بریلی میں امام توصیف رضا کی لاش ملنے کے ایک ہفتے بعد ان کی اہلیہ نے شکایت درج کرائی

AhmadJunaidJ&K News urduMay 5, 2026358 Views


بہار کے رہنے والے امام توصیف رضا کی لاش گزشتہ 27 اپریل کو یوپی کے بریلی کے قریب ایک گاؤں میں ریلوے ٹریک کے پاس ملی تھی۔ ان کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت سے پہلے کئی چوٹوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ پولیس نے ایک بیان میں ان کی موت کو حادثہ بتایا تھا، جس کے بعد اب ان کی اہلیہ نے ٹرین میں توصیف کے ساتھ مارپیٹ کا الزام لگاتے ہوئے باضابطہ شکایت درج کروائی ہے۔

تبسم خاتون ریلوے پولیس کو اپنی شکایت سپرد کرتے ہوئے۔ (تصویر: ارینجمنٹ)

نئی دہلی: اتر پردیش کے بریلی میں ریلوے ٹریک کے پاس امام توصیف رضا کی لاش ملنے کے ایک ہفتے بعد، ان کی اہلیہ تبسم خاتون نے سوموار (4 مئی) کو گورنمنٹ ریلوے پولیس میں باضابطہ شکایت درج کرائی ہے۔ اس میں الزام لگایا گیا کہ ٹرین کے ڈبے میں ساتھ سفر کرنے والے مسافروں نے امام کے ساتھ مارپیٹ کی اور انہیں باہر پھینک دیا۔

اس سلسلے میں پولیس نے اب نامعلوم افراد کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 103 کے تحت ایف آئی آر درج کی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ سوموار (4 مئی) کو امام توصیف رضا کی اہلیہ تبسم خاتون بہار سے اتر پردیش کے بریلی پہنچیں اور خاندان نے ٹرین میں امام کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے شکایت درج کرائی۔

معلوم ہو کہ امام توصیف کی لاش 27 اپریل کو بریلی کے پالپور کمال پور گاؤں میں ریلوے ٹریک کے پاس ملی تھی۔

دی وائر کی جانب سے دیکھی گئی دو صفحات پر مشتمل شکایت کی ایک کاپی، جو بریلی جنکشن میں واقع گورنمنٹ ریلوے پولیس (جی آر پی) کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر کے نام تھی، میں تبسم نے لکھا ہے،’مجھے پورا یقین ہے کہ میرے شوہر کا قتل ٹرین کے ڈبے کے اندر ساتھ سفر کرنے والے مسافروں کے ہاتھوں ہوا تھا۔ ان کے ساتھ مارپیٹ کی گئی اور پھر انہیں ٹرین سے باہر پھینک دیا گیا، تاکہ اس قتل کو ایک حادثے کا رنگ دیا جا سکے۔‘

انہوں نے 4 مئی کو پولیس کو دی گئی اپنی شکایت میں مزید لکھا،’میرے شوہر ہمارے خاندان کے واحد کمانے والے فردتھے، جو روزمرہ کے اخراجات کا خیال رکھتے تھے۔ چونکہ میرا آبائی گھر بہار میں ہے اور آخری رسومات کے باعث میں پہلے شکایت درج نہیں کرا سکی، لیکن اب انصاف کی خواہش رکھنے والی ایک فرد کے طور پر میں یہ شکایت درج کروا رہی ہوں۔‘

امام توصیف کی اہلیہ تبسم کی جانب سے دی گئی شکایت۔ (تصویر: اسپیشل ارینجمنٹ)

جیسا کہ پہلے دی وائر نے رپورٹ کیا تھا، توصیف کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت سے پہلے ان کے جسم پر کئی چوٹوں کا ذکر کیا گیا تھا، جس میں یہ تبصرہ بھی تھا کہ ان کی ’تمام پسلیاں ٹوٹی ہوئی تھیں۔‘

اس معاملے پر دی وائر سے بات کرتے ہوئے 1 مئی کو بہار کے کشن گنج ضلع کے بکھوٹولی گاؤں سے توصیف کے چھوٹے بھائی توحید رضا نے کہا تھا،’جس کسی نے بھی لاش دیکھی ہوگی، وہ یہی نتیجہ نکالے گا کہ ان کا قتل کیا گیا ہے۔‘

