
راؤت نے مزید کہا کہ مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی کامیابی کو جمہوریت کی فتح قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ انتخابی عمل کے دوران بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام فہرستوں سے ہٹائے گئے، جس کے باعث لاکھوں افراد اپنے حق رائے دہی سے محروم ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب جیت اور ہار کے درمیان فرق تقریباً گیارہ لاکھ ووٹوں کا ہو اور اس دوران لاکھوں ووٹ کاٹے گئے ہوں تو ایسے نتائج پر سوال اٹھنا فطری ہے۔
انہوں نے اس انتخابی عمل کو بین الاقوامی سطح پر متنازع انتخابات سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے انتخابات انہوں نے پاکستان، روس اور آذربائیجان جیسے ممالک میں دیکھے ہیں، جہاں پہلے نتائج طے ہوتے ہیں اور بعد میں انتخابی عمل مکمل کیا جاتا ہے۔ راؤت کے مطابق یہ صورتحال جمہوری اصولوں کے خلاف ہے اور اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔





