لومڑیوں سے مذہب کی تعلیم لینے کا نتیجہ!… کرشن پرتاپ سنگھ

AhmadJunaidJ&K News urduMay 5, 2026359 Views


جب عقل کی ایسی چوریاں کامیاب ہونے لگ جاتی ہیں تو کوئی بھی مذہب، مذہب نہیں رہ پاتا۔ یہ لومڑیوں کی مذہبی تعلیم سے پیدا ہوئے مذہبی مویشیوں کے شکنجہ میں کستا چلا جاتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div><div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

i

user

google_preferred_badge

ایودھیا کے اس حصہ میں، جو پہلے فیض آباد ہوا کرتا تھا، ’بیدار‘ نام کے ایک بزرگ شاعر رہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جن ’دوؤن‘ کے بارے میں سنت کبیر نے ’راہ نہ پائی‘ والی بات کہی تھی، جب بیدار ان کے بیچ جاتے ہیں تو ’مسلمانوں میں ہندو‘ اور ’ہندوؤں میں مسلمان‘ بن جاتے ہیں۔ پھر بھی وہ چڑتے نہیں، بلکہ اسے سچی بات کہنے کا انعام سمجھتے ہیں۔

ایک بار ان کی صاف گوئی سے خفا کچھ فتنہ پسند لوگ اچانک ان سے الجھ پڑے اور زبردستی پوچھنے لگے کہ ’’کیا تم ہندو نہیں ہو؟‘‘ تو انہوں نے پہلے تو ڈانٹتے ہوئے کہا ’’تم سے مطلب؟‘‘ پھر ’’ہوں، مگر تم جیسا نہیں‘‘ کہتے ہوئے اپنا ایک شعر سنا دیا:

میں بھی ہندو ہوں مگر ہر دم یہ رکھتا ہوں خیال،
میری حرکتوں سے میرا دھرم شرمندہ نہ ہو!

کچھ دن پہلے شہر کے ایک نکڑ پر وہ مجھ سے ملے۔ میں نے خیرسگالی کے طور پر ان کا حال پوچھا تو وہ پراسرار مسکراہٹ کے ساتھ کہنے لگے ’’کیا بتاؤں، آج کل لومڑیاں بہت ستانے لگی ہیں۔ نہ وقت دیکھتی ہیں نہ بے وقت، بس ٹوٹ پڑتی ہیں۔‘‘ میں نے حیرت سے پوچھا ’’کیا مطلب؟‘‘ وہ جھنجھلا اٹھے اور بولے ’’کیا تم دودھ پیتے بچے ہو؟ اتنا بھی نہیں سمجھتے؟ یہ نہیں دیکھ رہے کہ آج کل کچھ لوگ لومڑیوں سے ہی مذہب کی تعلیم لینے لگے ہیں، جس کے نتیجے میں نفرت مذہب بن گئی ہے، مرغیاں چرانا نیکی کا کام اور دوسروں کو تکلیف دینا خوشی کا ذریعہ!‘‘

ان کی اس بات سے اختلاف کی کوئی گنجائش نظر نہیں آئی۔ اچانک یاد آیا کہ ترکی میں لومڑیوں سے مذہب سیکھنے کے انجام پر ایک کہاوت بھی ہے۔ میں ان کا چہرہ دیکھتا رہا اور محسوس کرتا رہا کہ شاید انہیں اب ہمارا ملک بھی اسی انجام کی طرف جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ دکھائی کیوں نہ دے، بہت سے نفرت پھیلانے والوں کو اب کسی ہنگامے سے نفرت نہیں رہی۔ لاکھ سمجھانے پر بھی وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ان کے ہنگاموں کی پہلی چوٹ ملک کی جمہوریت، آئین اور اس کے اداروں پر پڑتی ہے۔ انہیں تو اپنے لیڈروں کی بھڑکائی ہوئی آگ کے شعلے بھی ’سنہرے‘ نظر آتے ہیں! اگر وہ سمجھ پاتے تو خود مذہبی پیشواؤں کے ساتھ اپنی حدود ملانے والے حکمرانوں کے خلاف کھڑے ہو جاتے۔

یہاں یہ بات جان لینی چاہیے کہ جب عقل کی ایسی چوریاں کامیاب ہونے لگتی ہیں تو کوئی بھی مذہب، مذہب نہیں رہتا۔ وہ لومڑیوں کی مذہبی تعلیم سے پیدا ہونے والے مذہبی مویشیوں کے شکنجے میں جکڑتا چلا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق جس معاشرے میں اندھی مذہبیت بڑھ جاتی ہے، وہاں مذہب کی اعلیٰ اقدار کی حفاظت ممکن نہیں رہتی۔ پہلے وہ بربریت، بیماری اور سماجی بگاڑ کا شکار ہوتا ہے، پھر طرح طرح کے حقیقی اور خیالی خوف اسے گھیر لیتے ہیں۔ آخرکار یہی خوف اسے اس مقام پر پہنچا دیتے ہیں جہاں وہ بزدلی کا شکار ہو کر ہر طرح کی جرأت سے محروم ہو جاتا ہے۔ دوسری طرف مختلف قسم کے فوبیا اس کے ’دشمنوں‘ کی تعداد اور خطرات کے اندیشے بڑھاتے رہتے ہیں۔

