ممتا حکومت سے ناراضگی، پولرائزیشن اور ایس آئی آر تنازعہ رہے فیصلہ کن

AhmadJunaidJ&K News urduMay 5, 2026359 Views


مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں بی جے پی نے 15 سال پرانی ترنمول حکومت کو ہٹا کر اکثریت حاصل کر لی۔ ممتا بنرجی حکومت کے خلاف عدم اطمینان، بدعنوانی اور حکمرانی سے متعلق سوال، ہندو-مسلم پولرائزیشن اور ایس آئی آر کا تنازعہ اس بڑی سیاسی تبدیلی کے اہم اسباب بن کر سامنے آئے۔

تصویر اے آئی کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔

نئی دہلی: مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج نے ریاست کی سیاست میں ایک ایسے دور کا خاتمہ کر دیا، جس کی شروعات 2011 میں ممتا بنرجی کے’پریورتن ‘کے نعرے کے ساتھ ہوئی تھی۔ پندرہ سال تک اقتدار میں رہنے کے بعد ترنمول کانگریس اقتدار سے باہر ہو گئی اور بھارتیہ جنتا پارٹی نے 206 نشستوں کے ساتھ فیصلہ کن اکثریت حاصل کر لی۔

یہ صرف حکومت کی تبدیلی نہیں ہے، بلکہ بنگال کے سماجی ڈھانچے، انتخابی رویے، عدم  اطمینان اور قومی سیاست کے بدلتے توازن کا مشترکہ اشارہ بھی ہے۔

بی جے پی کی جیت کا پیمانہ بڑا ہے، لیکن اس کی کہانی سیدھی لکیر میں نہیں سمجھی جا سکتی۔ یہ نتیجہ جس قدر ترنمول کانگریس کے زوال کی کہانی ہے، اسی قدر ہی بی جے پی کے تنظیمی توسیع، ووٹروں کی نئی صف بندی اور پولرائزڈسیاسی ماحول کا بھی نتیجہ ہے۔

ممتا بنرجی کی شکست کا علامتی لمحہ

اس انتخاب کا سب سے ڈرامائی منظر بھوانی پور سیٹ پر سامنے آیا، جہاں ممتا بنرجی بی جے پی لیڈر شبھیندو ادھیکاری سے 15 ہزار سے زیادہ ووٹوں سے ہار گئیں۔ ابتدائی مرحلوں میں برتری کے بعد ان کا پیچھے رہ جانا صرف ایک نشست کا نتیجہ نہیں تھا۔ بھوانی پور طویل عرصے سے ممتا کی محفوظ سیٹ مانی جاتی رہی ہے۔

گنتی کےمرکز سے باہر نکل کر ممتا بنرجی نے بی جے پی پر’100 سے زیادہ سیٹیں لوٹنے ‘کا الزام لگایا اور الیکشن کمیشن کو بی جے پی کا کمیشن قرار دیا۔ انہوں نے سینٹرل فورسز، سی سی ٹی وی بند کیے جانے، پارٹی ایجنٹوں کو اندر نہ جانے دینے اور ووٹوں کی گنتی میں بے ضابطگیوں کے الزامات لگائے۔

سیاسی نقطۂ نظر سے یہ لمحہ اہم تھا، کیونکہ 2011 میں بائیں مورچے کو اقتدار سے ہٹانے والی رہنما اب خود اسی طرح کی شکست کا سامنا کر رہی تھیں، جیسا کبھی ان کے مخالفین نے کیا تھا۔

سال2011 میں جو ہوا تھا، 2026 میں دہرایا گیا

سال2011میں ترنمول کانگریس نے 34 سال بعد بائیں بازو کی حکومت کو اقتدار سے باہر کیا تھا۔ اس وقت بائیں بازو کی قیادت پر الزام تھا کہ اس نے عوام میں بڑھتی ہوئی ناراضگی کو وقت پر نہیں سمجھا۔ 2026 میں اسی الزام کا سامنا ممتا حکومت کو کرنا پڑا۔

ترنمول قیادت انتظامی تھکاوٹ، بدعنوانی کے الزامات، بے روزگاری، شہری عدم اطمینان اور پارٹی تنظیم کے بڑھتے اثر و رسوخ کو کم تر سمجھتی نظر آئی۔ دوسری طرف بی جے پی کو ایک چیلنج کے بجائے محض بیرونی سیاسی حریف سمجھنے کی حکمت عملی آخرکار مہنگی ثابت ہوئی۔

یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی۔ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ترنمول کانگریس نے 42 میں سے 29 نشستیں جیت کر اپنی طاقت دکھائی تھی، لیکن اگلے دو برسوں میں کئی واقعات نے سیاسی ماحول کو بدل دیا۔

