زمین پر اس کا کوئی واضح نشان نہیں تھا۔ ایک دن انہیں حکم ملا کہ فوج کی ایک ٹیم کے ساتھ لمبی گشت پر جائیں اور دیکھیں کہ فوجی حفاظت کے لیے کیا انتظامات ضروری ہیں۔ ان کے ساتھی کیپٹن ایمان کے ذمہ یہ رپورٹ لکھنا تھا کہ سرحدی آبادی کے لوگ کس طرح دوسری طرف والوں سے رابطہ رکھتے ہیں اور اس کا سدباب کیسے کیا جا سکتا ہے۔

کرنل صاحب کے مطابق وہ کل 13 لوگ تھے۔ ٹیم کا لیڈر کیپٹن ایمان تھا۔ راستہ گھنے جنگلوں سے گزرتا تھا۔ تین دن بعد انہیں انسانی آبادی کی نشانیاں نظر آئیں۔ نقشے کے مطابق، یہ ہندوستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر کا آخری گاؤں تھا۔ کچھ دیر بعد گاؤں والے بھیڑیں چرا کر واپس آئے۔

جسبیر سنگھ نے ایک گھر کے مالک پیر بخش سے پوچھا کہ یہاں سے سرحد کتنی دور ہے؟ پیر بخش نے حیرت سے پوچھا،’سرحد کیا ہوتی ہے؟‘ صوبیدار منگت رام نے وضاحت کی کہ صاحب کا مطلب ہے دشمن کدھر ہیں۔ مگر پیر بخش پھر بھی نہ سمجھا۔ بولا،’دشمن؟ کون دشمن؟‘

کیپٹن نے بات واضح کی کہ پہاڑ کی دوسری طرف کے گاؤں والے۔ پیر بخش نے سادگی سے کہا،’وہ دشمن تھوڑے ہیں، وہ تو ہمارے اپنے لوگ ہیں۔‘ اس کی بیوی بولی کہ ادھر تو ہماری بیٹی بیاہی ہے، ہم اکثر بھیڑیں لے کر ادھر چلے جاتے ہیں اور اپنی بیٹی سے مل آتے ہیں۔

کیپٹن ایمان نے کہا کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ دوسرا ملک ہے؟ پیر بخش نے گویا اس کی غلطی درست کرتے ہوئے کہا،’دوسرا ملک نہیں جی، دوسرا گاؤں کہو۔ ایک ہی راجے کے دو ملک کیسے ہو سکتے ہیں؟‘ گاؤں کے ایک بزرگ نے ان سے پوچھا کہ آج کل ہندوستان کا بادشاہ کون ہے اور مہاراجہ کہاں رہتا ہے۔ گویا وہ بوڑھا ابھی راجواڑوں کی دور ہی میں زندہ تھا۔

واپس پلٹن میں پہنچ کر دونوں کیپٹن سوچتے رہے کہ رپورٹ میں کیا لکھیں۔ اس گاؤں کے لوگوں کا نہ کوئی ملک تھا، نہ وہ کسی سرحد کو جانتے تھے۔ وہ بلا جھجک کنٹرول لائن کے آر پار آتے جاتے تھے۔ دوسری طرف ان کی رشتہ داریاں تھیں، دوستیاں تھیں، بیٹیاں تھیں، گھر تھے۔ وہ پرندوں کی طرح تھے، جو اڑ کر کہیں بھی جا سکتے تھے۔ جس دشمنی کی بو سونگھنے فوجی یونٹ وہاں گیا تھا، اس کا دور دور تک کوئی نشان نہیں تھا۔

کیپٹن ایمان ایک چٹان سے ٹیک لگا کر رپورٹ لکھنے بیٹھے۔ جسبیر سنگھ کے بقول انہوں نے ہنس کر ایک کورا کاغذ ان کے حوالے کرتے ہوئے کہا، ’یہ رہی میری رپورٹ۔‘ مگر کیپٹن ایمان کی رپورٹ سے افسروں کو کچھ شک کی بو آئی۔

انہیں لگا کہ ایمان نے جان بوجھ کر اپنے ہم مذہبوں کے خلاف کچھ نہیں لکھا۔ رپورٹ لکھتے وقت ایمان کے سامنے سب سے بڑی فکر اس کا مسلمان ہونا تھا۔ کرنل جسبیر سنگھ کہتے تھے کہ شاید اس وقت وہ ایمان کے درد کو پوری طرح محسوس نہیں کر سکے، مگر وہ واقعہ کبھی بھول نہیں سکے۔ وہ دشمنی تلاش کرنے گئے تھے، مگر وہاں انہیں حقیقی انسان ملے، بھید بھاؤ سے پاک۔

یہ کہانی بتاتی ہے کہ سرحدیں اکثر ریاستیں بناتی ہیں، لوگ نہیں۔ جن لوگوں کی زندگیاں، رشتہ داریاں، چراگاہیں، بازار، قبریں اور عبادت گاہیں ایک دوسرے سے جڑی ہوں، ان کے لیے ’دشمن‘کا تصور باہر سے درآمد کیا جاتا ہے۔ وہ اپنے پڑوسی کو دشمن نہیں کہتے۔ وہ اسے دوسرا گاؤں کہتے ہیں۔

سال 2003کی جنگ بندی نے منقسم خاندانوں کو کسی حد تک غیر رسمی طور پر ایک دوسرے سے رابطے کا موقع دیا۔ پھر 2005 میں کراس ایل او سی بس سروس اور تجارتی راستوں نے اس نازک رابطے کو ایک باقاعدہ ڈھانچے میں تبدیل کیا۔ یہ اقدامات دونوں اطراف کے کشمیریوں کے لیے ایک جذباتی لائف لائن بن گئے۔

جن لوگوں نے نصف صدی تک ایک دوسرے کو صرف یادوں میں دیکھا تھا، وہ بسوں کے ذریعے ملنے لگے۔ خاندان دوبارہ جڑنے لگے۔ خطوط، پرمٹ، انتظار، آنسو، ملاقاتیں، واپسی، سب کچھ ایک دردناک مگر امید بھرا عمل بن گیا۔

مگر 2019 کے بعد یہ لائف لائن جو تجارت، جو مقامی معیشت اور جذباتی رابطے دونوں کے لیے اہم تھی، بندشوں کا شکار ہوئی۔ بس سروس بھی عملاً معطل ہو گئی۔ وہ راستے جو منقسم خاندانوں کے لیے سانس کی نالی تھے، دوبارہ بند ہو گئے۔

پاکستانی زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس منظور گیلانی کی کہانی اس انسانی المیے کی گہرائی کو اجاگر کرتی ہے۔ان کی کہانی بالی ووڈ فلم کا مسالحہ ہے۔ وہ اکتوبر 1947 میں محض چھ ماہ کی عمر میں اپنے والدین سے بچھڑ گئے تھے۔کرناہ سے تعلق رکھنے والے ان کے والدین چھ ماہ کے بچے کو دادا دادی کے پاس چھوڑ کر مظفر آباد کسی شادی کے سلسلے میں گئے تھے۔

اسی دوران جنگ شروع ہوگئی اور لائن آف کنٹرول وجود میں آگئی۔ اس دوران انہوں نے بارہمولہ کالج سے گریجویشن اور پھر علی گڑھ سے قانون کی ڈگری لےکر پریکٹس بھی شروع کی۔  بالآخر 28 سال کی عمر میں 1975 میں جب ان کو پاسپورٹ ملا، تو مظفر آباد آکر اپنے والدین سے مل سکے۔

تصور کیجیے، ایک بچہ اپنے والدین سے جدا ہو، جوان ہو جائے، اپنی شناخت، بچپن، جذبات اور رشتوں کو یادوں اور دوسروں کی باتوں سے بنائے، اور پھر تقریباً تین دہائیوں بعد والدین سے ملے۔