پھر خوف کی نفسیات سے پیدا ہونے والا کمزور سا غصہ اس معاشرے کو ایسی اندھی سوچوں کا غلام بنا دیتا ہے، جن کے تحت فرضی دشمنوں کے خلاف کسی بھی قسم کی درندگی یا بدسلوکی اسے اپنا ’سب سے بڑا فرض‘ بلکہ حق لگنے لگتی ہے۔ صرف ہمارے نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک کی تاریخ بھی ایسے معاشروں کی غیر انسانی حرکتوں اور ان کے متاثرین کی آہوں سے بھری پڑی ہے۔ یہ آہیں نسلوں تک جاری رہتی ہیں کیونکہ جب اندھی مذہبیت کو موقع مل جاتا ہے تو وہ معاشرے کو ایسی حالت میں لے آتی ہے جہاں نفرت اور تشدد سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس کے پیچھے آنکھیں بند کر لینے کی عادت ہی نہیں بلکہ مجبوری بھی ہوتی ہے کہ ’’پانی میں رہ کر مگرمچھ سے دشمنی نہیں کی جا سکتی۔‘‘

غور کیجیے، اسی لیے آج ہمارے ملک کے بیشتر جمہوری ادارے اس معاشرے کو اس کی بے بسی سے نکالنے کے عزم کا فقدان دکھا رہے ہیں، جس کے باعث مزاحمت کرنے والے طبقہ کا اعتماد ختم ہوتا جا رہا ہے کہ وہ محفوظ رہتے ہوئے ظلم کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں۔ کسی روشن خیال اصلاحی تحریک کی عدم موجودگی نے اس صورت حال کو مزید خراب کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں یہ طبقہ شدید عدم تحفظ کا شکار ہو گیا ہے۔ ایسے میں حالت یہ ہو گئی ہے کہ وہ سب کچھ دیکھ کر بھی کچھ نہیں دیکھتا اور کچھ نہیں بولتا۔ نفرت اور تشدد کے حامیوں کے ساتھ رہنے میں ہی وہ اپنی حفاظت سمجھتا ہے اور اسی میں خوش رہتا ہے۔

لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے درست کہا ہے کہ مذہب کے نام پر خوف پھیلانے والے حکمراں اور ان کے سرپرست صرف اپنے مخالفین کو ہی نہیں، بلکہ اپنے حامیوں اور ساتھیوں کو بھی ڈرا کر رکھتے ہیں تاکہ وہ ان کے خلاف جانے یا ساتھ چھوڑنے کی ہمت نہ کر سکیں۔ اگر غور کریں تو آج ملک میں تشدد، خوف اور نفرت کے ان سرپرستوں کے بنائے ہوئے تماشے دیکھنے اور یہ ظاہر کرنے والوں میں، کہ انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ایسے ہی ڈرے ہوئے لوگ زیادہ نظر آتے ہیں۔ گرتی لاشوں اور ان کے قاتلوں کا مذہب دیکھ کر خوش یا ناخوش ہونے والے بھی انہی میں شامل ہیں۔ تعجب کی بات نہیں کہ یہی ’ڈرے ہوئے‘ لوگ جب کسی بے گناہ کو سڑک یا فٹ پاتھ پر درندگی کا نشانہ بنتے دیکھتے ہیں تو اس کی مدد کرنے کے بجائے ’عقل مندی‘ سے وہاں سے ہٹ جاتے ہیں۔

یاد کیجیے، ستمبر 2024 میں اجین کے ایک مصروف چوراہے پر دن دہاڑے ایک خاتون کے ساتھ زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا اور اس کی ویڈیو بنا کر وائرل کی گئی تھی۔ اسے دیکھ کر گزر جانے والے بھی ایسے ہی ’ڈرے ہوئے عقلمند‘ تھے۔ اس سے ایک سال پہلے اسی اجین میں ایک زخمی اور نیم برہنہ بچی مدد کے لیے فریاد کرتی رہی، لیکن اسے بھی انہی لوگوں نے نظر انداز کیا تھا۔

ہماری تاریخ میں بھی ایسے کئی واقعات ہیں جب برائی کے بڑھنے پر ’عقل‘ نے بزدلی سے سمجھوتہ کر لیا۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ دنیا کو بدکاروں سے زیادہ نقصان ڈرے ہوئے نیک لوگوں کی ’خاموشی‘ سے پہنچا ہے۔ آج یہ ’نیک لوگ‘ اپنی خاموشی ہی نہیں بلکہ اپنی حمایت سے بھی ظالموں کی مدد کر رہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ لوگ سنگین جنسی جرائم میں بھی مذہب کی بنیاد پر فرق کرتے ہیں۔ کبھی کسی کے گھر پر بلڈوزر چلانے کی بات کرتے ہیں اور کبھی مجرموں کو بچاتے ہیں۔ اگر مجرم ان کے مذہب کا ہو تو اس کا جرم انہیں اتنا برا نہیں لگتا جتنا دوسرے مذہب کے مجرم کا۔ ایسے حالات میں سوال یہی ہے کہ کیا ان حالات کو بدلے بغیر ہمارا نجات ممکن ہے؟

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...