عوام کا فیصلہ یا انتخابی کمیشن کا!… راشد احمد

AhmadJunaidJ&K News urduMay 6, 2026359 Views


بنگال پر ہندو وادی طاقتوں کی محنت کوئی نئی نہیں ہے۔ گزشتہ 80 سالوں سے لگاتار ان کی کوششیں جاری ہیں۔ نکسل واڑی اور بائیں بازو ہی کی طرح ہندوتوا کی فکربھی یہیں پیدا ہوئی۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

i

user

google_preferred_badge

مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج سامنے آ گئے۔ بی جے پی نے تقریباً اتنی ہی سیٹیں حاصل کر لیں، جن کا دعویٰ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ صاحب نے پولنگ سے قبل ہی کر دیا تھا۔ بی جے پی نے اس انتخاب میں 207 سیٹیں حاصل کیں، جبکہ ٹی ایم سی کے ساتھ کوئی کڑا مقابلہ سامنے نہیں آیا اور 15 سال سے اقتدار میں رہی ممتا بنرجی کی ٹی ایم سی 80 سیٹوں پر سمٹ گئی۔ کانگریس کی جھولی میں صرف 2 سیٹیں آئیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ بی جے پی، جس کو 2021 کے انتخاب میں 38 فیصد ووٹ ملے تھے، اِس سال اس کے ووٹ فیصد میں 7 فیصد کا اضافہ ہوا اور یہ 45 فیصد ہو گیا۔ ترنمول کانگریس، جس کو گزشتہ اسمبلی انتخاب میں 48 فیصد ووٹ ملے تھے، اس انتخاب میں اسے 7 فیصد ووٹ کم، یعنی 41 فیصد ووٹ ہی ملے۔ 127 سیٹوں پر ہار جیت کا فیصلہ ایک فیصد سے بھی کم ووٹوں کے سبب ہوا۔ ایسے میں نتائج سامنے آ جانے کے بعد بھی کئی اہم سوالات سامنے آ کھڑے ہوئے ہیں، کہ کیا یہ نتیجہ ’ہندو ووٹ‘ کے ارتکاز کا نتیجہ ہے، جیسا کہ بی جے پی اور بی جے پی نواز میڈیا کا دعویٰ ہے؟ کیا ٹی ایم سی  ہندوؤں کو متاثر کرنے میں ناکام رہی؟ یا پھر ایس آئی آر اور الیکشن کمیشن کی انتخابی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے؟ یعنی نئی حکومت کو عوام نے منتخب کیا ہے یا الیکشن کمیشن نے؟

بنگال ملک کی بڑی ریاستوں میں سے ایک ہے، جہاں کی کل آبادی تقریباً 11 کروڑ ہے اور کُل ووٹروں کی تعداد 7 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ تھی۔ لیکن ایس آئی آر کے نام پر 12 فیصد، یعنی تقریباً 90 لاکھ لوگوں کا نام ووٹر لسٹ سے خارج کر دیا گیا۔ 60 لاکھ سے زیادہ افراد کا نام تو ’غیر حاضر‘ یا ’مردہ‘ کے نام پر ہٹا دیا گیا اور تقریباً 27 لاکھ افراد کے نام  ’لوجیکل نابرابری‘ کی بنیاد پر ’مشکوک فہرست‘ میں ڈال دیے گئے۔ الزام ہے کہ جو نام ووٹر لسٹ سے نکالے گئے، ان میں اکثریت یا تو مسلمانوں کے تھے یا ترنمول کانگریس کے حامی غیر مسلموں کے۔

ریاست میں 3 اونچی ذاتیں ہیں برہمن، کائستھ اور وید۔ ان کی آبادی تقریباً 27 فیصد ہے۔ انہیں بنگال میں ’بھدر لوک‘ کہتے ہیں۔ مسلمانوں کی آبادی بھی 27 فیصد ہے، دلت 24 فیصد ہیں، آدیباسی تقریباً 6 فیصد ہیں، پسماندہ برادریوں کی آبادی تقریباً 17 فیصد ہیں۔ جغرافیائی طور پر بنگال 5 حصوں میں منقسم ہے۔ پہلا شمال مشرق پہاڑی علاقہ ہے جہاں آدیباسی اور راج ونسی تھوڑے زیادہ ہیں۔ دوسرا علاقہ راڑہ کا ہے جہاں پڑھے لکھے لوگ زیادہ ہیں۔ تیسرا علاقہ بنگلہ دیش سے لگا مرشد آباد، مالدہ، دیناج پور کا مسلم اکثریت والا علاقہ ہے۔ چوتھے علاقے کو پریسیڈنسی کہتے ہیں، جس میں کولکاتا اور شہری علاقے شامل ہیں۔ اور پانچواں سمندر کے کنارے کا علاقہ ہے جو سندر بن کے نام سے مشہور ہے۔