آر جی کر ریپ کیس

اگست 2024 میں کولکاتا کے آر جی کر میڈیکل کالج و اسپتال میں ایک ڈاکٹر کے ساتھ ریپ اور قتل کے واقعہ نے بنگال کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ ریاست بھر میں احتجاج ہوئے۔ حکومت پر الزام لگا کہ اس نے ابتدا میں معاملے کو ہلکا دکھانے اور بعد میں اسے سیاسی سازش قرار دینے کی کوشش کی۔

اسپتال انتظامیہ پر شواہد سے چھیڑ چھاڑ اور پردہ پوشی کے الزامات لگے۔ حکومت کے ردعمل نے یہ تاثر مضبوط کیا کہ اقتدار جوابدہی سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ صرف نظم ونسق کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ مقتدرہ کی حساسیت اور اعتبار پر سوال بن گیا۔

اساتذہ بھرتی گھوٹالہ اور بدعنوانی کی واپسی

اس کے بعد اساتذہ بھرتی گھوٹالے نے ترنمول حکومت کی شبیہ کو مزید نقصان پہنچایا۔ سپریم کورٹ نے 25 ہزار سے زیادہ اساتذہ کی تقرریاں منسوخ کرنے کے کلکتہ ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھا۔ عدالت نے سلیکشن کےعمل کو ’خراب‘اور ‘غیر معتبر’ قرار دیا۔

اس کے ساتھ ہی سابق وزیر پارتھ چٹرجی سے منسلک مقامات سے نقدی برآمد ہونے کی پرانی تصویریں پھر سے سرخیوں میں آئیں۔ ترنمول حکومت نے راحت پیکج اور سیاسی وضاحتیں پیش کرنے کی کوشش کی، لیکن بدعنوانی کا الزام انتخابی ڈسکورس میں مستقل طور پر شامل ہو چکا تھا۔

’سنڈیکیٹ راجاور حکمرانی سے دوری

ترنمول حکومت کے خلاف سب سے بڑی شکایتوں میں سے ایک ’سنڈیکیٹ‘کلچر تھا، یعنی تعمیراتی ٹھیکوں سے لے کر مقامی کاروبار، تفریحی صنعت اور سرکاری کاموں تک پارٹی سے وابستہ نیٹ ورک کا اثر۔ بی جے پی نے اسے’کٹ منی‘سیاست کہہ کر مشتہر کیا۔

صنعت، سرمایہ کاری اور روزگار کے میدان میں جمود کے تاثر نے خاص طور پر شہری اور نوجوان ووٹروں میں ناراضگی بڑھائی۔ ترنمول کی فلاحی اسکیمیں مقبول رہیں، لیکن حکمرانی کاسینٹرلائزڈ انداز اور پارٹی تنظیم کا ہر جگہ اثر آہستہ آہستہ مزاحمت کی وجہ بننے لگا۔

بی جے پی کی جیت کیسے ہوئی

بی جے پی نے اس انتخاب میں صرف نظریاتی مسائل پر نہیں بلکہ کثیر سطحی سماجی اتحاد پر کام کیا۔ پارٹی کے اندر یہ مانا جا رہا تھا کہ ’سکیورٹی‘، ’یقین دہانی‘اور’ترقی‘اس کے بنیادی نکات ہیں۔

خواتین کے ووٹ پر بی جے پی نے خاص توجہ دی۔ خواتین کے لیے سیاسی ریزرویشن کے قومی ڈسکورس، خواتین کی سکیورٹی کے مسائل، اور براہ راست نقد امداد کے وعدوں کو جوڑ کر مہم چلائی گئی۔

سرکاری ملازمین اور نوکری کے خواہشمند نوجوانوں کو ساتویں تنخواہ کمیشن، خالی اسامیوں کو پُر کرنے اور بقایا مہنگائی بھتہ دینے کے وعدوں کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ مغربی بنگال میں طویل عرصے سے ڈی اے تنازعہ ملازمین میں ناراضگی کی وجہ رہا ہے۔

نوجوانوں اور متوسط طبقے کے لیے بی جے پی نے وزیر اعظم نریندر مودی بمقابلہ ممتا بنرجی کے ترقیاتی ماڈل کو پیش کیا۔ مرکز کی سرکاری اسکیموں، بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کی زبان نے خاص اثر ڈالا۔

سینٹرل فورسز اور انتخابی بھروسہ

بنگال طویل عرصے سے انتخابی تشدد کے الزامات کا سامنا کرتا رہا ہے۔ اس بار سکیورٹی فورسز کی بڑی تعداد تعینات کی گئی۔ بی جے پی کا کہنا تھا کہ اس سے عام ووٹر بغیر خوف کے ووٹ دے سکا۔