ایسی لاتعداد زندگیاں ہیں جو کسی کی نظر میں آئے بغیر گزر جاتی ہیں۔

آج کے دور میں جب دنیا رابطوں، عالمگیریت، کھلی معیشتوں، ویزا سہولتوں اور سرحد پار تعاون کا جشن منا رہی ہے، کشمیر ایک تکلیف دہ تضاد بن کر کھڑا ہے۔ یہاں ایک دریا خاندانوں کو سمندروں سے بھی زیادہ مکمل طور پر الگ کر سکتا ہے۔

کیرن کا جنازہ اسی تضاد کی سب سے تلخ تصویر تھا۔ ایک طرف تابوت پڑا تھا، دوسری طرف خاندان کھڑا تھا، اور درمیان میں وہ لکیر تھی جو عارضی کہلاتی ہے، مگر انسانی زندگی پر مستقل زخم کی طرح مسلط ہے۔

اس المیے کا ایک سیاسی اور آئینی پہلو بھی ہے، جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ نئی دہلی کی حکومت بار بار لائن آف کنٹرول کے پار کے علاقوں پر اپنے حق کا دعویٰ کرتی ہے۔ جموں و کشمیر اسمبلی میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے علاقوں کے لیے 24 نشستیں مخصوص ہیں۔

ابھی حال میں جب لوک سبھا کی سیٹیں بڑھانے کی سعی کی گئی تو مظفر آباد، میر پور کےلیے بھی  پارلیامانی نمائندگی رکھنے کی تجویز شامنے آئی۔ اگر سرکاری موقف یہ ہے کہ اس پار رہنے والے لوگ بھی اسی ریاست کا حصہ ہیں، تو پھر انہیں باقی ریاست سے جڑنے، آنے جانے، تجارت کرنے، رشتہ نبھانے، شادی اور جنازے میں شریک ہونے کے بنیادی حق سے کیسے محروم رکھا جا سکتا ہے؟

کوئی ریاست کسی آبادی پر سیاسی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہوئے انہیں بات چیت، رابطے اور نقل و حرکت کے بنیادی حق سے کیسے محروم کر سکتی ہے؟ اگر وہ لوگ دعوے کی زبان میں اپنے ہیں، تو پالیسی کی زبان میں اجنبی کیوں؟ اگر اسمبلی میں ان کے نام پر نشستیں محفوظ ہیں، تو ان کے لیے راستے کیوں بند ہیں؟ یہ تضاد صرف سیاسی نہیں، اخلاقی بھی ہے۔

ان راستوں کی مسلسل بندش محض ایک تزویراتی انتخاب نہیں۔ یہ ان آئینی اور سیاسی دعوؤں کے برعکس نظر آتی ہے جو کیے جاتے ہیں۔ ریاستیں سکیورٹی کا حوالہ دے سکتی ہیں، مگر سکیورٹی کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ انسانیت کو معطل کر دیا جائے۔

اگر تجارت پر نگرانی ممکن ہے، اگر بس سروس کے لیے تصدیقی طریقہ کار بنایا جا سکتا ہے، اگر پرمٹ سسٹم چل سکتا ہے، تو پھر مکمل بندش کو واحد راستہ کیوں سمجھا جائے؟

یہاں یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا ہندوستان اور پاکستان کے حکمران کبھی کشمیریوں کی اس نفسیات کو سمجھ پائیں گے جسے مسلسل بندش، عسکری موجودگی، شک، شناختی تفتیش، اجازت ناموں، فائرنگ، بارودی سرنگوں اور منقطع رشتوں نے تشکیل دیا ہے؟

یہ صرف اقتصادی یا انتظامی مسئلہ نہیں۔ یہ ایک گہرا نفسیاتی اور تہذیبی مسئلہ ہے۔ انسان صرف زمین پر نہیں رہتا، وہ رشتوں، یادوں، راستوں، قبروں، زبانوں اور امیدوں میں بھی رہتا ہے۔ جب یہ سب کاٹ دیے جائیں تو وہ محض شہری نہیں رہتا، ایک محصور وجود بن جاتا ہے۔

یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ لائن آف کنٹرول کے اطراف بسنے والے لوگ صرف جنگ اور سیاست کی سرخیوں میں نہیں رہتے۔ ان کی اپنی روزمرہ زندگی ہے۔ وہ کھیتی کرتے ہیں، مویشی پالتے ہیں، بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں، شادیوں کی تیاریاں کرتے ہیں، بیماروں کو اسپتال لے جاتے ہیں، جنازے اٹھاتے ہیں، مزاروں پر جاتے ہیں، جنگلات سے جڑی بوٹیاں چنتے ہیں، اور پہاڑوں کے موسم کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ مگر ان کی زندگی کا ہر عمل سرحد کے سائے میں ہوتا ہے۔

فائرنگ ہو تو کھیت بند، گولہ باری ہو تو اسکول بند، راستہ بند ہو تو رشتہ بند، شک ہو تو آزادی بند۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ پیر بخش جیسے لوگ، جنہیں سرحد کا مطلب ہی معلوم نہیں تھا، شاید ہم سب سے زیادہ دانشمند تھے۔ ان کے لیے دوسرا ملک نہیں، دوسرا گاؤں تھا۔ ان کے لیے دشمن نہیں، رشتہ دار تھے۔ ان کے لیے پہاڑ رکاوٹ نہیں، راستہ تھے۔ پھر ریاستوں نے نقشے بنائے، افواج آئیں، مورچے بنے، تاریں لگیں، گشت شروع ہوئے، اور ’اپنے‘ آہستہ آہستہ’دوسرے‘بنا دیے گئے۔

کشمیر کے سیاسی، تاریخی، قانونی، عسکری اور سفارتی پہلو ہیں۔ مگر ان سب کے نیچے ایک بنیادی انسانی حقیقت موجود ہے؛ لوگ ملنا چاہتے ہیں۔ وہ شادیوں میں شریک ہونا چاہتے ہیں، جنازوں میں کندھا دینا چاہتے ہیں، مزاروں پر جانا چاہتے ہیں، اپنے کھیت، اپنے آبائی گھر، اپنے رشتہ دار، اپنے محلے اور اپنے قبرستان دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ مطالبہ نہ غیر معمولی ہے، نہ غیر قانونی، نہ خطرناک۔ یہ انسان ہونے کا بنیادی تقاضا ہے۔

سوال اب بھی وہی ہے، جو کرنل جسبیر سنگھ کی کہانی کے آخر میں ابھرتا ہے؛کیا کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں میں بٹے عوام یکجا نہیں ہو سکتے؟ کیا یہ خونیں لکیر کبھی نرم نہیں پڑ سکتی؟ کیا فوجی جماؤ اور فائرنگ کے تبادلوں کے بجائے یہ خطہ امن اور استحکام کی گزرگاہ نہیں بن سکتا؟

یہ سوال آج بھی جواب کا منتظر ہے۔ مگر جب تک جواب نہیں آتا، کیرن جیسے جنازے ہوتے رہیں گے۔ ایک طرف تابوت ہوگا، دوسری طرف خاندان، اور درمیان میں ایک ایسی لکیر جو عارضی کہلاتی ہے مگر انسانوں کے دکھ کو مستقل بناتی رہتی ہے۔

 کیا کشمیر میں ہندوستان اور پاکستان کی سرحدوں میں بٹے عوام یکجا نہیں ہوسکتے ۔کیا یہ خونی لکیرمٹ نہیں سکتی۔ جب برطانیہ اور آئر لینڈسات سو سالہ دشمنی دفن کرسکتے ہیں، تو ہندوستان اور پاکستان بنیادی مسائل پر توجہ مرکوز کرکے حل کی طرف گامزن ہوکر کیوں امن کی راہیں تلاش نہیں کرسکتے؟یہ سوال تا حال جواب کا منتظر ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...