بنگال پر ہندو وادی طاقتوں کی محنت کوئی نئی نہیں ہے۔ گزشتہ 80 سالوں سے لگاتار ان کی کوششیں جاری ہیں۔ نکسل واڑی اور بائیں بازو ہی کی طرح ہندوتوا کی فکربھی یہیں پیدا ہوئی۔ لیکن آزادی کے بعد 20 سال تک کانگریس کی حکومت، کچھ دنوں کی ملی جلی حکومت، 37 سال تک بائیں بازو کی حکومت اور اور 15 سال کی  ترنمول کانگریس کی حکومت کے ابتدائی برسوں کے دوران ہندوتوا کے مزاج کو پنپنے کا موقع نہیں ملا۔ لیکن محنت جاری رہی۔ بی جے پی کی محنت کا ہی نتیجہ تھا کہ بنگال میں 2011 میں اس کے ووٹ کا فیصد صرف 10 تھا، 2014 میں یہ بڑھ کر 28 ہو گیا، 2019 میں یہ 38 ہو گیا، 2024 میں یہ 39 فیصد اور 2026 میں 45 فیصد ہو گیا۔

جو بات آٖغاز میں کہی گئی کہ یہ عوام کا انتخاب تھا یا انتخابی کمیشن کا فیصلہ، یہ بڑا سوال ہے۔ کیونکہ پہلی بار ہندوستان کی ایک ریاست کے اسمبلی انتخاب کی خاطرنہ صرف 2 لاکھ 40 ہزار سی آر پی ایف کے جوانوں کو تعینات کیا گیا بلکہ پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی شدید مخالفت کے باوجود ایک قانون منظور کیا گیا کہ یہ مرکزی دستے انتخاب کے 60 دنوں پہلے سے انتخاب کے 60 دنوں بعد تک مغربی بنگال میں تعینات رہیں گے۔ ایسا پہلے کبھی کہیں نہیں ہوا۔ بنگال میں 146 خصوصی پولیس آبزرور لائے گئے جن کی اکثریت یوپی اور دوسرے بی جے پی کے زیر اقتدار صوبوں سے تھی۔ پہلے مرحلے کے بعد 11 مزید آبزرور بلائے گئے۔ یہ شکایت بڑے پیمانہ پر سامنے آئی کہ جن حلقوں میں ترنمول کانگریس کا زور تھا، وہاں سیکورٹی فورس کے جوانوں اور آبزروروں نے ووٹروں کو ڈرا دھمکا کر ووٹ دینے سے باز رکھا۔ پہلے سیکورٹی جوان اس لیے تعینات کئے جاتے تھے کہ غنڈہ عناصر عام لوگوں کو ووٹ ڈالنے اور ان کے اس بنیادی حق سے محروم کرنے کی کوشش نہ کریں، لیکن یہ شکایت عام رہی کہ جو کام کسی مخصوص پارٹی کے لئے غنڈہ عناصر کیا کرتے تھے، وہی کام سیکورٹی کے جوانوں اور آبزروروں نے کیا۔ لیکن اس بات سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ اس انتخاب میں ممتا کو اقتدار سے بے دخل کرنے میں ترنمول کانگریس کے باغی عناصر، کانگریس اور بائیں بازو کے کارکنوں نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ اب یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اس کی قیمت کس کو کتنی اور کیسے ادا کرنی پڑے گی۔

جہاں تک بی جے پی کا سوال ہے، تو بہار کے بعد اس نے مغربی بنگال میں اقتدار حاصل کر کے مخالف طاقتوں کا مکمل خاتمہ کر دیا ہے۔ مشرقی ہند میں اس کا پرچم لہرا گیا ہے۔ ملک کی 28 میں سے 22 ریاستوں پر اس کا قبضہ ہو گیا ہے۔ آئندہ کی حکمت عملی وہ جنوبی ہند کو سامنے رکھ کر تیار کرے گی اور یہ بھی امکان ہے کہ جنوبی ہند کو قدرے نظر انداز کر کے وہ اپنے زیر اقتدار علاقوں میں خود کو زیادہ مستحکم کرنے پر توانائی  صرف کرے۔

(مضمون نگار بہار کے سینئر صحافی ہیں اور مقبول روزنامہ ’قومی تنظیم‘ سے منسلک ہیں)

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...