سوموار کو درج کی گئی شکایت کے ساتھ خاندان نے پولیس کو معاون ثبوت کے طور پر 29 سیکنڈ کی آڈیو کلپ، ایک ریلوے ٹکٹ اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کی ایک کاپی بھی جمع کرائی ہے۔

آڈیو کلپ- جو اس کیس میں ایک اہم ثبوت ہے – میں توصیف 26 اپریل کو رشی کیش سے مظفرپور جانے والی اسپیشل ٹرین میں سفر کے دوران تبسم سے بات کرتے ہوئے کہتے ہیں،’کچھ لوگ مجھےپیٹ رہے ہیں، براہ کرم شاہجہاں پور میں پولیس کو بلاؤ۔‘

شاہجہاں پور اس ٹرین کا اگلا اسٹیشن تھا جو بریلی سے تقریباً 80 کلومیٹر دور ہے۔

دی وائر سے بات کرتے ہوئے تبسم نے تصدیق کی کہ ان کی شکایت قبول کر لی گئی ہے اور انہیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اس پر’کارروائی کی جائے گی۔‘

تاہم، وہ خراب صحت کے باعث زیادہ بات نہیں کر سکیں۔ شکایت درج کرواتے وقت تبسم کے ساتھ ان کے رشتہ دار اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ممبر بھی موجود تھے۔

اس سلسلے میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے 30 اپریل کو مرکزی ریلوے وزیر اشونی ویشنو سے توصیف کی موت کی تحقیقات شروع کرنے کی درخواست کی تھی۔

مقامی صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اتر پردیش میں اے آئی ایم آئی ایم کے جنرل سیکریٹری ندیم قریشی نے کہا،ہم پولیس، انتظامیہ اور ریلوے وزیر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ایسے واقعات بند ہونے چاہیے۔ داڑھی والے اور ٹوپی پہننے والوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اور میں اتر پردیش حکومت کے ساتھ ساتھ مرکزی حکومت سے بھی مطالبہ کرتا ہوں کہ ماب لنچنگ پر نیا قانون لانے پر غور کرے۔‘

اس معاملے پر حال ہی میں کشن گنج میں ایک احتجاجی مارچ بھی نکالا گیا۔ وہیں، توصیف کا ایک پرانا ویڈیو بھی سامنے آیا ہے جس میں وہ مسلمانوں کی لنچنگ سے متعلق واقعات پر سیاسی خاموشی پر تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں بریلی پولیس نے 30 اپریل کو ایک بیان جاری کیا تھا کہ ’حددرجہ گرمی کے باعث، ٹرین کے دروازے کے قریب بیٹھے توصیف کو نیند آ گئی اور توازن بگڑنے کے بعد وہ گر گئے۔‘

بریلی کے پولیس سپرنٹنڈنٹ مانوش پاریکھ نے بعد میں دی وائر کو بتایا تھا کہ تحقیقات شروع کرنے کے لیے انہیں ایف آئی آر یا باقاعدہ شکایت کی ضرورت ہے۔

دریں اثنا، 5 مئی کو ایکس پر جاری ایک بیان میں بریلی پولیس نے کہا کہ اس واقعے کو پہلے ایک حادثہ مانا گیا تھا، اور اب خاندان کی شکایت کی بنیاد پر ایک ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔

سوموار کو تبسم کی جانب سے شکایت درج کرائے جانے کے بعد جی آر پی تھانے کے انچارج سشیل کمار ورما نے دی وائر سے کہا،’ہم نے نامعلوم افراد کے خلاف بھارتی نیائے سنہتا کی دفعہ 103 کے تحت قتل کا مقدمہ درج کیا ہے۔ اب ہم تحقیقات کریں گے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ 26 اپریل کی رات ٹرین کے اندر ہونے والے واقعہ کے عینی شاہدین یا ویڈیو ثبوت کے بغیر جانچ کیسے آگے بڑھے گی، تو ایس ایچ او ورما نے کہا،’یہ ایک غیر یقینی معاملہ ہے، لیکن اگر واقعی کوئی واقعہ پیش آیا ہے تو ہم کیس کو حل کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ‘

انگریزی میں پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔



0 Votes: 0 Upvotes, 0 Downvotes (0 Points)

Leave a reply

Previous Post

Next Post

Loading Next Post...
Search Trending
Popular Now
Loading

Signing-in 3 seconds...

Signing-up 3 seconds...