تاہم ناقدین کا کہنا تھا کہ فورسز کی موجودگی اور انتخابی انتظامیہ کا استعمال سیاسی طور پر غیر متوازن رہا۔ لیکن یہ واضح ہے کہ سکیورٹی کا سوال اس انتخاب میں مرکزی مسئلہ بن گیا تھا۔

ووٹر لسٹ کی نظرثانی اور تنازعہ

ایس آئی آرکا عمل بھی اس انتخاب کے سب سے متنازعہ پہلوؤں میں شامل رہا۔ ووٹر لسٹ سے لاکھوں نام ہٹا دیے گئے۔

کئی قریبی نشستوں پر ہٹائے گئے ووٹروں کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ یہ عمل اقلیتی اکثریت والے علاقوں کو متاثر کرتا ہے۔ بی جے پی نے اسے’صرف حقیقی ووٹروں‘کو فہرست میں رکھنے کا قدم قرار دیا۔

یہ تنازعہ انتخابی نتائج پر مستقل سوال تو نہیں اٹھاتا، لیکن یہ ضرور ظاہر کرتا ہے کہ انتظامی عمل کو بھی سیاسی اثر سے آزاد نہیں سمجھا جا رہا۔

پولرائزیشن کی نئی لکیریں

بی جے پی کی کامیابی کی ایک بنیاد ہندو ووٹوں کا نسبتاً وسیع اتحاد رہا۔ شبھیندو ادھیکاری نے جیت کے بعد کھلے طور پر کہا کہ ہندو، جین، سکھ، بدھ اور مختلف برادریوں نے ان کی حمایت کی، جبکہ مسلمانوں نے ممتا بنرجی کو ووٹ دیا۔

یہ بیان صرف شخصی سیاسی دعویٰ نہیں تھا بلکہ بنگال کی بدلتی ہوئی انتخابی ساخت کا اشارہ بھی تھا۔

دوسری طرف اقلیتی ووٹ مکمل طور پر ترنمول کے ساتھ متحد نہیں رہے۔ ہمایوں کبیر کی عام جنتا انین پارٹی اور نوشاد صدیقی کی انڈین سیکولر فرنٹ جیسے گروپوں نے کچھ نشستوں پر جیت درج کی، جس سے ترنمول کا روایتی اقلیتی ووٹ بینک کمزور ہوا۔

شہری بنگال اور ضلع بنگال

بی جے پی نے صرف سرحدی اضلاع یا شمالی بنگال میں ہی نہیں بلکہ شہری علاقوں اور کئی اضلاع میں بھی وسیع کارکردگی دکھائی۔ درج فہرست ذاتوں اور قبائلی علاقوں میں اس کی توسیع بھی فیصلہ کن رہی۔

شمالی بنگال، قبائلی پٹی اور مہاجر آبادی والے علاقوں میں بی جے پی پہلے ہی مضبوط تھی۔ اس بار اس نے جنوبی بنگال اور روایتی ترنمول علاقوں میں بھی پیش قدمی کی۔

اب بی جے پی حکومت کے سامنے کیا ہے

نئی حکومت کا ایجنڈہ تقریباً واضح ہے۔ بی جے پی یکساں سول کوڈ نافذ کرنے، بنگلہ دیش سے مبینہ دراندازی روکنے، خواتین اور بے روزگار نوجوانوں کے لیے براہ راست امدادی اسکیمیں شروع کرنے، اور ریاستی ملازمین کے ڈی اے بقایا جات حل کرنے جیسے وعدوں پر زور دے رہی ہے۔

اس کے ساتھ ہی صنعت، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں، شمالی بنگال میں نئے شہر، دارجلنگ کے مسئلے پر سہ فریقی مذاکرات اور ثقافتی منصوبوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

لیکن انتخابی وعدوں کو انتظامی حقائق  میں تبدیل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ڈی اے بقایا جات اور فلاحی اسکیموں کا مالی بوجھ بھاری ہے۔ صنعتی سرمایہ کاری لانے کے لیے سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی اعتماد درکار ہوگا۔ دراندازی یا شناخت پر مبنی مسائل کو اگر جارحانہ انداز میں نافذ کیا گیا تو سماجی تناؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔

بنگال نے کیا کہا

یہ انتخاب صرف ترنمول کی ہار یا بی جے پی کی جیت نہیں ہے۔ یہ اس سیاسی دور کا خاتمہ ہے جس میں فلاحی اسکیمیں، کرشماتی قیادت اور تنظیمی کنٹرول طویل عرصے تک مؤثر ثابت ہوتے رہے۔

بنگال کے ووٹر نے اس بار تبدیلی کا انتخاب کیا ہے، لیکن یہ تبدیلی صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ جوابدہی کا مطالبہ بھی ہے۔ بی جے پی کے لیے یہ جیت جتنی بڑی حصولیابی ہے، یہ اتنا ہی بڑا امتحان بھی ہے۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Previous Post

Next Post

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...